• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • گرفتاریاں حقوق البشرکی خلاف ورزی:گ حریت

    سرینگر//گ حرےت کانفرنس نے رےاستی حکومت کی طرف سے علےحدگی پسند رہنمائوں اور کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انہےں جمہورےت کے بنےادی اصولوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے علاوہ اےک انسانےت سوز کارروائی سے تعبےر کےا ہے۔ گ حرےت کے مےڈےا انچارج اےڈوکےٹ زاہد علی نے اپنے اےک بےان مےں بتاےا کہ رےاستی حکومت نے حرےت نواز رہنمائوں اور کارکنوں کی وسےع پےمانے پر گرفتاری کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہ جمہورےت کے بنےادی اصولوں اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے علاوہ اےک انسانےت سوز کارروائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنےا مےں ہر اےک انسان کو اظہار رائے کی آزادی کا بنےادی حق حاصل ہے اور حرےت دعوت و آزادی ضمےر کی حفاظت اےک جمہوری نظام کی بنےاد مانا جاتا ہے اور ہر عوامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہرےوں کے ان حقوق کی حفاظت کرے۔ انہوں نے کہا کہ رےاست کا معاملہ ہی الگ ہے ےہاں عدلےہ کا کام پولےس، پولےس کا کام فورسز اور دےگر فورسز اور پالسےاں مرتب کرنے کا کام حکومت کے بجائے بھارتی خفےہ اےجنسےاں انجام دےتی ہے۔انہوں نے بےان مےں کہا ہے کہ انتخابات کی دےکھ رےکھ بھی الےکشن کمےشن کے بجائے ’آئی بی‘ اور’ را‘ جےسی خفےہ اےجنسےاں انجام دےتی ہےںجبکہ ووٹروں کی جگہ کسی امےدوار کی کامےابی ےا نا کامی کا فےصلہ بھی ےہی اےجنسےاں کرتی ہےں۔ انہوں نے کہا کہ ےہ نظام حکومت ےہاں 1947سے قائم ہے جب بھارت نے اس خطے کو ےہاں کے عوام کی رائے جانے بغےر ہی بقول ان کے جبراً اپنے ساتھ ملا لےا۔ اسی وجہ سے ےہاں کے سنداقتدار پر قابض حکمران لوگوں کی خواہشات کے بجائے بھارتی پالےسی ساز اداروں کی رضا کاخےال رکھتے ہےں اور انہی کے اشاروں پر بقول ان کے چلتے ہےں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے ےہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزےاں اور عدالتی احکامات کی عدولی اب اےک معمول بن چکا ہے ۔ بےان مےںانہوں نے کہا کہ ےہاں گرفتارےاں بھی تمام قانونی تحفظات اور عدل انصاف کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کرعمل مےں لائی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکوئوں اور بقول ان کے بدمعاشوں کے لئے کسی حد تک ان تحفظات کو مد نظر رکھا جاتا ہے لےکن اپنے بنےادی حق حق خودارادےت کا مطالبہ ان تمام تحفظات اور تقاضوں سے محرومی کا باعث بن جاتا ہے جبکہ ےہاں جنگل کا قانون نافذ کےا جاتا ہے۔ مےڈےا انچارج اےڈوکےٹ زاہد علی نے بےان مےں مزےد کہا ہے کہ اس کا واضح ثبوت حرےت کانفرنس سے وابستہ افراد کی وسےع پےمانے پر گرفتاری اورع حرےت چےرمےن مےرواعظ عمر فاروق کے ےو اےن او دفتر تک عوامی رےلی کے پروگرام کو نا کام بنانے کی خاطر پولےس و نےم فوجی دستوں کی شہر سرےنگر کی ناکہ بندی اور مےرواعظ سمےت ان کے سرکردہ کارکنوں ک گھروں مےں حراست ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کئی روز تک کسی قانونی ضابطے کے بغےر حرےت کارکنوں کو مختلف تھانوں مےں حراست مےں رکھنا اےک اور ثبوت ہے۔

    گرفتاریاں حقوق البشرکی خلاف ورزی:گ حریتسرینگر//گ حرےت کانفرنس نے رےاستی حکومت کی طرف سے علےحدگی پسند رہنمائوں اور کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انہےں جمہورےت کے بنےادی اصولوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے علاوہ اےک انسانےت سوز کارروائی سے تعبےر کےا ہے۔ گ حرےت کے مےڈےا انچارج اےڈوکےٹ زاہد علی نے اپنے اےک بےان مےں بتاےا کہ رےاستی حکومت نے حرےت نواز رہنمائوں اور کارکنوں کی وسےع پےمانے پر گرفتاری کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہ جمہورےت کے بنےادی اصولوں اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے علاوہ اےک انسانےت سوز کارروائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنےا مےں ہر اےک انسان کو اظہار رائے کی آزادی کا بنےادی حق حاصل ہے اور حرےت دعوت و آزادی ضمےر کی حفاظت اےک جمہوری نظام کی بنےاد مانا جاتا ہے اور ہر عوامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہرےوں کے ان حقوق کی حفاظت کرے۔ انہوں نے کہا کہ رےاست کا معاملہ ہی الگ ہے ےہاں عدلےہ کا کام پولےس، پولےس کا کام فورسز اور دےگر فورسز اور پالسےاں مرتب کرنے کا کام حکومت کے بجائے بھارتی خفےہ اےجنسےاں انجام دےتی ہے۔انہوں نے بےان مےں کہا ہے کہ انتخابات کی دےکھ رےکھ بھی الےکشن کمےشن کے بجائے ’آئی بی‘ اور’ را‘ جےسی خفےہ اےجنسےاں انجام دےتی ہےںجبکہ ووٹروں کی جگہ کسی امےدوار کی کامےابی ےا نا کامی کا فےصلہ بھی ےہی اےجنسےاں کرتی ہےں۔ انہوں نے کہا کہ ےہ نظام حکومت ےہاں 1947سے قائم ہے جب بھارت نے اس خطے کو ےہاں کے عوام کی رائے جانے بغےر ہی بقول ان کے جبراً اپنے ساتھ ملا لےا۔ اسی وجہ سے ےہاں کے سنداقتدار پر قابض حکمران لوگوں کی خواہشات کے بجائے بھارتی پالےسی ساز اداروں کی رضا کاخےال رکھتے ہےں اور انہی کے اشاروں پر بقول ان کے چلتے ہےں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے ےہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزےاں اور عدالتی احکامات کی عدولی اب اےک معمول بن چکا ہے ۔ بےان مےںانہوں نے کہا کہ ےہاں گرفتارےاں بھی تمام قانونی تحفظات اور عدل انصاف کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کرعمل مےں لائی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکوئوں اور بقول ان کے بدمعاشوں کے لئے کسی حد تک ان تحفظات کو مد نظر رکھا جاتا ہے لےکن اپنے بنےادی حق حق خودارادےت کا مطالبہ ان تمام تحفظات اور تقاضوں سے محرومی کا باعث بن جاتا ہے جبکہ ےہاں جنگل کا قانون نافذ کےا جاتا ہے۔ مےڈےا انچارج اےڈوکےٹ زاہد علی نے بےان مےں مزےد کہا ہے کہ اس کا واضح ثبوت حرےت کانفرنس سے وابستہ افراد کی وسےع پےمانے پر گرفتاری اورع حرےت چےرمےن مےرواعظ عمر فاروق کے ےو اےن او دفتر تک عوامی رےلی کے پروگرام کو نا کام بنانے کی خاطر پولےس و نےم فوجی دستوں کی شہر سرےنگر کی ناکہ بندی اور مےرواعظ سمےت ان کے سرکردہ کارکنوں ک گھروں مےں حراست ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کئی روز تک کسی قانونی ضابطے کے بغےر حرےت کارکنوں کو مختلف تھانوں مےں حراست مےں رکھنا اےک اور ثبوت ہے۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...