• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • پاکستان تنازعہ کشمیرکے فوری حل کا خواہاں

    عالمی دبائو نے بھارت کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کردیا:گیلانی
    سرینگر۵فروریکشمیر میڈےا نےٹ ورک پاکستانی وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘کے موقعہ پر کشمیریوں کی سیاسی،سفارتی اوراخلاقی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا کو مسئہ کشمیر کے فوری حل کا احساس ہوچکا ہے اوراس سلسلے میںعالمی دبائونے بھارت کومذاکرات کی میز پر آنے پرمجبور کردیا ہے۔ذرائع کے مطابقفروری کے سلسلے پاکستانی زیر انتظام کی اسمبلی اور کونسل کے ارکان سے اپنے مشترکہ خطاب میں سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ حکومت پاکستان آج کا دن اس عزم کا اعادہ کرنے کیلئے مناتی ہے کہ وہ کشمیریوں کو ان کی جدوجہد میں حماےت کرتی رہے گی ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پر امن اور منصفانہ حل کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور اس بات کی ہر سطح پر بھر پور وکالت کرتا رہے گا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کسی بھی طرح کی بات چےت میں کشمیریوں کی شمولےت کو یقینی بنایا جانا چاہئے ۔انہوں نے ارکان کو یقین دلایا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کشمیریوں کے محسن و مددگار ہیں اور یہ کہ پاکستانی عوام کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔مسٹر گےلانی نے بتاےا ’’کشمیریوں نے اپنی جدوجہد آزادی کیلئے بے پناہ قربانیاں پیں کی ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا‘‘۔انہوں نے ایک بار پھر اعلان کیاکہ وہ کشمیر میں جاری تحریک کو سفارتی،سیاسی اور اخلاقی مدد جاری رکھےںگے کیونکہ خطے میں پائیدار استحکام کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل ہونا از حد ضروری ہے۔پاکستانی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ عالمی برادری کو اب اس بات کا احساس ہو گےا ہے کہ جنوب ایشیائی خطے میں مستقل قےام امن کیلئے کشمیر مسئلہ کا حل نا گزےر ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی احساس کے پس منظر میں بےن الاقوامی دبائوکے تحت بھارت ایک بار پھر بات چےت کی میز پر آنے کیلئے مجبور ہوا ہے ۔انہوں نے حکومت پاکستان کا یہ موقف دہراےا کہ اسلام آباد نئی دلّی کے ساتھ پانی کی تقسیم اور کشمیر سمےت تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل پر امن بات چےت کے ذرےعے حل کرنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ذرائع کے مطابق’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ کی تقریبات سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے صدر راجا ذولقرنین خان اور وزیر اعظم راجا فاروق خان سے ایک اہم ملاقات کے دوران اپنے ملک کا یہ اعادہ دہرایا کہ کہ وہ کشمیر میں جاری علیحدگی پسند تحریک کو سیاسی ،سفارتی اور اخلاقی سطح پر اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا’’ ہم کشمیر کے متعلق اپنے اُصولی موقف سے ہر گز پیچھے نہیں ہٹیں گے‘‘۔ پاکستانی وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بتایا’’پاکستان کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کا فوری حل چاہتا ہے کیونکہ ایسا خطے کے امن و استحکام کے لئے انتہائی ضروری ہے‘‘۔بھارت کے ساتھ کشیدگی اور تنائو کے ذمہ دار جو بنیادی مسائل ہیں اُن میں کشمیر کے ساتھ ساتھ سرکریک اور پانی کی تقسیم کے معاملات شامل ہیں۔ انہوں نے بھارت سے بنیادی تنازعات حل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے زور دیکرکہا’’ بھارت کو چاہئے کہ وہ کشمیر،سرکریک اور پاکستان کے ساتھ پانی کی تقسیم کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے اقدامات کرے‘‘۔’’ سید یوسف رضا گیلانی نے مزید بتایا’’ان بنیادی تنازعات کو خطے میں دیر پا امن اور استحکام قائم کرنے کے لئے حل کیا جانا از حدضروری ہے‘‘۔سید یوسف رضا گیلانی نے بھارت پر زور دیا کہ وہ جامع مذاکراتی عمل بحال کرنے کے سلسلے میں سنجیدگی سے اقدامات اٹھائے۔انہوں نے کہا ’’میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ ہمارے ملک اور بھارت کو ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے لئے یر غمال نہیں بنایا جانا چاہئے اور دونوں ملکوں کو بات چیت کرنی ہی چاہئے‘‘۔مسٹر گیلانی نے بتایا ’’ایک بلین لوگوں کو ایک واقعہ کے لئے یرغمال بنانا مناسب نہیں ہے کیونکہ اگر ہم ایسا کریں گے تو اس کا فائدہ دہشت گردوں کو ہوگا اور نتیجے کے طور پر ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے‘‘۔مسٹر گےلانی نے بتاےا ’’ہم بھارت کے ساتھ کسی بھی معاملے پر بات کرنے کیلئے تےار ہیں لیکن ڈاکٹر من موہن سنگھ اپنے ملک اور وہاں کی پارلیمنٹ کے دبائو کا سامنا کر رہے ہیں جس کے نتےجے میں جامع مذاکراتی عمل رُکا پڑا ہے ‘‘۔انہوں نے پاکستانی حکومت کا یہ عزم دہرایا کہ پاکستان اپنی سر زمین کو دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا ۔دونوں ملکوں کے درمیان پس پردہ سفارتکاری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل ثمر آور ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ دونوں ملکوں کو براہ راست بات چےت کرنی چاہئے جو فائدہ مند ثابت ہو گی ۔انہوں نے کہا’’ہم مسائل کو الجھائے بغےر بات چےت کر کے ان کا ح تلاش کرنے کے حق میں ہیں ‘‘۔واضح رہے کہ پاکستان نے آج ہر سال کی طرح کشمیری عوام کے ساتھ’’یوم یکجہتی کشمیر ‘‘ منایا اور اس ضمن میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے اندر متعدد تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مذکورہ تقریبات میں مقررین نے یک زبان ہوکر مسئلہ کشمیر کے فوری حل پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ جنوب ایشیائی خطے میں پائیدار امن کے لئے ایسا ہونا بہت ضروری ہے۔

    پاکستان تنازعہ کشمیرکے فوری حل کا خواہاں عالمی دبائو نے بھارت کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کردیا:گیلانی Gسرینگر۵فروریکشمیر میڈےا نےٹ ورک پاکستانی وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘کے موقعہ پر کشمیریوں کی سیاسی،سفارتی اوراخلاقی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا کو مسئہ کشمیر کے فوری حل کا احساس ہوچکا ہے اوراس سلسلے میںعالمی دبائونے بھارت کومذاکرات کی میز پر آنے پرمجبور کردیا ہے۔ذرائع کے مطابقفروری کے سلسلے پاکستانی زیر انتظام کی اسمبلی اور کونسل کے ارکان سے اپنے مشترکہ خطاب میں سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ حکومت پاکستان آج کا دن اس عزم کا اعادہ کرنے کیلئے مناتی ہے کہ وہ کشمیریوں کو ان کی جدوجہد میں حماےت کرتی رہے گی ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پر امن اور منصفانہ حل کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور اس بات کی ہر سطح پر بھر پور وکالت کرتا رہے گا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کسی بھی طرح کی بات چےت میں کشمیریوں کی شمولےت کو یقینی بنایا جانا چاہئے ۔انہوں نے ارکان کو یقین دلایا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کشمیریوں کے محسن و مددگار ہیں اور یہ کہ پاکستانی عوام کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔مسٹر گےلانی نے بتاےا ’’کشمیریوں نے اپنی جدوجہد آزادی کیلئے بے پناہ قربانیاں پیں کی ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا‘‘۔انہوں نے ایک بار پھر اعلان کیاکہ وہ کشمیر میں جاری تحریک کو سفارتی،سیاسی اور اخلاقی مدد جاری رکھےںگے کیونکہ خطے میں پائیدار استحکام کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل ہونا از حد ضروری ہے۔پاکستانی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ عالمی برادری کو اب اس بات کا احساس ہو گےا ہے کہ جنوب ایشیائی خطے میں مستقل قےام امن کیلئے کشمیر مسئلہ کا حل نا گزےر ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی احساس کے پس منظر میں بےن الاقوامی دبائوکے تحت بھارت ایک بار پھر بات چےت کی میز پر آنے کیلئے مجبور ہوا ہے ۔انہوں نے حکومت پاکستان کا یہ موقف دہراےا کہ اسلام آباد نئی دلّی کے ساتھ پانی کی تقسیم اور کشمیر سمےت تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل پر امن بات چےت کے ذرےعے حل کرنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ذرائع کے مطابق’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ کی تقریبات سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے صدر راجا ذولقرنین خان اور وزیر اعظم راجا فاروق خان سے ایک اہم ملاقات کے دوران اپنے ملک کا یہ اعادہ دہرایا کہ کہ وہ کشمیر میں جاری علیحدگی پسند تحریک کو سیاسی ،سفارتی اور اخلاقی سطح پر اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا’’ ہم کشمیر کے متعلق اپنے اُصولی موقف سے ہر گز پیچھے نہیں ہٹیں گے‘‘۔ پاکستانی وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بتایا’’پاکستان کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کا فوری حل چاہتا ہے کیونکہ ایسا خطے کے امن و استحکام کے لئے انتہائی ضروری ہے‘‘۔بھارت کے ساتھ کشیدگی اور تنائو کے ذمہ دار جو بنیادی مسائل ہیں اُن میں کشمیر کے ساتھ ساتھ سرکریک اور پانی کی تقسیم کے معاملات شامل ہیں۔ انہوں نے بھارت سے بنیادی تنازعات حل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے زور دیکرکہا’’ بھارت کو چاہئے کہ وہ کشمیر،سرکریک اور پاکستان کے ساتھ پانی کی تقسیم کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے اقدامات کرے‘‘۔’’ سید یوسف رضا گیلانی نے مزید بتایا’’ان بنیادی تنازعات کو خطے میں دیر پا امن اور استحکام قائم کرنے کے لئے حل کیا جانا از حدضروری ہے‘‘۔سید یوسف رضا گیلانی نے بھارت پر زور دیا کہ وہ جامع مذاکراتی عمل بحال کرنے کے سلسلے میں سنجیدگی سے اقدامات اٹھائے۔انہوں نے کہا ’’میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ ہمارے ملک اور بھارت کو ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے لئے یر غمال نہیں بنایا جانا چاہئے اور دونوں ملکوں کو بات چیت کرنی ہی چاہئے‘‘۔مسٹر گیلانی نے بتایا ’’ایک بلین لوگوں کو ایک واقعہ کے لئے یرغمال بنانا مناسب نہیں ہے کیونکہ اگر ہم ایسا کریں گے تو اس کا فائدہ دہشت گردوں کو ہوگا اور نتیجے کے طور پر ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے‘‘۔مسٹر گےلانی نے بتاےا ’’ہم بھارت کے ساتھ کسی بھی معاملے پر بات کرنے کیلئے تےار ہیں لیکن ڈاکٹر من موہن سنگھ اپنے ملک اور وہاں کی پارلیمنٹ کے دبائو کا سامنا کر رہے ہیں جس کے نتےجے میں جامع مذاکراتی عمل رُکا پڑا ہے ‘‘۔انہوں نے پاکستانی حکومت کا یہ عزم دہرایا کہ پاکستان اپنی سر زمین کو دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا ۔دونوں ملکوں کے درمیان پس پردہ سفارتکاری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل ثمر آور ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ دونوں ملکوں کو براہ راست بات چےت کرنی چاہئے جو فائدہ مند ثابت ہو گی ۔انہوں نے کہا’’ہم مسائل کو الجھائے بغےر بات چےت کر کے ان کا ح تلاش کرنے کے حق میں ہیں ‘‘۔واضح رہے کہ پاکستان نے آج ہر سال کی طرح کشمیری عوام کے ساتھ’’یوم یکجہتی کشمیر ‘‘ منایا اور اس ضمن میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے اندر متعدد تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مذکورہ تقریبات میں مقررین نے یک زبان ہوکر مسئلہ کشمیر کے فوری حل پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ جنوب ایشیائی خطے میں پائیدار امن کے لئے ایسا ہونا بہت ضروری ہے۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...