• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • گلمرگ میںبرفانی طوفان،22اہلکارہلاک

    10

    برفانی توسے کا ایک منظر

    لاپتہ 40کوزندہ بچالیا گیا ،15کی حالت تشویشناک

    سرینگر// کھلن مرگ گلمرگ میں قیامت خیز برفانی طوفان میںپھنسے350فوجی اہلکار وں میں سے قریب100اہلکار بھاری برفانی تودوں کی زد میں آکر زندہ دب گئے جس کے نتیجے میں فوج کے ایک لیفٹنٹ سمیت 22اہلکار ہلاک ،33زخمی اور10اہلکار لا پتہ ہو گئے ہیں ۔زخمیوں میں سے 15اہلکاروں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے اور جائے واردات پر بچائو کارروائیوں کیلئے فوجی ہیلی کاپٹروں اور کھوجی کتوں کو کام پر لگایا گیا ہے جبکہ فوج ،انتظامیہ و پولیس کے اعلیٰ افسران ان کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں ۔یہ فروری 2005ء میںوالٹینگوناڑ قاضی گنڈ میں آئے ہلاکت خیز برفانی طوفان کے بعداپنی نوعیت کا پہلا طوفان ہے ۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ بھاری برفباری کی زد میں آنے والے وادی کے بالائی علاقوں میں اس طرح کے مزید واقعات پیش آ سکتے ہیں۔خبر رساں ایجنسی کشمیر میڈیا نیٹ ورک نے جو تفصیلات فراہم کی ہیں ،ان کے مطابق یہ واقعہ سوموار کی صبح ساڑھے10بجے اُس وقت پیش آیا جب گلمرگ میں قائم ’’ہائی آلٹی چیوڈ وارفیئرآرمی اسکول‘‘(HAWAS)سے وابستہ قریب 350اہلکارمعمول کے مطابق تربیت حاصل کر رہے تھے ۔نمائندے کے مطابق اسکول کی طرف سے کھلن مرگ گلمرگ کے گوجر ہکڑ پتھری علاقہ میں ایک کیمپ قائم کیا گیا تھا جس میں مقیم اہلکاروں کو بالائی علاقوں میں بچائو ،امدادی اور دیگر فوجی کارروائیاں عمل میں لانے کی تربیت فراہم کی جاتی ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ فوجی اہلکاروں کیلئے خصوصی تربیتی کورس کا اہتمام ہر سال برفباری ہونے کے بعد کیا جاتا ہے اور جس جگہ یہ برفانی طوفان آیا ،وہاں پہلے کبھی بھی برفانی تودے نہیںگرے ہیں ۔چنانچہ آج صبح یہ تمام اہلکار تربیت کی غرض سے ہکڑ پتھری پہنچے ہی تھے کہ اور اس موقعہ پر زبردست برفباری ہو رہی تھی ۔عینی شاہدین کے مطابق اس دوران پہلے خوفناک آوازوں کے ساتھ طوفانی ہوائیں چلنے لگیں اور بعد میں اس قدر بھاری برفباری کا سلسلہ شروع ہواکہ وہاں مکمل طور پر اندھیرا چھا گیا اور اسی اثناء میں بیک وقت کئی بھاری برفانی تودے گر آئے ۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق فوجی اہلکار ٹکڑیوں کی شکل میں جا رہے تھے اور برفانی تودوں کی زد میں آکر کئی ٹکڑیوں میں شامل کم و بیش100اہلکار برف کی بھاری مقدار کے نیچے زندہ دب گئے تاہم بیشتر اہلکار کافی جدوجہد کے بعد از خود برف سے باہر آنے میں کامیاب ہوئے ۔اس موقعہ پر اندھیرا کم ہوتے ہی وہاں موجود دیگر اہلکاروں نے اپنے ساتھیوں کو برف سے باہر نکالنے کی کارروائی شروع کی لیکن مسلسل اور بھاری برفباری کی وجہ سے اس کارروائی میں زبردست رکائوٹیں پیدا ہوئیں ۔ذرائع سے معلوم ہوا کہ برفانی تودوں میں دبنے والے 100اہلکاروں میں سے قریب40اہلکاروں کو ابتدائی کارروائی کے دوران ہی زندہ بر آمد کیا گیا جبکہ 33اہلکار وں کوشدید زخمی حالت میں برف سے باہر نکالا گیا ۔واقعہ کی خبر ملتے ہی پولیس ،فوج اور محکمہ سیاحت کی بچائوٹیمیں کھلن مرگ کی طرف روانہ کی گئیں اور آخری اطلاع ملنے تک برف سے 20اہلکاروں کی لاشیں بر آمد کی گئی تھیں جن میں HAWASسے وابستہ لیفٹنٹ پرتیک بھی شامل ہیں ۔واقعہ کے بعد 10اہلکار لا پتہ بتائے جا رہے ہیں جن کی تلاش بڑے پیمانے پر جاری ہے ۔زخمی اہلکاروں کو گلمرگ کے مقامی اور فوجی اسپتال میں داخل کر دیا گیا جہاں سے قریب15اہلکاروں کو تشویشناک حالت میں فوج کے بادامی باغ اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا ۔تاہم فوج کے ترجمان کرنل جے ایس برار نے بتایا کہ اس واقعہ میں ایک آفیسر سمیت14جوان ہلاک اور17معمولی طور پر زخمی ہوئے ہیں جبکہ2اہلکار ہنوز لا پتہ ہیں ۔واقعہ کے بعد سیاحت کے وزیر مملکت ناصر اسلم وانی ،ڈی آئی جی شمالی کشمیر عبدالقیوم منہاس اور ڈپٹی کمشنربارہمولہ بشیر احمد بٹ کے علاوہ فوج ،پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران گلمرگ پہنچے اور بچائو کارروائیوں کا جائزہ لیا ۔اس موقعہ پر محکمہ صحت کی ایک ٹیم بھی برفانی طوفان میں پھنسے اہلکاروں کو طبی امداد فراہم کرنے کی غرض سے علاقہ میں بھیج دی گئی جبکہ بارہمولہ ،ٹنگمرگ ،بابا ریشی اور بڈگام کے کچھ علاقوں سے ہنگامی بنیادوں پر ایمبولینس گاڑیوں کو گلمرگ پہنچایا گیاجہاں سے زخمی اہلکاروں کو اسپتال منتقل کیا گیا ۔اسی دوران برفانی طوفان میں پھنسے اہلکاروں کو باہر نکالنے کیلئے فوج کے ہیلی کاپٹروں اور سراغ رساں کتوں کی خدمات حاصل کی گئیں لیکن مسلسل برفباری کی وجہ سے ہیلی کاپٹروں کو اڑان بھرنے میں دقعتوں کو سامنا کرنا پڑا ۔عینی شاہدین کے مطابق برفانی طوفان کی زد میں آنے والے اہلکاروں کے ساتھ کئی مقامی پورٹر اور سیاح بھی علاقہ میں موجود تھے تاہم ان میں سے کسی کو بھی کوئی گزند نہیں پہنچی ۔سیاحت کے وزیر مملکت ناصر اسلم وانی نے گلمرگ پہنچنے پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا ،اس وقت 350اہلکار علاقہ میں موجود تھے تاہم ان میں کوئی مقامی شہری یا ملکی و غیر ملکی سیاح شامل نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ ،فوج اور پولیس صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے اور برف میں دبے دیگر لوگوںکو جنگی بنیادوں پر تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔تاہم ناصر اسلم وانی کا کہنا تھا کہ مسلسل برفباری کی وجہ سے بچائو کارروائیوں میں شامل اہلکاروں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔انہوں نے سیاحوں سے اپیل کی کہ وہ موسمی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے دور دراز علاقوں میں جانے سے گریز کریں ۔علاقہ میں بچائو کارروائیوں کا سلسلہ شام دیر گئے تک جاری تھا جس کیلئے فوج کے خصوصی تربیت یافتہ اہلکاروں کے ساتھ ساتھ محکمہ سیاحت کی بچائوٹیموں اور دیگر ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جبکہ ہیلی کاپٹر مسلسل پرواز کر رہے ہیں اور کھوجی کتے برف میں ممکنہ طور دبے دیگر اہلکاروں کو تلاش کرنے میں بچائو ٹیموں کی مدد کر رہے ہیں ۔اس واقعہ کے بعد محکمہ موسمیات نے گلمرگ ،سونہ مرگ ،پہلگام اور دیگر بالائی علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور محکمہ نے اس طرح کے مزید واقعات پیش آنے کی وارننگ جاری کی ہے۔محکمہ نے خاص طور پر اسکینگ کے شوقین سیاحوں کو دور دراز برف سے ڈھکے علاقوں میں جانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ محکمہ کے مطابق برفباری کا سلسلہ 9فروری کی شام تک جاری رہنے کا امکان ہے۔قابل ذکر ہے کہ 19فروری2005ء کو جنوبی کشمیر کے والٹینگو ناڑ قاضی گنڈ میں ہلاکت خیز برفانی طوفان سے ایک بستی صفحہ ہستی سے مٹ گئی تھی اور50سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے تھے ۔گلمرگ میں آنے والا آج کا برفانی طوفان قاضی گنڈ واقعہ کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا تباہ کن طوفان ہے۔

    گلمرگ میںبرفانی طوفان،22اہلکارہلاک 10لاپتہ 40کوزندہ بچالیا گیا ،15کی حالت تشویشناک سرینگر/۸ فروری/کشمیر میڈیا نیٹ ورک/ کھلن مرگ گلمرگ میں قیامت خیز برفانی طوفان میںپھنسے350فوجی اہلکار وں میں سے قریب100اہلکار بھاری برفانی تودوں کی زد میں آکر زندہ دب گئے جس کے نتیجے میں فوج کے ایک لیفٹنٹ سمیت 22اہلکار ہلاک ،33زخمی اور10اہلکار لا پتہ ہو گئے ہیں ۔زخمیوں میں سے 15اہلکاروں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے اور جائے واردات پر بچائو کارروائیوں کیلئے فوجی ہیلی کاپٹروں اور کھوجی کتوں کو کام پر لگایا گیا ہے جبکہ فوج ،انتظامیہ و پولیس کے اعلیٰ افسران ان کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں ۔یہ فروری 2005ء میںوالٹینگوناڑ قاضی گنڈ میں آئے ہلاکت خیز برفانی طوفان کے بعداپنی نوعیت کا پہلا طوفان ہے ۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ بھاری برفباری کی زد میں آنے والے وادی کے بالائی علاقوں میں اس طرح کے مزید واقعات پیش آ سکتے ہیں۔خبر رساں ایجنسی کشمیر میڈیا نیٹ ورک نے جو تفصیلات فراہم کی ہیں ،ان کے مطابق یہ واقعہ سوموار کی صبح ساڑھے10بجے اُس وقت پیش آیا جب گلمرگ میں قائم ’’ہائی آلٹی چیوڈ وارفیئرآرمی اسکول‘‘(HAWAS)سے وابستہ قریب 350اہلکارمعمول کے مطابق تربیت حاصل کر رہے تھے ۔نمائندے کے مطابق اسکول کی طرف سے کھلن مرگ گلمرگ کے گوجر ہکڑ پتھری علاقہ میں ایک کیمپ قائم کیا گیا تھا جس میں مقیم اہلکاروں کو بالائی علاقوں میں بچائو ،امدادی اور دیگر فوجی کارروائیاں عمل میں لانے کی تربیت فراہم کی جاتی ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ فوجی اہلکاروں کیلئے خصوصی تربیتی کورس کا اہتمام ہر سال برفباری ہونے کے بعد کیا جاتا ہے اور جس جگہ یہ برفانی طوفان آیا ،وہاں پہلے کبھی بھی برفانی تودے نہیںگرے ہیں ۔چنانچہ آج صبح یہ تمام اہلکار تربیت کی غرض سے ہکڑ پتھری پہنچے ہی تھے کہ اور اس موقعہ پر زبردست برفباری ہو رہی تھی ۔عینی شاہدین کے مطابق اس دوران پہلے خوفناک آوازوں کے ساتھ طوفانی ہوائیں چلنے لگیں اور بعد میں اس قدر بھاری برفباری کا سلسلہ شروع ہواکہ وہاں مکمل طور پر اندھیرا چھا گیا اور اسی اثناء میں بیک وقت کئی بھاری برفانی تودے گر آئے ۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق فوجی اہلکار ٹکڑیوں کی شکل میں جا رہے تھے اور برفانی تودوں کی زد میں آکر کئی ٹکڑیوں میں شامل کم و بیش100اہلکار برف کی بھاری مقدار کے نیچے زندہ دب گئے تاہم بیشتر اہلکار کافی جدوجہد کے بعد از خود برف سے باہر آنے میں کامیاب ہوئے ۔اس موقعہ پر اندھیرا کم ہوتے ہی وہاں موجود دیگر اہلکاروں نے اپنے ساتھیوں کو برف سے باہر نکالنے کی کارروائی شروع کی لیکن مسلسل اور بھاری برفباری کی وجہ سے اس کارروائی میں زبردست رکائوٹیں پیدا ہوئیں ۔ذرائع سے معلوم ہوا کہ برفانی تودوں میں دبنے والے 100اہلکاروں میں سے قریب40اہلکاروں کو ابتدائی کارروائی کے دوران ہی زندہ بر آمد کیا گیا جبکہ 33اہلکار وں کوشدید زخمی حالت میں برف سے باہر نکالا گیا ۔واقعہ کی خبر ملتے ہی پولیس ،فوج اور محکمہ سیاحت کی بچائوٹیمیں کھلن مرگ کی طرف روانہ کی گئیں اور آخری اطلاع ملنے تک برف سے 20اہلکاروں کی لاشیں بر آمد کی گئی تھیں جن میں HAWASسے وابستہ لیفٹنٹ پرتیک بھی شامل ہیں ۔واقعہ کے بعد 10اہلکار لا پتہ بتائے جا رہے ہیں جن کی تلاش بڑے پیمانے پر جاری ہے ۔زخمی اہلکاروں کو گلمرگ کے مقامی اور فوجی اسپتال میں داخل کر دیا گیا جہاں سے قریب15اہلکاروں کو تشویشناک حالت میں فوج کے بادامی باغ اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا ۔تاہم فوج کے ترجمان کرنل جے ایس برار نے بتایا کہ اس واقعہ میں ایک آفیسر سمیت14جوان ہلاک اور17معمولی طور پر زخمی ہوئے ہیں جبکہ2اہلکار ہنوز لا پتہ ہیں ۔واقعہ کے بعد سیاحت کے وزیر مملکت ناصر اسلم وانی ،ڈی آئی جی شمالی کشمیر عبدالقیوم منہاس اور ڈپٹی کمشنربارہمولہ بشیر احمد بٹ کے علاوہ فوج ،پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران گلمرگ پہنچے اور بچائو کارروائیوں کا جائزہ لیا ۔اس موقعہ پر محکمہ صحت کی ایک ٹیم بھی برفانی طوفان میں پھنسے اہلکاروں کو طبی امداد فراہم کرنے کی غرض سے علاقہ میں بھیج دی گئی جبکہ بارہمولہ ،ٹنگمرگ ،بابا ریشی اور بڈگام کے کچھ علاقوں سے ہنگامی بنیادوں پر ایمبولینس گاڑیوں کو گلمرگ پہنچایا گیاجہاں سے زخمی اہلکاروں کو اسپتال منتقل کیا گیا ۔اسی دوران برفانی طوفان میں پھنسے اہلکاروں کو باہر نکالنے کیلئے فوج کے ہیلی کاپٹروں اور سراغ رساں کتوں کی خدمات حاصل کی گئیں لیکن مسلسل برفباری کی وجہ سے ہیلی کاپٹروں کو اڑان بھرنے میں دقعتوں کو سامنا کرنا پڑا ۔عینی شاہدین کے مطابق برفانی طوفان کی زد میں آنے والے اہلکاروں کے ساتھ کئی مقامی پورٹر اور سیاح بھی علاقہ میں موجود تھے تاہم ان میں سے کسی کو بھی کوئی گزند نہیں پہنچی ۔سیاحت کے وزیر مملکت ناصر اسلم وانی نے گلمرگ پہنچنے پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا ،اس وقت 350اہلکار علاقہ میں موجود تھے تاہم ان میں کوئی مقامی شہری یا ملکی و غیر ملکی سیاح شامل نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ ،فوج اور پولیس صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے اور برف میں دبے دیگر لوگوںکو جنگی بنیادوں پر تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔تاہم ناصر اسلم وانی کا کہنا تھا کہ مسلسل برفباری کی وجہ سے بچائو کارروائیوں میں شامل اہلکاروں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔انہوں نے سیاحوں سے اپیل کی کہ وہ موسمی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے دور دراز علاقوں میں جانے سے گریز کریں ۔علاقہ میں بچائو کارروائیوں کا سلسلہ شام دیر گئے تک جاری تھا جس کیلئے فوج کے خصوصی تربیت یافتہ اہلکاروں کے ساتھ ساتھ محکمہ سیاحت کی بچائوٹیموں اور دیگر ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جبکہ ہیلی کاپٹر مسلسل پرواز کر رہے ہیں اور کھوجی کتے برف میں ممکنہ طور دبے دیگر اہلکاروں کو تلاش کرنے میں بچائو ٹیموں کی مدد کر رہے ہیں ۔اس واقعہ کے بعد محکمہ موسمیات نے گلمرگ ،سونہ مرگ ،پہلگام اور دیگر بالائی علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور محکمہ نے اس طرح کے مزید واقعات پیش آنے کی وارننگ جاری کی ہے۔محکمہ نے خاص طور پر اسکینگ کے شوقین سیاحوں کو دور دراز برف سے ڈھکے علاقوں میں جانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ محکمہ کے مطابق برفباری کا سلسلہ 9فروری کی شام تک جاری رہنے کا امکان ہے۔قابل ذکر ہے کہ 19فروری2005ء کو جنوبی کشمیر کے والٹینگو ناڑ قاضی گنڈ میں ہلاکت خیز برفانی طوفان سے ایک بستی صفحہ ہستی سے مٹ گئی تھی اور50سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے تھے ۔گلمرگ میں آنے والا آج کا برفانی طوفان قاضی گنڈ واقعہ کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا تباہ کن طوفان ہے۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...