• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • برفباری سے شمالی کشمیر میںتباہی

    دوبنکر برفانی تودوں سے زمین بوس،دودرجن اہلکار دب گئے ،کئی کی حالت تشویشناک
    wسرینگر// شمالی کشمیر میں آج برفانی تودے کی زد میں آکر ایک فوجی اہلکار ہلاک جبکہ سی آر پی ایف اور بی ایس ایف کے دوبینکر زمین بوس ہوگئے جسکے نتیجے میں کم سے کم دو درجن اہلکار برف کے نیچے دب گئے جن میں سے کئی ایک کی حالت تشویشناک بنی ہوئی ہے۔اس دوران اوڑی میں آج لائن آف کنٹرول کے نزدیک چٹانیں کھسک گئیں جس کی زد میں ایک شہری اور0مویشی ہلاک جبکہ ایک فوجی اہلکار سمیت5 زخمی اور 5 رہائشی مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے جبکہ کپوارہ میں بھاری برفباری اور سڑک رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے 3 ماہ کا دولہا مریض اسپتال پہنچنے سے قبل ہی تڑپ تڑپ کر لقمہ اجل بن گیا۔
    ادھر اننت ناگ ، کولگام ،اچھہ بل ، ترال ، ہندوارہ ، کپوارہ میں برفانی طوفان کی وجہ سے درجنوں مکانات کی چھتیں اڑ گئےں،سینکڑوں درخت جڑ سے اکھڑ گئے جبکہ بھاری برفباری کی وجہ سے جنوبی اور شمالی کشمیر میں میوہ باغات کو زبردست نقصان پہنچا۔ا س دوران کھلن مرگ گلمرگ میں برفبانی تودے کی زد میں آنے والے اہلکاروں کی بچائو کارروائی کےلئے آپریشن ختم ہوگیا ہے جبکہ سرینگر جموں قومی شاہراہ آج بھی گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بند رہی اور موسم کی خرابی کے سبب سرینگر ائر پورٹ سے کوئی بھی پرواز اڑان نہیں بھر سکی۔ ادھربرف با ری کی وجہ سے شہر کے درجنوں علاقے پانی میں ڈوب گئے ہیںجبکہ چند ماہ قبل سڑکوں پر بچھایا گیا میکڈم اکھڑنے سے سڑکوں کی حالت انتہائی خستہ ہو گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق 8اور فروری کی درمیانی رات براری پورہ ہندوارہ میں اسوقت 125 بٹالین سی آر پی ایف سے وابستہ نصف درجن اہلکار برفانی تودے کی زد میں آگئے جب مذکورہ اہلکار براری پورہ میں قائم ریزروائز کی حفاظت کےلئے ڈیوٹی دے رہے تھے ۔ اطلاعات کے مطابق برف کا ایک بہت بڑا تودہ سی آر پی ایف کے بینکر پر آگرا جسکے نتیجے میں بینکر میں موجود 7 اہلکار زندہ دب گئے تاہم واقعے کی خبر ملتے ہی ضلع انتظامیہ ، فوج اور دیگر محکموں سے تعلق رکھنے والے بچائو کارروائی کی ٹیمیں وہاں پہنچ گئیں اور برفانی تودے کی زد میں آنے والے اہلکاروں کو باہر نکالنے کےلئے آپریشن شروع کیا۔ چنانچہ کئی گھنٹوں تک کافی جدوجہد کے بعد بینکر میں محصور اہلکاروں کو باہر نکالا گیا اور انہیں علاج ومعالجہ کی غرض سے ڈسٹرکٹ اسپتال ہندوارہ پہنچایا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ برفانی تودے کی زد میں آکر ساتوں اہلکاروں کو زبردست چوٹیں آئیں ہیں تاہم اسپتال میں ان کی جان بچانے کےلئے تمام تر وسائل کو برئوے کار لایا گیا ہے۔ زخمی اہلکاروں میں رام سرو میرا ، بی جے جسوال ، ایم آر ملک ، بی کے گوجری بھی شامل ہیں اور ان کی حالت نازک قرار دی جارہی ہے۔ ادھر سادھنا گلی کے دامن میں واقع فوج کی5فیلڈ ریجمنٹ سے وابستہ ’’زرلا ریکھا ٹو پوسٹ‘‘ایک بھاری برفانی تودے کی زد میں آ گئی ۔نمائندے کے مطابق برف کی مقدار اس قدر زےادہ تھی کہ فوج کے کئی بنکر مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور وہاں موجود 15اہلکار برف کے نےچے دب گئے ۔اسی دوران فوج کی04انفینٹری بریگےڈ سے وابستہ سینکڑوں اہلکاروں پر مشتمل امدادی ٹےم راتوں رات قرےب 20کلو میٹر کا سفر پیدل طے کرنے کے بعد جائے واردات پر پہنچ گئی اور بچائو کارروائی شروع کی ۔دفاعی ذرائع نے نمائندے کو بتاےا کہ ابتدائی کارروائی کے دوران ہی ایک اہلکار کو برف کے نےچے سے مردہ بر آمد کیا گےا جبکہ بچائو اہلکاروں نے 13مزید اہلکاروں کو زندہ نکالنے میں کامیابی حاصل کی اور انہیں فوری طور پر ٹنگڈار اسپتال میں داخل کیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت 75فیلڈ ریجمنٹ سے وابستہ صوبیدار ستےش رام ایک بنکر میں موجود تھا اور اس بنکر کے ملبے کا بھی ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے جس کے نتےجے میں اس بات کا امکان بڑھ گےا ہے کہ صوبیدار ستےش رام ہلاک ہو گےا ہے اور اسے تلاش کرنے کیلئے کارروائی جاری ہے جس کیلئے مزید فوجی اہلکار وہاں پہنچ گئے ہیں ۔زخمی اہلکاروں میں سے کئی ایک کی حالت ناز بتائی جا رہی ہے ۔ سادھنا ٹاپ کے علاقہ میں 12فٹ جبکہ فرکیاں گلی ،زیڈ گلی اور مژھل میں 8سے0فٹ برف ریکارڈ کی گئی ہے ۔ ادھر کھلن مرگ گلمرگ میں گزشتہ دو روز سے جاری آپریشن ختم کر لیا گیا ہے اور ان 2 اہلکاروں کو صحیح سلامت برف کے نیچے سے برآمدکرلیا گیا جو برفانی طوفان کی زد میں آکر لاپتہ ہوگئے تھے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز کھلن مرگ کے نزدیک برفانی طوفان کی زد میں آکر ’’ہائی ایٹی چوڈ وار فیر ‘‘اسکول میں زیر تربیت 72 فوجی اہلکار زندہ دب گئے تھے جسکے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل سمیت 17 اہلکار موقعہ پر ہی ہلاک ہوئے تھے جبکہ 40 اہلکاروں کو بچا لیا گیا اور کئی اہلکار برف کے نیچے لاپتہ ہوگئے تھے تاہم لاپتہ فوجی اہلکاروں کو بازیاب کرنے کےلئے انتظامیہ ،پویس اور فوج نے بڑے پیمانے پر بچائو کارروائیاں شروع کیں جو آج صبح تک جاری رہی۔ اطلاعات کے مطابق ان 2 اہلکاروں کو بھی بازیاب کیا گیا جو برفانی تودے کی زد میںآکر لاپتہ ہوگئے تھے تاہم فوری طور پر دونوں اہلکاروں کی شناخت ممکن نہ ہوسکی۔
    ذرائع کے مطابق اس دوران کپوارہ میں آج اسوقت صف ماتم بچھ گئی جب 3 ماہ کا دلہا مشتاق احمد میر ولد گلزار احمد ساکنہ سونر پورہ لون ہرئے نے سینے میں درد کی شدید شکایت کی جسکے بعد اس کے افراد خانہ نے اسے چارپائی پر بٹھا کر ضلع اسپتال کپوارہ پہنچانے کی کوشش کی ۔ تاہم نمائندے کے مطابق بھاری برفباری کی وجہ سے کپوارہ کے تمام سڑک رابطوں پر ٹریفک کی آمدورفت منقطع ہوگئی تھی جسکے نتیجے میں مذکورہ دلہا اسپتال پہنچنے سے قبل ہی لقمہ اجل بن گیا۔اس دوران  بھاری برفباری کی وجہ سے نوگام ہندوارہ میں دیودار کا ایک بہت بڑا درخت 26 بٹالین بی ایس ایف کے رہائشی کوارٹر پر جاگرا جسکے نتیجے میں بارک میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل دیوندر سنگھ ، کانسٹیبل سجاد علی اور کانسٹیبل اسلم الدین شدید زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر علاج و معالجہ کی غرض سے بی ایس ایف اسپتال نوگام منتقل کردیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر قرار دی جارہی ہے۔ ادھر لائن آف کنٹرول کے نزدیک اوڑی سیکٹر میں آج نورندی کے مقام پر اچانک چٹانیں کھسک گئیں جس کی زد میں آکر محمد یوسف کلی ولد عبدالسلام دین کے علاوہ دیگر شہریوں کے رہائشی مکانات آگئے۔ اطلاعات کے مطابق چٹانوں کی زد میں آکر محمدیوسف موقعہ پر ہی ہلاک ہوا اور اس کے 5 دیگر افراد خانہ زخمی ہوئے جبکہ رہائشی مکان مکمل طور پر تباہ ہوا۔ اس کے علاوہ چٹانوں کی زد میں 5 مزید رہائشی مکانات آگئے ہیں تاہم ضلع انتظامیہ نے گھروں میں محصور افراد خانہ کو باہر نکالنے کےلئے بچائو کارروائی شروع کردی ہے۔اس دوران موسلادھار بارشوں کی وجہ سے بالاکوٹ اوڑی میں پہاڑوں سے بڑے بڑے پتھر کھسک گئے جس کی زد میں آکر 5/5 گڑوال ریجمنٹ سے وابستہ اہلکار اور ایک عام شہری غلام قادر راتھر شدید زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر علاج و معالجہ کی غرض سے اسپتال پہنچایا گیا ۔ سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اوڑی منظور احمد قادری نے بتایا کہ چٹانوں کی زد میں 5 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں میں غلام محمد آہنگر نامی ایک اسکولی ٹیچر بھی ہے۔ اس دوران جنوبی کشمیر کے پہلگام ، گنیش بل کامڈ اننت ناگ ، گنڈ جعفر ، ترال کے علاہ درجنوں دیہات میں زبردست برفانی طوفان کی وجہ سے 30 سے زائد رہائشی مکانات کی چھتیں اڑ گیں ہیں اور سینکڑوں درخت جڑسے اکھڑ گئے ہیں جبکہ برفباری کی وجہ سے میوہ باغات کو بھی زبردست نقصان پہنچا ہے۔ اننت ناگ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ شب تیز ہوائیں چلنے کے نتیجے میں کامڈ میں عبدالسلام پرے ولد محمد احسن ، عابد میر اور سیف اللہ میر ولد محمد سبحان کے رہائشی مکانوں اور کوٹھہار کے چھت اڑ گئے جبکہ ہرد پورہ ڈورو شانگس اچھہ بل میں سینکڑوں کنال اراضی پر مشتمل میوہ باغات کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن مالکان باغات کو برفباری کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے ان میں حاجی ولی محمدخان ولد غلام حسن، علی محمد خان ، غلام حسن شیخ، ریاض احمد شیخ شامل ہیں جبکہ نثار احمد نجار ولد محمد یوسف ، سجاد حسن وانی ولد غلام محمد سمیت درجنوں شہریوں کے رہائشی مکانات کے چھت اڑ گئے ۔ نمائندے نے بتایا کہ پہلگام میں قائم جنگلات میں کمپارٹمنٹ نمبر 31,32,33,34 میں تیز ہوائیں اور موسلا دھار بارشوں اور برفباری کی وجہ سے درجنو ںدرخت جس میں دیودار کی ایک خاصی تعداد شامل ہےں جڑ سے اکھڑ گئے جبکہ کمپارٹمنٹ نمبر 45, 46,47,48 میں بھی درختوں کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ اس دوران ترال میں گزشتہ شب قریب ساڑھے دس بجے ترال پائین اور کنڈی علاقوں میں زبردست طوفان آیا جسکے نتیجے میں کئی رہائشی مکانوں کی چھتیں اڑگئیں جبکہ درجنوں درختوں کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی نوٹس میں لانے کے باوجود بھی ابھی تک کوئی بھی اہلکار حالات کا جائزہ لینے کےلئے ترال پہنچنے میں ناکام رہے جسکے نتیجے میں انتظامیہ کے تئیں لوگوں میں زبردست غم و غصہ پایا جارہا ہے۔ دریں اثناء مسلسل برفباری اور سڑک پر پھسلن کی وجہ سے سرینگر جموں شاہراہ آج بھی ٹریفک کی آمدورفت کےلئے بند رکھی گئی جسکے نتیجے میں 1100 سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں درماندہ ہوکر رہ گئیں ہیں جبکہ بعد دوپہر تک سرینگر ائیر پورٹ سے کوئی بھی پرواز اڑان نہ بھر سکی۔ دریں اثناء 3دنوں کی برفباری نے شہر سرینگر کے متعدد علاقوںمیں سڑکوں کو تباہ کردیا ہے اور شہر خاص کی اہم سڑکوں پر صرف چند ماہ قبل بچھایا گیا میکڈم اکھڑنا شروع ہوگیا ہے یہاں تک کہ بعض علاقوںمیں سڑکیں ناقابل آمدورفت بن گئی ہےں۔اس دوران شہر خاص کے نوا کدل، نواب بازار، سکہ ڈافر، بہوری کدل، صراف کدل، کادی کدل کے علاوہ سول لائینز علاقوں کے رامباغ ، مہجور نگر، راجباغ، کرسو، مگرمل باغ، جواہر نگر ، گوگجی باغ، تلسی باغ اور آلوچہ باغ سمیت درجنوں علاقوںکی سڑکوں اور شہر کے اہم بازاروں میں پانی کی بھاری مقدار جمع ہوگئی ہے اور بیشتر نالیاں گندگی اور غلاظت کی وجہ سے بند ہوگئی ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجہ میں شہر کا ڈرنیج سسٹم مکمل طور پر غیر موثر ثابت ہوا ہے کیونکہ سڑکوں اور بازاروں میں جمع پانی کی سطح میں بدستور اضافہ ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ پائین شہر کے گلی کوچے بھی پانی میں ڈوب گئے ہیں جس کے نتیجہ میں ہزاروں نفوس پر مشتمل کئی بستیوں کے لوگ شدید ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہو گئے ہیں کیونکہ انہیں جوتے ہاتھوںمیں اٹھا کر گھروں کے اندر یا باہر جانا پڑتا ہے۔نمائندے نے شہر خاص کے متعدد علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ اندرون شہر کے گلی کوچوں میں برف باری اور پانی جمع ہونے سے لوگوں کی نقل و حرکت ناممکن بن کے رہ گئی ہے اور کئی جگہوں پر گلی کوچوں کی ٹائلوں اور چھوٹی بڑی نالیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ادھر رام بن اور بانہال کے درمیانی حصے میں ڈگڈول ،پنتھال ،سیری اور شیطانی نالہ سمےت قرےب نصف درجن مقامات پر ہلکی پسےاں اور چٹانیں کھسکنے کا عمل جاری ہے جس کے نتےجے میں شاہراہ پر ہر طرح کی گاڑےوں کی نقل و حرکت آج چوتھے روز بھی مکمل طور پر بند رہی ۔ایس ایس پی نیشنل ہائی وے آلوک کمار کے مطابق ان تمام جگہوں پر پتھر کھسکنے کی وجہ سے کوئی حادثہ پیش آ سکتا ہے جبکہ جواہر ٹنل کے دونوں طرف بھی پھسلن موجود ہے جس کے باعث گاڑےوں کو سرینگر کی طرف نہیںچھوڑا جا رہا ہے ۔تاہم انہوں نے کہا کہ بیکن کا عملہ پسےاں اور چٹانیں ہٹانے کی کارروائی میں مصروف ہے اور شاہراہ کا کھلنا موسمی حالات پر منحصر ہو گا ۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...