• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • قاتلوں کو سزادو

    برین نشاط میں احتجاجی مظاہرے
    سرینگر// فورسز کے ہاتھوں قتل کے گئے برین نشاط کے زاہد افاروق نامی طالب علم کے چہارم کے موقعہ پرآج علاقہ کے مردوزن نے برستی بارشوں اور برفباری کے بیچ زبردست احتجاجی مظاہرے کئے اور اسکے قاتلوں کو بے نقا ب کرکے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔اس دوران زاہد فاروق کے قتل کی تحقیقات شروع ہوگئی ہے اور اس سلسلے میں کئی چشم دید گواہوں نے اپنے بیانات قلمبند کروائے ہیں۔ذرائع کے مطابق مذکورہ طالب علم کے مقبرے اور آبائی گھر پر تعزیتی تقاریب کا سلسلہ آج دن بھرجاری رہا جس کے دوران حریت کانفرنس(ع) کے چیرمین میرواعظ عمر فاروق سمیت لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے مرحوم طالب علم کے حق میں اجتماعی فاتحہ خوانی میں شرکت کی تاہم پولیس نے ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے وفد کو نشاط جانے سے روک دیا۔ 5فروری جمعہ کو شہر کے برین نشاط علاقہ میں فورسز اہلکاروں نے بلا اشتعال گولی چلاکر 16سالہ طالب علم زہاد فاروق ولد فاروق احمد شاہ ساکن برین نشاط کو جاں بحق کردیا جس کے خلاف شہر میں پر تشدد احتجاجی کی لہر بھڑک اٹھی۔مذکورہ طالب علم کوفروری سنیچر کو اسکے آبائی مقبرے میں سپرد خاک کیا گیا اور آج اسکے چہارم کے سلسلے میں نماز فجر کے بعد ہی قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں اسکے رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے حصہ لیا۔زاہد کے گھر پر اُس وقت رقعت آمیز مناظر دیکھے گئے جب وہاں موجود لوگوںنے اشک بار آنکھوں سے اسے خراج عقیدت پیش کیا ۔اس دوران نیشنل فرنٹ کے ایک وفد نے آج نشاط جا کر زاہد فاروق کے لواحقین کی ڈھارس بندھائی ۔مرحوم کے چہارم کے سلسلے میں آج نماز فجر کے بعد اسکے آبائی مقبرہ پربھی اجتماعی فاتحہ خوانی کی تقریب منعقد ہوئی اور بعد میں پورا دن اسکے گھر پر تقریبات کاسلسلہ جاری رہا۔اس دوران زندگی کے مختلف طبقوں سے وابستہ لوگوں نے مرحوم طالب علم کے گھر جاکر فاتحہ خوانی اور قرآن خوانی کی مجالس میں حصہ لیا۔تعزیتی تقریبات شروع ہوتے ہی علاقہ کے مردوزن،بوڑھے اور بچے ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آئے اور اسلام و آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کے دوران ’’قاتلوں کو پیش کرو‘‘کے نعرے بھی لگائے گئے۔مظاہرے میں شامل لوگ زاہد فاروق کے قاتلوں کی نشاندہی عمل میں لاکر انکے خلاف کڑی سے کڑی کارروائی کرنے کا مطالبہ کررہے تھے اور اس موقعہ پر خواتین روتے بلکتے سینہ کوبی کررہی تھیں۔مظاہرین نے موسلادھار بارشوں اور برفباری کے باوجود ایک گھنٹے سے زائد عرصے تک احتجاج جاری رکھا جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی۔تاہم بعد میں مظاہرین پر امن طور منتشر ہوکر اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ زاہد فاروق کی ہلاکت کی تحقیقات کا باضابطہ آغاز ہوگیا ہے اور اس سلسلے میں کئی مقامی لوگوں اور عینی شاہدین نے اپنے بیانات قلمبند کروائے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں کئی چشم دید گواہوں نے ڈویژنل کمشنر کشمیر نسیمہ لنکر سے رابطہ قائم کرکے انہیں اہم جانکاری فراہم کی ہے۔تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ گواہوں نے اپنے بیانات میں کیا کچھ کہا ہے؟ذرائع کے مطابق کئی لوگوں نے اس حوالے سے تحریری بیانات بھی پیش کئے ہیں جن کی مدد سے تحقیقاتی کمیٹی کو کسی نتیجے پر پہنچنے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ڈویژنل کمشنر کشمیر کو اس معاملے کی تحقیقاتی رپورت سات دنوں کے اندر اندرپیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔دریں اثناء ڈیموکریٹک فرےڈم پارٹی کے ترجمان نے بتایا کہ پارٹی کے قائمقام چےرمےن مولانا محمد عبداللہ طاری کی قےادت مےں پارٹی کا اےک وفدآج صبح زاہد فاروق کے والد ےن سے اظہار تعزےت کر نے کےلئے برےن نشاط جا رہا تھا جسے چشمہ شاہی موڑپر پو لےس کی اےک بھاری جمعےت نے آ گے جا نے سے روک لےا ۔مولانا طاری نے کہا ےہ بات انتہائی تعجب خےز ہے کہ اےک طرف بھارت سرکار ُرکے پڑ ے مذاکرات کو دوبارہ شروع کر نے کی با تےں کر رہی ہے اوردوسری طرف کشمےر مےں کشمےر ےوں کے خلاف ظلم وتشدد کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہو رہا ہے ۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...