• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • رعناواری کے بعد برین کے معصوم کاقتل

    فائرنگ بلااشتعال :پولیس ، وزیر اعلیٰ نے تحقیقات کے احکامات صادر کئے

    سرینگر//رعناواری کے بعد آج نشاط میں مبینہ طور فورسز اہلکاروں کے ہاتھوں ایک اور طالب علم کی ہلاکت کیخلاف شہر سرینگر میں تشدد کی طوفانی لہر بھڑک اٹھی اور خبر پھیلنے کیساتھ ہی نشاط اور ملحقہ علاقوں کے مردوزن نے پر تشدد احتجاجی مظاہرے کئے اور جلوس نکال کر اس واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس موقعہ پر مشتعل جلوس کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے تعزیتی جلوس پر بھی اندھا شیلنگ کی جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ اس دوران چار روز سے معصوم وامق فاروق کی ہلاکت سے پیدا شدہ پر تنائو صورتحال کو اس ہلاکت نے مزید سلگادیا ہے جس کے بعد شہر میں امکانی مظاہروں اور گڑھ بڑ ھ سے نمٹنے کیلئے ہزاروں فورسز اہلکاروں کی تعیناتی کے علاوہ غیر اعلانیہ کرفیو زدہ علاقوں میں فورسر کو چوکنا رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ادھر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے واقعہ کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے ریاستی قائمقام چیف سیکریٹری کو ایک ہفتہ کے اندر تحقیقات رپورٹ حکومت کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق 4روز قبل وامق فاروق کی ہلاکت کے بعد شہر سرینگر میں پیداشدہ پر تنائو صورتحال میں آج اس وقت اضافہ ہوا جب برین نشاط میں بلوارڈ روڑ پر 54بٹالین سے وابستہ سی آر پی ایف اہلکاروںنے مبینہ طور اندھا دھند فائرنگ کرکے ایک طالب علم کو ہلاک کردیا۔ معلوم ہوا ہے کہ آج نماز جمعہ کے بعد برین نشاط کے تین دوست جن میں زاہد فاروق ولد فاروق احمد شاہ اور بلال احمد شامل ہیں نماز کی ادائیگی کے بعد اپنے گھروں سے تھوڑی دیر بلوارڈ روڑ پر چہل قدمی کررہے تھے کہ اسی دوران وہاں سے سی آر پی ایف اہلکاروں کا گزر ہوا جنہوںنے ان سے پوچھ تاچھ کی اور ان کا زدوکوب کیا۔ اس دوران ان طلباء اور سی آر پی ایف اہلکاروں کے مابین توتومیں میں ہوئی جو بعد میں ہاتھاپائی تک پہنچی تاہم اسی دوران سی آر پی ایف اہلکاروں نے مبینہ طو رپر اندھادھند گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں زاہد فاروق ولد فاروق احمد شاہ کی موقعہ پر ہی موت واقعہ ہوئی۔ اس سلسلے میںزاہد فاروق کے دوست بلال احمد نے بتایا کہ نماز جمعہ کے بعد معمول کی سیر کیلئے جب وہ بلوارڈ روڑ پر پہنچے تو وہاں سی آر پی ایف کی ایک ون ٹن گاڑی اور ایک جپسی کا گزر ہوا ۔ بلال احمد کے مطابق جپسی اس کے سامنے آکر رک گئی اور بلاجواز طور پر انہوںنے گالیاں دینی شروع کی اور ان پر پتھرائو کرنے کا الزام عائد کیا ۔ْا س کا کہنا تھا کہ جواب میں جب ہم نے اہلکاروں سے کہا کہ ہم پتھرائو کرنے والے نہیں بلکہ طلبا ء ہیں تو انہوںنے ہم تینوں پرٹوٹ پڑے اور اندھا دھند طریقے سے لاٹھیاں برسانے لگے۔ اس دوران انہوںنے طوفان بدتمیزی کی اور شدید زدوکوب کرکے انہوںنے ہمیں تیزی کیساتھ پیچھے دیکھنے کے بھاگنے کا حکم دیا اور جونہی ہم بھاگنے لگے تو پیچھے سے سی آر پی ایف اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں زاہد فاروق گولیاں لگنے کے نتیجے میں وہیں خون میں لت پت گر پڑا اور وہاں دیگر لوگوں کی نظر جونہی پڑی تو انہوںنے اسے اٹھاکر اسپتال لیجانے کی کوشش کی لیکن اسپتال پہنچنے سے قبل زاہد فاروق زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ بیٹھا۔ چنانچہ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرف پھیل گئی جس کے نتیجے میں برین نشاط، بلیوارڈ اور دیگر علاقوں کے ہزاروں مردوزن گھروں سے باہر آکر ہلاکت کیخلاف احتجاج کرنے لگے۔ ہزاروں کی تعداد میں مردوزن نے لاش لئے جلوس کی صورت میں بلوارڈ پہنچنے کی کوشش کی تاہم وہ لاش سمیت وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی رہائش گاہ کی طرف پیش قدمی کرنے لگے تاہم وہاں پہلے سے تعینات سی آر پی اور پولیس اہلکاروں نے انہیں پاسپورٹ دفتر کے قریب ہی بلیوارڈ روڑ پر روکا جس کے دوران مظاہرین مشتعل ہوئے اور انہوں نے فورسز اور سی آر ایف ایف کی گھیرابندی توڑنے کی کوشش کی ۔ آزادی اور اسلام کے حق میں زبردست اور فلک شگاف نعروں کے بیچ پورا بلوارڈ روڑ مظاہرین سے بھرا پڑا تھا اور لاش لئے وہ مسلسل آگے بڑھنے کی ضد کررہے تھے۔ اسی دوران مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے جلوس پر لاٹھیاں برسائی اور اندھا دھند شیلنگ کی جس کے نتیجے میں درجنوں افراد جن میں کئی خواتین بھی شامل ہیں زخمی ہوئیں۔ اس موقعہ پر پولیس اور فورسز نے لاش لئے افراد پر بھی زبردست لاٹھی چارج کیا تاہم مظاہرین منتشر ہونے کا نام بھی نہیں لے رہے تھے اور وہ مسلسل اس ضد پر تھے کہ جب تک وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ خود آکر انہیں جواب نہیں دیں گے وہ لاش کو نہیں دفنائیں گے ۔ چنانچہ دیر شام گئے تک ہزاروں لوگ لاش لئے نشاط روڑ پر دھرنے پر تھے اور وہ واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کررہے تھے۔ وہ الزام عائد کررہے تھے کہ علاقہ میں نہ کسی جگہ پتھرائو تھا اور نہ ہی کوئی تشدد کا واقعہ رونما ہوا پھر سی آر پی ایف اہلکاروں نے کس طرح معصوم طالب علم پر گولیاں چلا کر اسے ابدی نیند سلادیا۔ چنانچہ صورتحال کو کشیدہ دیکھتے ہوئے فورسز اور پولیس کی بھاری نفری کو پورے نشاط اور بلیوارڈ پر تعینات کردیا گیا ہے جہاں جگہ جگہ پر خار دھار تار بچھاکر پورے علاقے کو سیل کردیا گیا ہے۔ ادھر اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے دلی سے ہنگامی بنیادوں پر احکامات جاری کردئے ہیں کہ اس واقعہ کی فوری تحقیقات عمل میں لائی جائیگی اور اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ نے قائمقام چیف سیکریٹری کو ایک ہفتہ کے اندر واقعہ سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے اور ڈویژنل انتظامیہ کو بھی اس سلسلے میں حالات پر کڑی نگاہ رکھنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ ادھر ایس ایس پی سرینگر جاوید ریاض بیدار نے  کہا کہ نشاط علاقے میں نہ ہی پتھرائو تھا اور نہ ہی امن و قانون کا کوئی مسئلہ نہیں تھا پھر طلبہ کو کیسے گولی لگی اس کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ ادھر ڈپٹی کمشنر سرینگر مسٹر معراج الدین ککرو نے بتایا کہ اس ہلاکت کے بعد صورتحال کو قابو میں رکھنے کیلئے فوری احکامات کے تحت دفعہ 144نافذ کردیا گیا ہے ۔ اس دوران وامق فاروق کے بعد نشاط میں ہوئی ہلاکت کے بعد پورے شہر سرینگر میں تنائو کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور فورسز و پولیس کو کسی بھی امکانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہنے کو کہا گیا ہے۔ادھر حریت کانفرنس (گ) کے چیرمین سید علی شاہ گیلانی،(ع) کے چیرمین میرواعظ عمر فاروق، لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک ، جماعت اسلامی کے امیر شیخ محمد حسن اور دیگر علیحدگی پسند لیڈران نے اس ہلاکت کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ انہوںنے کہا کہ انتظامیہ فورسز کو جوابدہ بنانے میں مکمل طو رپر ناکام ہوگئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آئے روز معصوم نوجوانوں کی ہلاکت کا سلسلہ جاری ہے۔ ادھر حریت کانفرنس (گ) کے چیرمین سید علی شاہ گیلانی،(ع) کے چیرمین میرواعظ عمر فاروق، جماعت اسلامی کے امیر شیخ محمد حسن اور دیگر علیحدگی پسند لیڈران نے اس ہلاکت کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ انہوںنے کہا کہ انتظامیہ فورسز کو جوابدہ بنانے میں مکمل طو رپر ناکام ہوگئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آئے روز معصوم نوجوانوں کی ہلاکت کا سلسلہ جاری ہے۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...