• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • فتح کدل کے 7 نوجوان سینٹرل جیل منتقل

    نوکری کے جھانسے میں گرفتارشدگان پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد
    // سرینگر
    سرینگر کے فتح کدل علاقے میںسے 7نوجوانوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرکے سینٹرل جیل سرینگر بیج دیا گیا ہے تا ہم گرفتارشدہ نوجوانوںکے والدین نے کا کہنا ہے کہ پولیس نے مذکورہ نوجوانوں کو سنگبازی سے دور رہنے کے بائوجود گرفتار کرکے سینٹرل جیل سرینگر بیج دیا  ہے جسکا  اعتراف کرتے ہوئے مقامی ایس ایچ ا و نے بتایا کہ مذکورہ نوجوانوں اب سنگبازی کے کسی بھی واقع میں ملوث نہیں تھے تاہم انکی گرفتاری اعلیٰ آفیسران کے حکم پر عمل میں لائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ پولیس نے سنگبازی کے الزام میں نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ وسیع کردیا ہے اور اس ضمن میں وادی کے اطراف واکناف میں نوجوانوں کی دھر پکڑ ھ جاری ہے ۔  پولیس نے سرینگر میں سنگبازوں کے خلاف شروع کی گئی کاروائی کو جاری رکھتے ہوئے جمعہ کو سرینگر کے فتح کدل علاقے سے گرفتار کئے گئے7نوجوانوں پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کرکے سینٹرل جیل سرینگر منتقل کردیا ہے۔ گرفتار شدگان میں 13سالہ منظور احمد خان ولد ولد تاج اور شفاعت حسین ولد محمد اسلم خان ساکنان قلم دان پورہ کے اعلاوہ دیگر 5نوجوان شامل ہیں۔ گرفتارشدگان کے والدین نے بتایا کہ مقامی ایس ایچ او کی قیادت میں ایک پولیس پارٹی میں شامل اہلکار جمعہ صبح سویرے انکے گھروں میں داخل ہوئے اور مذکورہ نوجوانو ں کو سرکاری نوکری کے سلسلے میں تحقیقات کے بہانے 7نوجوانوں کو دھوکے سے اپنے ساتھ لیکر انکی گرفتاری عمل میں لائی۔ جمعہ کو گرفتار کئے گئے منظور احمد خان کی والدہ نے روزنامہ ’’اطلاعات‘‘ کو بتایا ’’ مقامی ایس ایچ او کی قیادت میں جمعہ صبح 7بجکر 30منٹ پر پولیس کی ایک پارٹی ہمارے گھر میں داخل ہوئی ۔‘‘ منظور کی والدہ نے بتایا کہ پولیس پارٹی کی قیادت کررہے ایس ایچ او نے ہمیں بتایا کہ علی محمد ساگر کی ہدایت پر تمہارے بیٹے کو نوکری دی گئی ہے اور اس ضمن میں ہم اسکو پولیس اسٹیشن لینے آئے ہیں۔ منظور احمد کی والدہ نے بتایا کہ مذکورہ نوجوان پڑھائی چھوڑ دینے کے بعد اب آٹو رکشاء چلا رہا تھا اور وہ سنگبازی کے کسی بھی واقع میں ملوث نہیں ہے ۔جمعہ کو گرفتار کئے گئے شفاعت حسین کے والد محمد اسلم خان نے اپنے بیٹے کی گرفتاری کے بارے میں بتایا ’’ پچھلے سال امرناتھ شرائن بورڑ کو زمین کی منتقلی کے خلاف ہوئے احتجاج کے سلسلے میں میرے بیٹے کے خلاف کیس درج کیاتھا جس کے بعد پولیس اسکو ہر جمعہ تھانے طلب کیا جاتا تھا اور پچھلے جمعہ کو بھی حسب دستور پولیس اسکو اپنے ساتھ لے گئی تاہم کل جب ہم ان سے ملنے گئے تو پولیس نے ہمیں بتایا کہ شفاعت کو سینٹرل جیل سرینگرمنتقل کیا گیا ہے۔ ‘‘ شفاعت کے والدین نے بتایا کہ شفاعت پچھلے سال کے احتجاجی مظاہروں کے بعد سنگبازی کے کسی بھی واقع میں ملوث نہیں ہے تاہم پولیس نے اسکو سنگبازی سے دور رہنے کے بائوجود گرفتار کیا ہے۔ مذکورہ نوجوانوں کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے ایس ایچ او رفیق احمد نے بتایا’’  مذکورہ نوجوان اب پتھرائو میں شامل نہیں ہوتے مگر پولیس کے اعلیٰ آفیسران نے انکی گرفتاری کے احکامات صادر کرتے ہوئے ان پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کرنے کی ہدایت جاری کی تھی تاہم ہم نے انکے خلاف دفع 151اور107کے تحت کیس درج کرکے انہیں سرینگر کے سینٹرل جیل منتقل کردیا ہے جہاں سے انکے والدین انہیں ضمانت پر رہا کرواسکتے ہیں۔ واضح رہے سنگبازی کے واقعات کو کم کرنے کیلئے پچھلے مہینے سے وادی میں گرفتاریوں کا سلسلہ دراز کیا گیاہے اور بار ایسوسی ایشن ذرائع کے مطابق ابتک وادی میں تقریباً500نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے جن میں علاحدگی پسندوں، سنگبازوں کے علاوہ کئی عام شہری بھی شامل ہے اور مزید نوجوانوں کی پکڑ دکڑھ کا سلسلہ جاری ہے۔

    فتح کدل کے 7 نوجوان سینٹرل جیل منتقل نوکری کے جھانسے میں گرفتارشدگان پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائداطلاعات نیوز سروس// سرینگر سرینگر کے فتح کدل علاقے میںسے 7نوجوانوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرکے سینٹرل جیل سرینگر بیج دیا گیا ہے تا ہم گرفتارشدہ نوجوانوںکے والدین نے کا کہنا ہے کہ پولیس نے مذکورہ نوجوانوں کو سنگبازی سے دور رہنے کے بائوجود گرفتار کرکے سینٹرل جیل سرینگر بیج دیا  ہے جسکا  اعتراف کرتے ہوئے مقامی ایس ایچ ا و نے بتایا کہ مذکورہ نوجوانوں اب سنگبازی کے کسی بھی واقع میں ملوث نہیں تھے تاہم انکی گرفتاری اعلیٰ آفیسران کے حکم پر عمل میں لائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ پولیس نے سنگبازی کے الزام میں نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ وسیع کردیا ہے اور اس ضمن میں وادی کے اطراف واکناف میں نوجوانوں کی دھر پکڑ ھ جاری ہے ۔  پولیس نے سرینگر میں سنگبازوں کے خلاف شروع کی گئی کاروائی کو جاری رکھتے ہوئے جمعہ کو سرینگر کے فتح کدل علاقے سے گرفتار کئے گئے7نوجوانوں پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کرکے سینٹرل جیل سرینگر منتقل کردیا ہے۔ گرفتار شدگان میں 13سالہ منظور احمد خان ولد ولد تاج اور شفاعت حسین ولد محمد اسلم خان ساکنان قلم دان پورہ کے اعلاوہ دیگر 5نوجوان شامل ہیں۔ گرفتارشدگان کے والدین نے بتایا کہ مقامی ایس ایچ او کی قیادت میں ایک پولیس پارٹی میں شامل اہلکار جمعہ صبح سویرے انکے گھروں میں داخل ہوئے اور مذکورہ نوجوانو ں کو سرکاری نوکری کے سلسلے میں تحقیقات کے بہانے 7نوجوانوں کو دھوکے سے اپنے ساتھ لیکر انکی گرفتاری عمل میں لائی۔ جمعہ کو گرفتار کئے گئے منظور احمد خان کی والدہ نے روزنامہ ’’اطلاعات‘‘ کو بتایا ’’ مقامی ایس ایچ او کی قیادت میں جمعہ صبح 7بجکر 30منٹ پر پولیس کی ایک پارٹی ہمارے گھر میں داخل ہوئی ۔‘‘ منظور کی والدہ نے بتایا کہ پولیس پارٹی کی قیادت کررہے ایس ایچ او نے ہمیں بتایا کہ علی محمد ساگر کی ہدایت پر تمہارے بیٹے کو نوکری دی گئی ہے اور اس ضمن میں ہم اسکو پولیس اسٹیشن لینے آئے ہیں۔ منظور احمد کی والدہ نے بتایا کہ مذکورہ نوجوان پڑھائی چھوڑ دینے کے بعد اب آٹو رکشاء چلا رہا تھا اور وہ سنگبازی کے کسی بھی واقع میں ملوث نہیں ہے ۔جمعہ کو گرفتار کئے گئے شفاعت حسین کے والد محمد اسلم خان نے اپنے بیٹے کی گرفتاری کے بارے میں بتایا ’’ پچھلے سال امرناتھ شرائن بورڑ کو زمین کی منتقلی کے خلاف ہوئے احتجاج کے سلسلے میں میرے بیٹے کے خلاف کیس درج کیاتھا جس کے بعد پولیس اسکو ہر جمعہ تھانے طلب کیا جاتا تھا اور پچھلے جمعہ کو بھی حسب دستور پولیس اسکو اپنے ساتھ لے گئی تاہم کل جب ہم ان سے ملنے گئے تو پولیس نے ہمیں بتایا کہ شفاعت کو سینٹرل جیل سرینگرمنتقل کیا گیا ہے۔ ‘‘ شفاعت کے والدین نے بتایا کہ شفاعت پچھلے سال کے احتجاجی مظاہروں کے بعد سنگبازی کے کسی بھی واقع میں ملوث نہیں ہے تاہم پولیس نے اسکو سنگبازی سے دور رہنے کے بائوجود گرفتار کیا ہے۔ مذکورہ نوجوانوں کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے ایس ایچ او رفیق احمد نے بتایا’’  مذکورہ نوجوان اب پتھرائو میں شامل نہیں ہوتے مگر پولیس کے اعلیٰ آفیسران نے انکی گرفتاری کے احکامات صادر کرتے ہوئے ان پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کرنے کی ہدایت جاری کی تھی تاہم ہم نے انکے خلاف دفع 151اور107کے تحت کیس درج کرکے انہیں سرینگر کے سینٹرل جیل منتقل کردیا ہے جہاں سے انکے والدین انہیں ضمانت پر رہا کرواسکتے ہیں۔ واضح رہے سنگبازی کے واقعات کو کم کرنے کیلئے پچھلے مہینے سے وادی میں گرفتاریوں کا سلسلہ دراز کیا گیاہے اور بار ایسوسی ایشن ذرائع کے مطابق ابتک وادی میں تقریباً500نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے جن میں علاحدگی پسندوں، سنگبازوں کے علاوہ کئی عام شہری بھی شامل ہے اور مزید نوجوانوں کی پکڑ دکڑھ کا سلسلہ جاری ہے۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...