• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • سوپور میں فائرنگ ، ہیڈ کانسٹبل سمیت 2ہلاک

    سانبہ سیکٹر میں جھڑپ :درانداز کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
    سرینگر/فروری /سخت ترین ناکہ بندی اور پولیس لائینز تعینات کرنے کے باوجود جنگجوئوں نے آج دھاڑے شمالی کشمیر کے سوپور قصبے میں پولیس کی ایک گشتی پارٹی پر گھات لگاکر حملہ کیا جسکے نتیجے میں پولیس کا ایک ہیڈ کانسٹیبل سمیت 2 افراد ہلاک ہوئے جبکہ گولیوں کے تبادلے میں خاتون سمیت 3 افراد زخمی ہوئی۔ حملے کے فوراً بعد پولیس ، سی آر پی ایف اور فوج کی ایک بڑی تعداد قصبے میں جا پہنچی جسکے ساتھ ہی انہوں نے جنگجوئوں کو ڈھونڈ نکالنے کےلئے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کردیا۔ اس دوران سانبہ سیکٹر میں آج سرحدی حفاظتی فورسز نے دراندازی کی ایک کوشش کو ناکام بناتے ہوئے ایک درانداز کو ہلاک کیا جبکہ مہو سیکٹر میں فوج اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے جنگجوئوں کی ایک کمین گاہ پر چھاپہ مار کر بھاری مقدار میں اسلحہ و گولی بارود برآمد کر لیا۔ ذرائع کے مطابق آج نماز جمعہ کے بعد قریب 3 بجے جنگجو اچانک مین چوک سوپور میں نمودار ہوئے جسکے ساتھ انہوں نے پولیس کی ایک گشتی پارٹی پر جدی ترین ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کی۔اس موقعہ پر پولیس نے بھی جوابی کارروائی کی اور طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ کچھ دیر تک جاری رہا جسکے نتیجے میں گولیوں کی ان گن گرج سے پورا علاقہ لرز اٹھا اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف دوڑ پڑے جبکہ مین چوک میں قائم چھاپڑی فروش اور دیگر پیشے سے وابستہ اپنی جان کی سلامتی کو یقینی بنانے کےلئے جائے واردات سے فرار ہوئے۔ گولیوں کی زد میں آکر آئی آر پی 7 بٹالین سے وابستہ ہیڈ کانسٹیبل ارشاد احمد مرزا بیلٹ نمبر 10 ، غلام حسن ڈار ولد سبحان ساکن ڈانگر پورہ ، نذیر احمد ولد حبیب اللہ ساکن شالپورہ اور پوشہ بیگم زوجہ نثار احمد شاہ ساکنہ شاہ آباد کالونی سوپور شدید زخمی ہوئے جنہیں علاج و معالجہ کی غرض سے فوری طور پر نزدیکی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ہیڈ کانسٹیبل محمد مرزا اور غلام حسن کی حالت نازک قرار دیتے ہوئے انہیں  سرینگراسپتال منتقل کرنے کی صلاح دی۔ اسپتال میں تعینات ڈاکٹروں نے اگر چہ دونوں کی جان بچانے کی ہرممکن کوشش کی تاہم ڈاکٹروں کی کوششیں اسوقت رائیگاں ثابت ہوئیں جب محمد مرزا اور غلام حسن اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے۔ ادھر جنگجوئوں نے پولیس کی گشتی پارٹی پر حملہ کرنے کیساتھ ہی راہ فرار اختیار کرلی تاہم جنگجوئوں کو ڈھونڈ نکالنے کےلئے پولیس، سی آر پی ایف اور فوج کی ایک بڑی تعداد قصبہ پہنچ گئی اور حملہ آئوروں کی تلاش کےلئے خانہ تلاشیاں بڑے پیمانے پر شروع کیں۔اطلاعات کے مطابق فورسز نے لوگوں کی زبردست مار پیٹ کی جبکہ کئی ایک رہائشی مکانوں میں فورسز کے درجنوں اہلکار زبردستی داخل ہوئے جہاں انہوں نے نہ صرف مکینوں کی مار پیٹ کی بلکہ اسباب خانہ کو بھی تہس نہس کیا۔ آخری اطلاعات ملنے تک تلاشی کارروائیاں جاری تھی اور اسی بیچ جنگجوئوں کی گرفتاری کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہ ہوئی۔دیگر زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے تاہم ان کی جان بچانے کےلئے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سوپور قصبے میں کچھ روزقبل ہی جنگجوئوں نے پولیس اسٹیشن پر گرینیڈ داغا اور بعد میں پولیس پارٹی پر زبردست فائرنگ کی جسکے نتیجے میں وہاں کئی ہلاکتیں ہوئیں۔ صورتحال سے نمٹنے کےلئے انتظامیہ نے قصبے میں پولیس لائینز کا قیام عمل میں لایا اور قصبے کے مختلف مقامات پر فورسز بینکر قائم کر لئے گئے ہیں۔ دریں اثناء سانبہ سیکٹر میں آج بین الاقوامی سرحد پر سرحدی حفاظتی فورسز نے مشکوک حالت میں مشتبہ افراد کی نقل و حرکت پائی جسکے ساتھ ہی سی آر پی ایف اہلکاروں نے مشتبہ شخص کو للکارا اور انہیں ہاتھ اُپر کرنے کےلئے کہا ۔ تاہم معلوم ہوا ہے کہ اس موقعہ مذکورہ شہری نے فرار ہونے کی کوشش کی جسکے بعد سی آر پی ایف اہلکاروں نے اس پر فائرنگ کی جسکے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی۔ ابھی تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ مارا گیا شہری جنگجو تھا یا کوئی اور تاہم فورسز کو خدشہ ہے کہ مارا گیا شہری جنگجو کےلئے بطور گائڈ کام کر رہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق مہور سیکٹر میں آج پولیس اور فوج نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے جنگجوئوں کی ایک کمین گاہ پر چھاپہ مارا جسکے دوران فورسز نے کمین گاہ میں چھپائے گئے اے کے رائفل، میگزین ، گولیوں کے 285 رائونڈ کے علاوہ دیگر اسلحہ و گولی بارود برآمد کر لیا ہے۔ پولیس نے معاملے کی نسبت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔

    سوپور میں فائرنگ ، ہیڈ کانسٹبل سمیت 2ہلاک سانبہ سیکٹر میں جھڑپ :درانداز کو ہلاک کرنے کا دعویٰ سرینگر/فروری /کے این ایس سخت ترین ناکہ بندی اور پولیس لائینز تعینات کرنے کے باوجود جنگجوئوں نے آج دھاڑے شمالی کشمیر کے سوپور قصبے میں پولیس کی ایک گشتی پارٹی پر گھات لگاکر حملہ کیا جسکے نتیجے میں پولیس کا ایک ہیڈ کانسٹیبل سمیت 2 افراد ہلاک ہوئے جبکہ گولیوں کے تبادلے میں خاتون سمیت 3 افراد زخمی ہوئی۔ حملے کے فوراً بعد پولیس ، سی آر پی ایف اور فوج کی ایک بڑی تعداد قصبے میں جا پہنچی جسکے ساتھ ہی انہوں نے جنگجوئوں کو ڈھونڈ نکالنے کےلئے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کردیا۔ اس دوران سانبہ سیکٹر میں آج سرحدی حفاظتی فورسز نے دراندازی کی ایک کوشش کو ناکام بناتے ہوئے ایک درانداز کو ہلاک کیا جبکہ مہو سیکٹر میں فوج اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے جنگجوئوں کی ایک کمین گاہ پر چھاپہ مار کر بھاری مقدار میں اسلحہ و گولی بارود برآمد کر لیا۔ ذرائع کے مطابق آج نماز جمعہ کے بعد قریب 3 بجے جنگجو اچانک مین چوک سوپور میں نمودار ہوئے جسکے ساتھ انہوں نے پولیس کی ایک گشتی پارٹی پر جدی ترین ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کی۔اس موقعہ پر پولیس نے بھی جوابی کارروائی کی اور طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ کچھ دیر تک جاری رہا جسکے نتیجے میں گولیوں کی ان گن گرج سے پورا علاقہ لرز اٹھا اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف دوڑ پڑے جبکہ مین چوک میں قائم چھاپڑی فروش اور دیگر پیشے سے وابستہ اپنی جان کی سلامتی کو یقینی بنانے کےلئے جائے واردات سے فرار ہوئے۔ گولیوں کی زد میں آکر آئی آر پی 7 بٹالین سے وابستہ ہیڈ کانسٹیبل ارشاد احمد مرزا بیلٹ نمبر 10 ، غلام حسن ڈار ولد سبحان ساکن ڈانگر پورہ ، نذیر احمد ولد حبیب اللہ ساکن شالپورہ اور پوشہ بیگم زوجہ نثار احمد شاہ ساکنہ شاہ آباد کالونی سوپور شدید زخمی ہوئے جنہیں علاج و معالجہ کی غرض سے فوری طور پر نزدیکی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ہیڈ کانسٹیبل محمد مرزا اور غلام حسن کی حالت نازک قرار دیتے ہوئے انہیں  سرینگراسپتال منتقل کرنے کی صلاح دی۔ اسپتال میں تعینات ڈاکٹروں نے اگر چہ دونوں کی جان بچانے کی ہرممکن کوشش کی تاہم ڈاکٹروں کی کوششیں اسوقت رائیگاں ثابت ہوئیں جب محمد مرزا اور غلام حسن اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے۔ ادھر جنگجوئوں نے پولیس کی گشتی پارٹی پر حملہ کرنے کیساتھ ہی راہ فرار اختیار کرلی تاہم جنگجوئوں کو ڈھونڈ نکالنے کےلئے پولیس، سی آر پی ایف اور فوج کی ایک بڑی تعداد قصبہ پہنچ گئی اور حملہ آئوروں کی تلاش کےلئے خانہ تلاشیاں بڑے پیمانے پر شروع کیں۔اطلاعات کے مطابق فورسز نے لوگوں کی زبردست مار پیٹ کی جبکہ کئی ایک رہائشی مکانوں میں فورسز کے درجنوں اہلکار زبردستی داخل ہوئے جہاں انہوں نے نہ صرف مکینوں کی مار پیٹ کی بلکہ اسباب خانہ کو بھی تہس نہس کیا۔ آخری اطلاعات ملنے تک تلاشی کارروائیاں جاری تھی اور اسی بیچ جنگجوئوں کی گرفتاری کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہ ہوئی۔دیگر زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے تاہم ان کی جان بچانے کےلئے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سوپور قصبے میں کچھ روزقبل ہی جنگجوئوں نے پولیس اسٹیشن پر گرینیڈ داغا اور بعد میں پولیس پارٹی پر زبردست فائرنگ کی جسکے نتیجے میں وہاں کئی ہلاکتیں ہوئیں۔ صورتحال سے نمٹنے کےلئے انتظامیہ نے قصبے میں پولیس لائینز کا قیام عمل میں لایا اور قصبے کے مختلف مقامات پر فورسز بینکر قائم کر لئے گئے ہیں۔ دریں اثناء سانبہ سیکٹر میں آج بین الاقوامی سرحد پر سرحدی حفاظتی فورسز نے مشکوک حالت میں مشتبہ افراد کی نقل و حرکت پائی جسکے ساتھ ہی سی آر پی ایف اہلکاروں نے مشتبہ شخص کو للکارا اور انہیں ہاتھ اُپر کرنے کےلئے کہا ۔ تاہم معلوم ہوا ہے کہ اس موقعہ مذکورہ شہری نے فرار ہونے کی کوشش کی جسکے بعد سی آر پی ایف اہلکاروں نے اس پر فائرنگ کی جسکے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی۔ ابھی تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ مارا گیا شہری جنگجو تھا یا کوئی اور تاہم فورسز کو خدشہ ہے کہ مارا گیا شہری جنگجو کےلئے بطور گائڈ کام کر رہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق مہور سیکٹر میں آج پولیس اور فوج نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے جنگجوئوں کی ایک کمین گاہ پر چھاپہ مارا جسکے دوران فورسز نے کمین گاہ میں چھپائے گئے اے کے رائفل، میگزین ، گولیوں کے 285 رائونڈ کے علاوہ دیگر اسلحہ و گولی بارود برآمد کر لیا ہے۔ پولیس نے معاملے کی نسبت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...