• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • وزیر اعلیٰ سے ملنے والے وکلاء بارایسوسی ایشن سے خارج

    شوپیان میں گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری
    سرینگر//   شوپیاں میں آج چوتھے روز بھی 1نوجوانوںکی گرفتاری کیخلاف مکمل ہڑتال رہی اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔اس دوران ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن شوپیاں نے بورڈ میٹنگ کے بعدجو وکلاء وزیر اعلی ٰسے ملے ان کا تعلق ایسو سی ایشن سے نہیں تھا بلکہ وہ نیشنل کانفرنس کے شکست خوردہ امیدواروں کے قریبی رشتہ دار تھے۔لہٰذا اس حوالے سے جو خبر شائع یا نشر ہوئی ہے وہ بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔ ذرائع کے مطابق آج شوپیاں میں چوتھے روز بھی 11نوجوانوں کی گرفتاری اور بعد میں انہیں سینٹرل جیل منتقل کر نے کیخلاف مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران تمام کاروباری ادارے اور سرکاری دفاتر ٹھپ ہو کر رہ گئے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل معطل رہی۔ نمائندے کے مطابق آج بعد نماز جمعہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور احتجاجی مظاہرے شروع کئے۔ احتجاجی مظاہرین آزادی ، اسلام اور آسیہ اور نیلو کے قاتلوں کو پیش کرنے کے نعرے بلند کررہے تھے۔ اس کے علاوہ احتجاجی نوجوان پولیس و انتظامیہ کیخلاف نعرے بازی کررہے تھے۔ اس موقعہ پر احتجاجی مظاہرین نے ذرائع ابلاغ سے وابستہ نمائندوں کو بتایا کہ چند روز قبل شوپیاں کے 11بے گناہ نوجوانوںکو گرفتار کیا گیا اور بعد میں انہیں سینٹرل جیل سرینگر منتقل کیا گیا اور انہیں خدشہ ہے کہ ان تمام نوجوانوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بک کیا گیا ہے۔ انہوںنے انتظامیہ اور حکومت کو خبردار کیا کہ اگر مذکورہ نوجوانوں کی رہائی فوری عمل میں نہیں لائی گئی تو احتجاجی مہم تیز کردی جائیگی۔ بعد میں مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہوئے۔ دراثناء ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن کے نائب صدر ایڈوکیٹ ایس ایم اقبال نے بتایا کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں بار ایسو سی ایشن شوپیاں اور وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کیساتھ حالیہ بورڈ میٹنگ کے دوران ملاقات کے حوالے سے جو خبر ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے شائع اور نشر کی گئی وہ بالکل جھوٹ اور من گھڑت ہے۔ انہوں نے انکشاف کیاکہ جو 8جونیئر وکلاء گزشتہ روز بورڈ میٹنگ میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ سے ملے ان میں سے بیشتر وکلاء نیشنل کانفرنس کے حلقہ انتخاب راجپورہ، شوپیاں اور وچی کے ان شکست خوردہ امیدواروں کے قریبی رشتہ دار ہیں جنہوںنے حالیہ اسمبلی انتخابات میں شکست سے دوچار ہوئے تھے جبکہ کئی وکلاء کئی محکموں میں سرکار کیلئے تنخواہ پر کام کررہے ہیں۔ نائب صدر نے کہا کہ جس روز شوپیاں میں بورڈ میٹنگ منعقد ہوئی اس روز تمام وکلاء مجلس مشاورت کی کال پر مکمل ہڑتال پر رہے اور اس روز سی جی ایم کورٹ، منصف کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ پر کوئی کام کاج نہیں ہوا لیکن سرکاری طور بار ایسو سی ایشن شوپیاںکا نام اخبارات اور ریڈیو ٹی وی پر نشر کرنا کشمیری عوام خاص کر شوپیاں عوام کو گمراہ کرنا اور اس کے ذریعے وکلاء کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن کے ممبران شوپیاں سانحہ میں چٹان کی طرف ڈٹے رہے اور بعد میں سی بی آئی نے ان کیخلاف چارج شیٹ بھی داخل کا اور اب نیشنل کانفرنس ضلع یونٹ شوپیاں کے کارکن وزیر اعلیٰ کو خوش کرنے اور وکلاء کی شناخت کو زک پہنچانے کیلئے ایسے حربے استعمال کررہے ہیں جن کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا۔ ایس ایم اقبال نے مزید کہا کہ جو جونئیر وکلاء وزیراعلیٰ سے ملے ان میں سے بیشتر وکلاء کو پہلے ہی نظم شکنی کی پاداش  میں ایسو سی ایشن سے نکالا گیا ہے اور اب ان تمام دیگر وکلاء کو بھی جو ایسو سی ایشن کے نام پر وزیر اعلیٰ سے ملے عنقریب سے ہی ایسو سی ایشن کی بنیادی رکنیت سے خارج کیا جائیگا۔ بار ایسو سی ایشن کے صدر نے مزیدبتایا کہ جب تک نہ آسیہ اور نیلوفر کے قاتلوں کو کیفر کردار تک نہ پہچایاجائیگا تب تک بار ایسو سی ایشن شوپیاں مجلس مشاورت اور شوپیاں کے لوگوں کیساتھ مل کر قانونی جنگ لڑنے کیلئے کمربستہ ہے۔

    وزیر اعلیٰ سے ملنے والے وکلاء بارایسوسی ایشن سے خارج شوپیان میں گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری سرینگر/فروری /کے این ایس شوپیاں میں آج چوتھے روز بھی 1نوجوانوںکی گرفتاری کیخلاف مکمل ہڑتال رہی اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔اس دوران ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن شوپیاں نے بورڈ میٹنگ کے بعدجو وکلاء وزیر اعلی ٰسے ملے ان کا تعلق ایسو سی ایشن سے نہیں تھا بلکہ وہ نیشنل کانفرنس کے شکست خوردہ امیدواروں کے قریبی رشتہ دار تھے۔لہٰذا اس حوالے سے جو خبر شائع یا نشر ہوئی ہے وہ بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔ ذرائع کے مطابق آج شوپیاں میں چوتھے روز بھی 11نوجوانوں کی گرفتاری اور بعد میں انہیں سینٹرل جیل منتقل کر نے کیخلاف مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران تمام کاروباری ادارے اور سرکاری دفاتر ٹھپ ہو کر رہ گئے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل معطل رہی۔ نمائندے کے مطابق آج بعد نماز جمعہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور احتجاجی مظاہرے شروع کئے۔ احتجاجی مظاہرین آزادی ، اسلام اور آسیہ اور نیلو کے قاتلوں کو پیش کرنے کے نعرے بلند کررہے تھے۔ اس کے علاوہ احتجاجی نوجوان پولیس و انتظامیہ کیخلاف نعرے بازی کررہے تھے۔ اس موقعہ پر احتجاجی مظاہرین نے ذرائع ابلاغ سے وابستہ نمائندوں کو بتایا کہ چند روز قبل شوپیاں کے 11بے گناہ نوجوانوںکو گرفتار کیا گیا اور بعد میں انہیں سینٹرل جیل سرینگر منتقل کیا گیا اور انہیں خدشہ ہے کہ ان تمام نوجوانوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بک کیا گیا ہے۔ انہوںنے انتظامیہ اور حکومت کو خبردار کیا کہ اگر مذکورہ نوجوانوں کی رہائی فوری عمل میں نہیں لائی گئی تو احتجاجی مہم تیز کردی جائیگی۔ بعد میں مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہوئے۔ دراثناء ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن کے نائب صدر ایڈوکیٹ ایس ایم اقبال نے بتایا کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں بار ایسو سی ایشن شوپیاں اور وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کیساتھ حالیہ بورڈ میٹنگ کے دوران ملاقات کے حوالے سے جو خبر ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے شائع اور نشر کی گئی وہ بالکل جھوٹ اور من گھڑت ہے۔ انہوں نے انکشاف کیاکہ جو 8جونیئر وکلاء گزشتہ روز بورڈ میٹنگ میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ سے ملے ان میں سے بیشتر وکلاء نیشنل کانفرنس کے حلقہ انتخاب راجپورہ، شوپیاں اور وچی کے ان شکست خوردہ امیدواروں کے قریبی رشتہ دار ہیں جنہوںنے حالیہ اسمبلی انتخابات میں شکست سے دوچار ہوئے تھے جبکہ کئی وکلاء کئی محکموں میں سرکار کیلئے تنخواہ پر کام کررہے ہیں۔ نائب صدر نے کہا کہ جس روز شوپیاں میں بورڈ میٹنگ منعقد ہوئی اس روز تمام وکلاء مجلس مشاورت کی کال پر مکمل ہڑتال پر رہے اور اس روز سی جی ایم کورٹ، منصف کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ پر کوئی کام کاج نہیں ہوا لیکن سرکاری طور بار ایسو سی ایشن شوپیاںکا نام اخبارات اور ریڈیو ٹی وی پر نشر کرنا کشمیری عوام خاص کر شوپیاں عوام کو گمراہ کرنا اور اس کے ذریعے وکلاء کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن کے ممبران شوپیاں سانحہ میں چٹان کی طرف ڈٹے رہے اور بعد میں سی بی آئی نے ان کیخلاف چارج شیٹ بھی داخل کا اور اب نیشنل کانفرنس ضلع یونٹ شوپیاں کے کارکن وزیر اعلیٰ کو خوش کرنے اور وکلاء کی شناخت کو زک پہنچانے کیلئے ایسے حربے استعمال کررہے ہیں جن کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا۔ ایس ایم اقبال نے مزید کہا کہ جو جونئیر وکلاء وزیراعلیٰ سے ملے ان میں سے بیشتر وکلاء کو پہلے ہی نظم شکنی کی پاداش  میں ایسو سی ایشن سے نکالا گیا ہے اور اب ان تمام دیگر وکلاء کو بھی جو ایسو سی ایشن کے نام پر وزیر اعلیٰ سے ملے عنقریب سے ہی ایسو سی ایشن کی بنیادی رکنیت سے خارج کیا جائیگا۔ بار ایسو سی ایشن کے صدر نے مزیدبتایا کہ جب تک نہ آسیہ اور نیلوفر کے قاتلوں کو کیفر کردار تک نہ پہچایاجائیگا تب تک بار ایسو سی ایشن شوپیاں مجلس مشاورت اور شوپیاں کے لوگوں کیساتھ مل کر قانونی جنگ لڑنے کیلئے کمربستہ ہے۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...