• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • مرکز سے فریاد کرنا ناکامی کی علامت :محبوبہ مفتی

    سرینگر/8فروری /کے این ایس/ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے زاہد فاروق کی ہلاکت میں ملوث اہلکاروں کی نشاندہی کیلئے مرکزی سرکار سے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی فریادکو ریاستی حکومت کی ناکامی سے تعبیر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ لوگوں کے اعتماد کو بحال کرنے کیلئے آبادی والے علاقوں سے فورسز کی تعداد میں کمی کرنے کیساتھ ساتھ فورسز کو حاصل خصوصی اختیارات چھین لئے جائیں۔محبوبہ مفتی نے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی طرف سے زاہد فاروق کی ہلاکت میں ملوث اہلکاروں کی نشاندہی کیلئے مرکزی سرکار سے مدد طلب کرنے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ عمر عبداللہ کی فریاد سے اب یہ بات صاف ہوچکی ہے کہ ریاستی سرکار مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے ‘‘ ۔انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی سرکار شوپیاں سانحہ کی طرز پر معصوم نوجوانوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کا ڈنڈورا پیٹ کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن و قانون کے انچارج اور لوگوں کے جان و مال کی محافظ کی حیثیت سے ریاستی سرکار پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کی توقعات پر کھرا اترے اور ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائیں۔ محبوبہ مفتی نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ابھی شوپیاں سانحہ کیساتھ ساتھ معصوم نوجوانوں جس میں عنایت اللہ خان اور وامق فاروق کی بیہامہ ہلاکتوں کے زخم تازہ ہیں کہ ریاستی سرکار نے محض برین نشاط میں فورسز کے ہاتھوں ایک طالبعلم زاہد فاوق کی ہلاکت کا معاملہ دلی کے ایوانوں میں پیش کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت نے ریاست بالخصوص سرینگر کے لوگوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آئے روز شہر سرینگر میں معصوم نوجوانوں کو جرم بے گناہی کی پاداش میں قتل کیا جارہا ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ سرینگر سے تعلق رکھنے والے ’’ نام نہاد ‘‘ عوامی نمائندہ اپنے آقائوں کو خوش کرنے کیلئے گمراہ کن بیانات دے رہے ہیں جو کہ زمینی صورتحال سے میل نہیں کھاتا۔ انہوں نے کہا کہ سیول انتظامیہ کا کام محض ناکہ بندیوں اور کرفیو تک ہی محدود رہ گیا ہے جبکہ لوگوں کو درپیش مسائل کا ازالہ کرنے اور انہیں بہتر انتظامیہ فراہم کرنے کے علاوہ دیگر معاملات میں سیول انتظامیہ مناسب اقدامات اٹھانے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر شہر کو جیل خانے میں تبدیل کیا گیا ہے اورلوگ غذائی اجناس ، ادویات کیساتھ ساتھ اشیاء ضروریہ کیلئے ترس رہے ہیں جبکہ صورتحال کا درد ناک پہلو یہ ہے کہ نوزائد بچوں کیلئے دودھ بھی میسر نہیں ہے۔ بیان کے مطابق محبوبہ مفتی نے کہا کہ برسراقتدار جماعت نیشنل کانفرنس نے سرینگر کے عوام کو ہمیشہ در در کی ٹھوکریں کھانے کیلئے مجبور کیا ہے جبکہ اس جماعت سے تعلق رکھنے والے سیاسی لیڈر جذباتی نعرے دیکر لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں۔  انہوں نے خبردار کیا کہ لوگوں کا استحصال زیادہ دیر تک چلنے والا نہیں اور محبوبہ مفتی کے بقول جس طرح اس جماعت سے وابستہ لیڈران کو برین نشاط میں لوگوں کی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اسی طرح اگر نوجوانوں کا قتل عام بند کرنے کیلئے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ زاہد فاروق کی ہلاکت میںملوث قاتلوں کو سزا سنانے کا اعلان اسی طرح ایک شوشہ ہے جس طرح محبوبہ مفتی کے بقول حکومت نے سانحہ شوپیاں میں ملوث افراد کو 48 گھنٹوں کے اندر بے نقاب کرنے اور انہیںکیفر کردار تک پہنچانے کا اعلان کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نہ مرکز موجودہ صورتحال اور کشمیر پالیسی پر جائزہ نہیں لیتی تب تک لوگوں کے جذبات مجروح رہیں گے۔ لوگوں کے اعتماد کو بحال کرنے کیلئے آبادی والے علاقوں سے فورسز کی تعداد میں کمی اور انہیں خصوصی اختیارات واپس لینے کی وکالت کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ فورسز بے لگام ہوچکی ہے اور انسانی حقوق پامالیوں میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ابھی بھی اس تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے منتظر ہے جس سے حکومت نے بمئی، شوپیاں ، کھئی گام کے علاوہ دیگر علاقوں میں فورسز کے ہاتھوں ہوئی ہلاکتوں کی اصل صورتحال جاننے کیلئے تشکیل دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مخلوط سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ حالات کا جائزہ لیکر موجودہ صورتحال کو قابو میں کرنے کیلئے مناسب اقدامات اٹھائیں۔

    مرکز سے فریاد کرنا ناکامی کی علامت :محبوبہ مفتی شہرقید خانے میں تبدیل ، انتظامیہ کرفیوکے نفاذ پر معمورسرینگر/8فروری /کے این ایس/ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے زاہد فاروق کی ہلاکت میں ملوث اہلکاروں کی نشاندہی کیلئے مرکزی سرکار سے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی فریادکو ریاستی حکومت کی ناکامی سے تعبیر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ لوگوں کے اعتماد کو بحال کرنے کیلئے آبادی والے علاقوں سے فورسز کی تعداد میں کمی کرنے کیساتھ ساتھ فورسز کو حاصل خصوصی اختیارات چھین لئے جائیں۔محبوبہ مفتی نے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی طرف سے زاہد فاروق کی ہلاکت میں ملوث اہلکاروں کی نشاندہی کیلئے مرکزی سرکار سے مدد طلب کرنے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ عمر عبداللہ کی فریاد سے اب یہ بات صاف ہوچکی ہے کہ ریاستی سرکار مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے ‘‘ ۔انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی سرکار شوپیاں سانحہ کی طرز پر معصوم نوجوانوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کا ڈنڈورا پیٹ کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن و قانون کے انچارج اور لوگوں کے جان و مال کی محافظ کی حیثیت سے ریاستی سرکار پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کی توقعات پر کھرا اترے اور ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائیں۔ محبوبہ مفتی نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ابھی شوپیاں سانحہ کیساتھ ساتھ معصوم نوجوانوں جس میں عنایت اللہ خان اور وامق فاروق کی بیہامہ ہلاکتوں کے زخم تازہ ہیں کہ ریاستی سرکار نے محض برین نشاط میں فورسز کے ہاتھوں ایک طالبعلم زاہد فاوق کی ہلاکت کا معاملہ دلی کے ایوانوں میں پیش کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت نے ریاست بالخصوص سرینگر کے لوگوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آئے روز شہر سرینگر میں معصوم نوجوانوں کو جرم بے گناہی کی پاداش میں قتل کیا جارہا ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ سرینگر سے تعلق رکھنے والے ’’ نام نہاد ‘‘ عوامی نمائندہ اپنے آقائوں کو خوش کرنے کیلئے گمراہ کن بیانات دے رہے ہیں جو کہ زمینی صورتحال سے میل نہیں کھاتا۔ انہوں نے کہا کہ سیول انتظامیہ کا کام محض ناکہ بندیوں اور کرفیو تک ہی محدود رہ گیا ہے جبکہ لوگوں کو درپیش مسائل کا ازالہ کرنے اور انہیں بہتر انتظامیہ فراہم کرنے کے علاوہ دیگر معاملات میں سیول انتظامیہ مناسب اقدامات اٹھانے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر شہر کو جیل خانے میں تبدیل کیا گیا ہے اورلوگ غذائی اجناس ، ادویات کیساتھ ساتھ اشیاء ضروریہ کیلئے ترس رہے ہیں جبکہ صورتحال کا درد ناک پہلو یہ ہے کہ نوزائد بچوں کیلئے دودھ بھی میسر نہیں ہے۔ بیان کے مطابق محبوبہ مفتی نے کہا کہ برسراقتدار جماعت نیشنل کانفرنس نے سرینگر کے عوام کو ہمیشہ در در کی ٹھوکریں کھانے کیلئے مجبور کیا ہے جبکہ اس جماعت سے تعلق رکھنے والے سیاسی لیڈر جذباتی نعرے دیکر لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں۔  انہوں نے خبردار کیا کہ لوگوں کا استحصال زیادہ دیر تک چلنے والا نہیں اور محبوبہ مفتی کے بقول جس طرح اس جماعت سے وابستہ لیڈران کو برین نشاط میں لوگوں کی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اسی طرح اگر نوجوانوں کا قتل عام بند کرنے کیلئے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ زاہد فاروق کی ہلاکت میںملوث قاتلوں کو سزا سنانے کا اعلان اسی طرح ایک شوشہ ہے جس طرح محبوبہ مفتی کے بقول حکومت نے سانحہ شوپیاں میں ملوث افراد کو 48 گھنٹوں کے اندر بے نقاب کرنے اور انہیںکیفر کردار تک پہنچانے کا اعلان کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نہ مرکز موجودہ صورتحال اور کشمیر پالیسی پر جائزہ نہیں لیتی تب تک لوگوں کے جذبات مجروح رہیں گے۔ لوگوں کے اعتماد کو بحال کرنے کیلئے آبادی والے علاقوں سے فورسز کی تعداد میں کمی اور انہیں خصوصی اختیارات واپس لینے کی وکالت کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ فورسز بے لگام ہوچکی ہے اور انسانی حقوق پامالیوں میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ابھی بھی اس تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے منتظر ہے جس سے حکومت نے بمئی، شوپیاں ، کھئی گام کے علاوہ دیگر علاقوں میں فورسز کے ہاتھوں ہوئی ہلاکتوں کی اصل صورتحال جاننے کیلئے تشکیل دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مخلوط سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ حالات کا جائزہ لیکر موجودہ صورتحال کو قابو میں کرنے کیلئے مناسب اقدامات اٹھائیں۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...