• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • کراچی اور کربلا میں دھماکے ،49افرادجاں بحق

    چہلم کے جلوسوں پر حملوں کے خلاف کراچی میں ہڑتال کا اعلان
    کراچی کی شاہراہِ فیصل پر دوپے درپے دھماکوں میں 22افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ کربلا معلی میں ایک اور دھماکے میں 27عزاداروں کو قتل کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے شہر کراچی میں شیعہ عزاداروں کی ایک بس دھماکے کانشانہ بنائی گئی جس کے بعد جناح ہسپتال کے ایمرجنسی گیٹ کے قریب ایک اور دھماکے میں دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ان دو دھماکوں کے نتیجے میں بائیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔وزیر اعلیٰ کے مشیرِ اطلاعات جمیل سومرو نے میڈیا کوبتایا کہ جناح ہسپتال کے گیٹ پر دھماکے کے نتیجے میں دس افراد ہلاک اور متعداد زخمی ہوئے ہیں۔
    اس سے قبل جناح ہسپتال کے میڈیکو لیگل آفیسر ڈاکٹر کلیم شیخ نے بی بی سی کوبتایا کہ بس دھماکے کے بعد بارہ لاشیں لائی جا چکی ہیں جبکہ چالیس سے زائد افراد زخمی ہیں۔دوسرا دھماکہ اس وقت ہوا جب شاہراہِ فیصل پر بس میں ہونے والے دھماکے کے زخمیوں کو جناح ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا۔ اس دھماکے میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں جنھیں اب دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ دوسرے دھماکے کے بعد مشتعل افراد نے ہسپتا ل حکام کے خلاف نعرے بازی کی۔ مختلف تنظیموں نے ان واقعات پر احتجاج اور ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے بھی چہلم پر ہونے والے دھماکوں پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔اس سے پہلے ڈی آئی جی ساؤتھ غلام نبی میمن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ دھماکہ بس کے ساتھ موٹر سائیکل ٹکرانے سے ہوا۔ پولیس ذرائع کے مطابق جس بس کو نشانہ بنایا گیا اس میں شیعہ مسلمان سوار تھے اور ان میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔ یہ بس زائرین کو امام حسین کے چہلم کے سلسلے میں برآمد ہونے والے جلوس کی جانب لے جا رہی تھی۔دوسرے دھماکے کے بعد سندھ کے وزیرِ داخلہ ذوالفقار مرزا نے کہا کہ آج معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا گیا اور ملک کو انتشار کا شکار بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ انھوں نے شیعہ رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ ہڑتال کا فیصلہ بدل دیں کیونکہ اس سے حکومت کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔ذوالفقار مرزا نے کہا کہ جمعہ کو جو کچھ ہوا وہ کھلی دہشت گردی ہے اور افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو علم تھا کہ ہسپتال میں زخمیوں کو لایا جائے گا چنانچہ دوسرے دھماکے میں ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا۔دھماکے کے بعد شیعہ عزاداروں نے احتجاج کیا ہے۔ اس سے قبل دس محرم کو بھی شیعہ مسلمانوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ عاشورہ کے جلوس میں شریک تھے۔دوسرے دھماکے کے بعد سندھ کے وزیرِ داخلہ ذوالفقار مرزا نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں لیکن حکومت کی طرف سے ہلاک شدگان کے لیے پانچ لاکھ جبکہ زخمیوں کے لیے ایک لاکھ فی فرد ادا کیا جائے گا۔
    جس مقام پر دھماکہ ہوا ہے وہ شاہراہِ فیصل سے شاہراہِ قائدین کی طرف جانے والا موڑ کہلاتا ہے۔ڈی آئی جی ایسٹیبلشمنٹ جاوید اکبر ریاض کے مطابق ’خود کش حملہ آور نے موٹر سائکل بس کے ساتھ ٹکرا دی۔‘دھماکے کی اطلاع ملتے ہیں کراچی میں کچھ دیر کے لیے مختف شاہراؤں پر نکلے ہوئے جلوس روک دیے گئے۔امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں۔ادھر عراقی پولیس نے کہا ہے کہ کربلا کے قریب ایک بم دھماکے میں کم از کم 27 شیعہ زائرین ہلاک اور 56 زخمی ہو گئے ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ آیا یہ دھماکا کار بم کا نتیجہ تھا یا مورٹر حملے کا۔ اس ہفتے کربلا میں اربعین کے ماتم کے موقعے پر کئی دھماکے ہو چکے ہیں۔ اربعین امام حسین کی کربلا میں شہادت کے چہلم کے طور پر منایا جاتا ہے۔ بدھ کے دن ایک موٹر سائیکل بم اس وقت پھٹ گیا جب زائرین کربلا کی طرف جا رہے تھے۔ اس کے علاوہ بغداد میں دو الگ الگ واقعات میں شیعہ زائرین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں میں کم از کم 24 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے تھے۔ پیر کے روز ایک خاتون بم بار نے بغداد میں شیعہ زائرین کے مجمعے میں خود کو دھماکے سے اڑا کر کم از کم 41 افراد کو ہلاک کر دیا تھا
    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...