• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • سونہ وارچلوپروگرام کے خلاف کرفیوکانفاذ

    ع حریت کے درجنوں کارکن گرفتار، زاہد کے قتل کی تحقیقات کاآغاز
    سرینگر// انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور د و نوجوانوں کی پے در پے ہلاکتوں کیخلاف حریت کانفرنس (ع) کے اقوام متحدہ کے دفتر واقع سونہ وار کی طرف مارچ کے پروگرام کو ناکام بنانے کیلئے شہر سرینگر میں آج غیر اعلانیہ کرفیو نافذ رہا جبکہ میر واعظ عمرفاروق سمیت نصف درجن حریت لیڈران کو نظر بند کرنے کے علاوہ حریت کی سیکنڈ لائن لیڈر شپ کو درجنوں کارکنوں کے ہمراہ گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب جانے والے تمام راستوں کو سیل کردیا گیا تھا تاہم آج بھی شہر میں مکمل ہڑتال اور غیر اعلانیہ کرفیو سے ہوکا عالم رہا ۔ اس دوران وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ دہلی سے براہ راست سرینگر پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے صورتحال کا جائزہ لیا جبکہ ڈویژنل کمشنر کشمیر نے زاہد فاروق کی باضابطہ ہلاکت کی تحقیقات شروع کی ہے جبکہ ریاستی حکومت نے مرکزی وزارت داخلہ سے کہا ہے کہ وہ زاہد فاروق کی ہلاکت کے سلسلے میں تحقیقات کے دوران ہونے والی ممکنہ شناختی پریڈ کے حوالے سے بی ایس ایف کو حکومت کیساتھ تعاون کرنے کی ہدایت جاری کردیں۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق حریت کانفرنس (ع) کے چیئر مین میر واعظ عمر فاروق نے وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور رعناواری و برین نشاط میں ہوئی ہلاکتوں کیخلاف بطور احتجاج آج اقوام متحدہ کے دفتر واقع سونہ وار کی جانب مارچ کرنے کا پروگرام دیا تھا۔ چنانچہ اس پروگرام کو ناکام بنانے کیلئے ڈویژنل انتظامیہ نے امتناعی احکامات کے تحت آج شہر سرینگر میں دفعہ 144 کیساتھ ساتھ غیر اعلانیہ کرفیو بھی نافذ کردیا کیونکہ انتظامیہ اور پولیس کو خدشہ تھا کہ آج کے اس پروگرام کے نتیجے میں حالات مزید بگڑ سکتے ہیں ۔ چنانچہ اس پروگرام کو ناکام بنانے کے حوالے سے پولیس نے تین روز قبل ہی حریت کانفرنس کی سیکنڈ لائن لیڈرشپ کو گرفتار کر لیا جس میں شبیر احمد شاہ اور نعیم احمد خان شامل ہیں جبکہ خود میر واعظ عمر فاروق، بلال غنی لون ، مولانا عباس انصاری، آغا سید حسین سمیت ایک درجن حریت لیڈران اوردرجنوں حریت کارکنوں کو گھروں میں نظر بند کردیا گیا۔ اس دوران مسرور عباس انصاری کو مرگنڈ کے قریب پولیس نے اسوقت گرفتار کر لیا جب وہ اس پروگرام کے تحت ایک جلوس نکالنے کی کوشش کررہے تھے۔ اس دوران پچھلے دوروز سے ہی شہر سرینگر کے ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران 50 سے زائد حریت کارکنوں اور پائین شہر میں 100 کے قریب سنگبازوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ تاہم غیر اعلانیہ کرفیو کے نتیجے میں آج پائین شہر کیساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے دفتر واقع سونہ وار کی جانب جانے والے تمام راستوں کو سیل کردیا گیا تھا ۔ لالچوک میں کڑی سیکورٹی انتظامات کیساتھ ساتھ ریڈیو کشمیر کے نزدیک ہی خار دار تار بچھا دی گئی تھی جبکہ سونہ وار کے راستوں پر بھی جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھی۔ تاہم آج آٹھویں روز بھی ناکہ بندی اور کڑے حفاظتی حسار کیساتھ ساتھ مکمل ہڑتال رہی جسکے نتیجے میں دکانیں اور کاروباری ادارے مکمل طور پر بند رہے جبکہ پورے شہر سرینگر میں دن میں سناٹا چھایا تھا ہر طرف جیسے الو بول رہے تھے۔ متعدد مقامات سے لوگوں نے بتایا کہ سخت ترین ناکہ بندیوں کی وجہ سے اور مسلسل ہڑتال کے نتیجے میں انہیں بحرانی صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ اشیائے خوردنی کے علاوہ اشیائے ضروریہ کی عدم فراہمی نے انہیں طرح طرح کے مشکلات میں ڈالدیا ہے۔ اس کے علاوہ جگہ جگہ پر ناکہ بندی کے باعث ان کیلئے عبور و مرور انتہائی مشکل ہے جبکہ شہر سرینگر میں سخت ترین ناکہ بندی کے باعث ٹیوشن سینٹروں پر جانے والے طلباء بھی گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں اور اس طرح سے تعلیم و تربیت پر بھی برااثر پڑرہا ہے اور بچوں کا مستقبل ڈاما ڈول بن چکا ہے۔ چنانچہ پورے شہر میں قائم اسپتالوں میں ضروری ادویات کی کمی پیدا ہونے لگی ہے جبکہ دور دراز کے مریضوں کو گھر پہنچنے میں بھی تکالیف کا سامنا ہے وہیں رشتہ دار بھی مریضوں تک پہنچنے سے قاصر ہیں جبکہ اشیائے ضروریہ کی عدم فراہمی اور ذخیرہ اندوزوں نے صارفین کو انتہائی پریشان کن صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ8 روز کی مسلسل ہڑتال ، کاروبار ٹھپ رہنے سے دکانداروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے تاہم وامق فاروق اور زاہد فاروق کی ہلاکتوں کیخلاف عوام میں پائے جارہے غم و غصے کو دیکھتے ہوئے امکانی مظاہروں اور سنگبازی کو روکنے کیلئے سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں جسکے تحت پائین شہر کے علاوہ مائسمہ اور بٹہ مالو میں بھی حالات کو قابو میں رکھنے کیلئے ہزاروں فورسز اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا ہے اور انہیں کسی بھی گڑ بڑ سے نمٹنے کیلئے تیاری کی حالت میں رکھا گیا ہے۔ پولیس ذرائع نے کے این ایس کو بتایا کہ یہ احکامات امتناعی صورتحال کے پیش نظر صادر کئے جاتے ہیں تاکہ انسانی جانوں کا زیاں نہ ہو اور لوگوں کے جان و مال کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ صورتحال پر نگاہ رکھنے کیلئے ڈویژنل انتظامیہ نے کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں جبکہ برین نشاط کے زاہد فاروق کی ہلاکت کی تحقیقات کی باضابطہ طور پر شروعات کی گئی ہے اور ڈویژنل کمشنر کشمیر نے اس حوالے سے تمام ایجنسیوں کو فوری طور پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے جبکہ ریاستی حکومت نے مرکزی وزارت داخلہ سے کہا ہے کہ وہ زاہد فاروق کی ہلاکت کے سلسلے میں تحقیقات کے دوران ہونے والی ممکنہ شناختی پریڈ کے حوالے سے بی ایس ایف کو حکومت کیساتھ تعاون کرنے کی ہدایت جاری کردیں۔

    سونہ وارچلوپروگرام کے خلاف کرفیوکانفاذ ع حریت کے درجنوں کارکن گرفتار، زاہد کے قتل کی تحقیقات کاآغازسرینگر/8فروری /کے این ایس/ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور د و نوجوانوں کی پے در پے ہلاکتوں کیخلاف حریت کانفرنس (ع) کے اقوام متحدہ کے دفتر واقع سونہ وار کی طرف مارچ کے پروگرام کو ناکام بنانے کیلئے شہر سرینگر میں آج غیر اعلانیہ کرفیو نافذ رہا جبکہ میر واعظ عمرفاروق سمیت نصف درجن حریت لیڈران کو نظر بند کرنے کے علاوہ حریت کی سیکنڈ لائن لیڈر شپ کو درجنوں کارکنوں کے ہمراہ گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب جانے والے تمام راستوں کو سیل کردیا گیا تھا تاہم آج بھی شہر میں مکمل ہڑتال اور غیر اعلانیہ کرفیو سے ہوکا عالم رہا ۔ اس دوران وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ دہلی سے براہ راست سرینگر پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے صورتحال کا جائزہ لیا جبکہ ڈویژنل کمشنر کشمیر نے زاہد فاروق کی باضابطہ ہلاکت کی تحقیقات شروع کی ہے جبکہ ریاستی حکومت نے مرکزی وزارت داخلہ سے کہا ہے کہ وہ زاہد فاروق کی ہلاکت کے سلسلے میں تحقیقات کے دوران ہونے والی ممکنہ شناختی پریڈ کے حوالے سے بی ایس ایف کو حکومت کیساتھ تعاون کرنے کی ہدایت جاری کردیں۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق حریت کانفرنس (ع) کے چیئر مین میر واعظ عمر فاروق نے وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور رعناواری و برین نشاط میں ہوئی ہلاکتوں کیخلاف بطور احتجاج آج اقوام متحدہ کے دفتر واقع سونہ وار کی جانب مارچ کرنے کا پروگرام دیا تھا۔ چنانچہ اس پروگرام کو ناکام بنانے کیلئے ڈویژنل انتظامیہ نے امتناعی احکامات کے تحت آج شہر سرینگر میں دفعہ 144 کیساتھ ساتھ غیر اعلانیہ کرفیو بھی نافذ کردیا کیونکہ انتظامیہ اور پولیس کو خدشہ تھا کہ آج کے اس پروگرام کے نتیجے میں حالات مزید بگڑ سکتے ہیں ۔ چنانچہ اس پروگرام کو ناکام بنانے کے حوالے سے پولیس نے تین روز قبل ہی حریت کانفرنس کی سیکنڈ لائن لیڈرشپ کو گرفتار کر لیا جس میں شبیر احمد شاہ اور نعیم احمد خان شامل ہیں جبکہ خود میر واعظ عمر فاروق، بلال غنی لون ، مولانا عباس انصاری، آغا سید حسین سمیت ایک درجن حریت لیڈران اوردرجنوں حریت کارکنوں کو گھروں میں نظر بند کردیا گیا۔ اس دوران مسرور عباس انصاری کو مرگنڈ کے قریب پولیس نے اسوقت گرفتار کر لیا جب وہ اس پروگرام کے تحت ایک جلوس نکالنے کی کوشش کررہے تھے۔ اس دوران پچھلے دوروز سے ہی شہر سرینگر کے ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران 50 سے زائد حریت کارکنوں اور پائین شہر میں 100 کے قریب سنگبازوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ تاہم غیر اعلانیہ کرفیو کے نتیجے میں آج پائین شہر کیساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے دفتر واقع سونہ وار کی جانب جانے والے تمام راستوں کو سیل کردیا گیا تھا ۔ لالچوک میں کڑی سیکورٹی انتظامات کیساتھ ساتھ ریڈیو کشمیر کے نزدیک ہی خار دار تار بچھا دی گئی تھی جبکہ سونہ وار کے راستوں پر بھی جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھی۔ تاہم آج آٹھویں روز بھی ناکہ بندی اور کڑے حفاظتی حسار کیساتھ ساتھ مکمل ہڑتال رہی جسکے نتیجے میں دکانیں اور کاروباری ادارے مکمل طور پر بند رہے جبکہ پورے شہر سرینگر میں دن میں سناٹا چھایا تھا ہر طرف جیسے الو بول رہے تھے۔ متعدد مقامات سے لوگوں نے بتایا کہ سخت ترین ناکہ بندیوں کی وجہ سے اور مسلسل ہڑتال کے نتیجے میں انہیں بحرانی صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ اشیائے خوردنی کے علاوہ اشیائے ضروریہ کی عدم فراہمی نے انہیں طرح طرح کے مشکلات میں ڈالدیا ہے۔ اس کے علاوہ جگہ جگہ پر ناکہ بندی کے باعث ان کیلئے عبور و مرور انتہائی مشکل ہے جبکہ شہر سرینگر میں سخت ترین ناکہ بندی کے باعث ٹیوشن سینٹروں پر جانے والے طلباء بھی گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں اور اس طرح سے تعلیم و تربیت پر بھی برااثر پڑرہا ہے اور بچوں کا مستقبل ڈاما ڈول بن چکا ہے۔ چنانچہ پورے شہر میں قائم اسپتالوں میں ضروری ادویات کی کمی پیدا ہونے لگی ہے جبکہ دور دراز کے مریضوں کو گھر پہنچنے میں بھی تکالیف کا سامنا ہے وہیں رشتہ دار بھی مریضوں تک پہنچنے سے قاصر ہیں جبکہ اشیائے ضروریہ کی عدم فراہمی اور ذخیرہ اندوزوں نے صارفین کو انتہائی پریشان کن صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ8 روز کی مسلسل ہڑتال ، کاروبار ٹھپ رہنے سے دکانداروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے تاہم وامق فاروق اور زاہد فاروق کی ہلاکتوں کیخلاف عوام میں پائے جارہے غم و غصے کو دیکھتے ہوئے امکانی مظاہروں اور سنگبازی کو روکنے کیلئے سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں جسکے تحت پائین شہر کے علاوہ مائسمہ اور بٹہ مالو میں بھی حالات کو قابو میں رکھنے کیلئے ہزاروں فورسز اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا ہے اور انہیں کسی بھی گڑ بڑ سے نمٹنے کیلئے تیاری کی حالت میں رکھا گیا ہے۔ پولیس ذرائع نے کے این ایس کو بتایا کہ یہ احکامات امتناعی صورتحال کے پیش نظر صادر کئے جاتے ہیں تاکہ انسانی جانوں کا زیاں نہ ہو اور لوگوں کے جان و مال کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ صورتحال پر نگاہ رکھنے کیلئے ڈویژنل انتظامیہ نے کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں جبکہ برین نشاط کے زاہد فاروق کی ہلاکت کی تحقیقات کی باضابطہ طور پر شروعات کی گئی ہے اور ڈویژنل کمشنر کشمیر نے اس حوالے سے تمام ایجنسیوں کو فوری طور پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے جبکہ ریاستی حکومت نے مرکزی وزارت داخلہ سے کہا ہے کہ وہ زاہد فاروق کی ہلاکت کے سلسلے میں تحقیقات کے دوران ہونے والی ممکنہ شناختی پریڈ کے حوالے سے بی ایس ایف کو حکومت کیساتھ تعاون کرنے کی ہدایت جاری کردیں۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...