زمرہ مقامی خبریں 2/09/10 •
وزیر اعلیٰ کا دورہ ،شوپیان بار ایسو سی ایشن میںاختلافات کی وجہحکومت سانحہ شوپیان کو گول کرنے کےلئے وکلاء کے اتحاد کو توڑنے کے درپے:بار%سرینگر/ وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کا حالیہ دورہ شوپیان مقامی بار ایسو سی ایشن کی تقسیم کی وجہ بن گیا ہے اور ڈسٹرکٹ بار کے منقسم دھڑے ایک دوسرے پر سنگین الزام تراشیاں کررہے ہیں۔ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن شوپیان کے ایک دھڑے کا کہنا ہے کہ وہ شوپیان سانحہ میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے حق میں قانونی سطح پر سرگرم ہیں اس لئے حکومت اُن کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کررہی ہے جبکہ دوسرے دھڑے کا کہنا ہے کہ وہی اصلی بار کی نمائندگی کررہے ہیں اور وہ علاقے کی تعمیر وترقی کے خواہاں ہیں۔شوپیان بار کے مذکورہ دھڑے کی طرف سے جاری ایک بیان میں ایڈو کیٹ ایس ایم اقبال پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے بتایا گیا ہے’’ایس ایم ا قبال شوپیان بار ایسو سی ایشن کا ترجمان نہیں ہیںاور اُن کا دیا گیا بیان قابل مذمت ہے،ایڈوکیٹ ایس ایم اقبال کئی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ اُن سے تنخواہ حاصل کررہے ہیں‘‘۔ قابل ذکر ہے کہ مذکورہ بیان پر بار صدر کے دستخط نہیں ہیں۔ ایڈو کیٹ ایس ایم اقبال نے شوپیان بار ایسو سی ایشن کے ترجمان کی حیثیت سے اخبارات کے لئے جاری اپنے بیان میں اُن وکلاء کا شوپیان بار ایسو سی ایشن کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق ہونے سے انکار کیا تھا جنہوں نےجنوری کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کے دورہ شوپیان کے دوران اُن سے ملاقات کی تھی۔ شوپیان مجلس مشاورت نے وزیر اعلیٰ کے دورہ شوپیان کے خلاف احتجاجی ہڑتال کی اپیل کی تھی ۔ شوپیان سے تعلق رکھنے والے1وکلاء نے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ سے ملاقات کی اور اُنہیں بار کے مسائل سے آگاہی دلائی۔مذکورہ وکلاء کی وزیر اعلیٰ سے ملاقات پر ناراض عام لوگوں نے 5جنوری کے روز زبردست نعرے بازی کی۔ شوپیان بار ایسو سی ایشن کے ترجمان ایڈوکیٹ ایس ایم اقبال نے دوسرے روز اپنے بیان میں وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرنے والے وکلاء کے بارے میں کہا تھا’’ ان جونیئر وکلاء کا شوپیان بار ایسو سی ایشن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔ مذکورہ وکلاء کی طرف سے جاری ایک تحریری بیان میں بتایا گیا ہے ’’شوپیان بار ایسو سی ایشن ایک غیر سیاسی فورم ہے جو صرف علاقہ کی ترقی کا خواہاں ہے اور یہ کہ ایڈو کیٹ ایس ایم اقبال بار ایسو سی ایشن کا ترجمان نہیںہیں‘‘۔ اپنے آپ کو شوپیان بار ایسو سی ایشن کا ترجمان کہنے والے ایڈوکیٹ غلام حسن ڈار نے بتایا’’ ایس ایم اقبال شوپیان بار میں کسی بھی عہدے پر فائز نہیں ہیںاور جب بار کی ایک ٹیم کو وزیر اعلیٰ سے ملنے کا فیصلہ لیا گیا تو اُس وقت بار صدر ایڈو کیٹ عبد المجید میر بھی میٹنگ میںموجود تھے اور وزیر اعلیٰ سے ملنے والے وکلاء میں اُن کا بیٹا بھی شامل ہے‘‘۔ ایڈوکیٹ ایس ایم اقبال نے تاہم ایڈوکیٹ غلام حسن ڈار اور وزیر اعلیٰ سے ملنے والے وکلاء کی سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا’’ یہ وہی لوگ ہیں جو آسیہ اور نیلوفر کی عصمت دری و قتل معاملے کو سرد خانے میں ڈالنے کے لئے کام کررہے ہیں‘‘۔ ایس ایم اقبال کا کہنا تھا’’ شوپیان بار ایسو سی ایشن نے غلام حسن ڈار کو پچھلے سال بار کی بنیادی رکنیت سے خارج کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اُس کے پاس کوئی چیمبر بھی نہیں ہے‘‘۔ ایڈوکیٹ ایس ایم اقبال کے مطابق ’’حکومت بار ایسو سی ایشن شوپیان کی اُن کوششوں کو ناکام کرنا چاہتی ہے جو اُنہوں نے آسیہ اور نیلوفر کی عصمت دری و قتل سانحہ میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی سطح پر شروع کررکھی ہیں اور اس کے لئے حکومت نے شوپیان کے ہی کئی وکلاء کا استعمال کرنے کی کوشش کی ہے مگر ہم اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ مجرموں کی نشاندہی تک مجلس مشاورت کے شانہ بشانہ اپنی جد وجہد جاری رکھیں گے‘‘۔ ایڈوکیٹ ایس ایم اقبال کا کہنا تھا’’ شوپیان بار ایسو سی ایشن وزیر اعلیٰ کے وہ پانچ لاکھ روپئے لینے سے بھی انکار کرتی ہے جو عملاً وکلاء کی آواز بند کرنے کے لئے فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا‘‘۔شوپیان بار ایسو سی ایشن کے اُس بیان میں جس میں ایڈو کیٹ ایس ایم اقبال کو الزامات کا نشانہ بنایا گیا ہے، میں مزید درج ہے’’شوپیان بار ایسو سی ایشن ایک غیر سیاسی فورم ہے اور صرف علاقہ شوپیان کی ترقی کا خواہاں ہے‘‘۔ ایس ایم اقبال کا کہنا ہے کہ شوپیان بار ایسو سی ایشن دو پھاڑ نہیں ہوئی ہے بلکہ وزیر اعلیٰ سے ملنے والے وکلاء کا بار کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ شوپیان بار ایسو سی ایشن سے وابستہ سینئر وکیل ایڈوکیٹ سید اعجاز حسین نے بھی ایس ایم اقبال کے ہی ترجمان ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا’’ ایس ایم اقبال ہمارے منتخب نائب صدر اور ترجمان ہیں، شوپیان کے لوگوں نے آسیہ اور نیلوفر کیس میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے لئے بہت قربانیاں دے رکھی ہیں اور ہم اہل شوپیان کی قربانیوں کو پانچ لاکھ روپئے کے عوض رائیگاں نہیں ہونے دیں گے‘‘۔ ایڈو کیٹ اعجاز حسین کا مزید کہنا تھا’’ حکومت ہر سطح پر شوپیان بار ایسو سی ایشن کو توڑنے کے درپے ہے مگر ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا‘‘۔قابل ذکر ہے کہ شوپیان بار ایسو سی ایشن سے وابستہ وکلاء کو شوپیان سانحہ سے متعلق سی بی آئی نے اپنی متنازعہ رپورٹ میں ملزم ٹھہرایا ہے اور مقامی وکلاء اس کو شوپیان سانحہ گول کرنے کی ایک مذموم کوشش سے تعبیر کرتے ہیں۔
نام (اہم)
ای میل (شائع نہیں ہوگا) (required)
ویب سائٹ
آپ کا تبصرہآپ ٹیگ استعمال کر سکتے ہیں <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong> Type Comments in Urdu Language (Press Ctrl+g to toggle between English and Urdu
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>
Please note: JavaScript is required to post comments. Spam protection by WP Captcha-Free
آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟
View Results