• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • شہر میں غیر اعلانیہ کرفیو

    فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میںدرجنوں مضروب
    سرینگر/4فروری//   معصوم وامق فاروق کے چہارم کے موقعہ پر پوری وادی میں ہمہ گیر ہڑتال کے بیچ امکانی مظاہروں اور سنگباری کو روکنے کےلئے پائین شہر ،مائسمہ اور بٹہ مالو میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ رہا جسکے نتیجے میں شہرخاص میں سخت ترین ناکہ بندیوں کے باعث ہو کا عالم رہا جبکہ جامع مسجد سرینگر کو سیل کرنے کے علاوہ درجنوں افراد کو نقل و حرکت کی پاداش میں لہولہان کردیا گیا جن میں ایک امام مسجد ، 2 بھائی ، ایک نانوائی اور نصف درجن خواتین بھی شامل ہےں ۔ادھر ٹینگ پورہ بمنہ، نٹی پورہ، چھتہ بل، پادشاہی باغ، سونہ وار ، لاوے پورہ ، مانچھوا باغ مہتاب اوربارہمولہ و کپوارہ میں بھی سنگباری کے نتیجے میں 25 افراد زخمی ہوئے ۔ اس دوران پورے شہر میں حفاظت کے غیر معمولی انتظامات کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں فورسز اور پولیس اہلکاروں کو امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کےلئے تیاری کی حالت میں رہنے کو کہا گیا ہے۔ اس دوران آئی جی کشمیر نے کہا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ ذرائع کے مطابق چار روز قبل پولیس اہلکاروں کی شلنگ سے رعناواری کا معصوم وامق فاروق جاں بحق ہوا اور پچھلے تین روز کے دوران وادی میں حالات پُر تنائو رہے جسکے بیچ زبردست جھڑپوں میں 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران آج وامق فاروق کے چہارم کے موقعہ پر امکانی مظاہروں اور سنگبازوں کو روکنے کےلئے پائین شہر میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ رہا حالانکہ پہلے ہی ضلع انتظامیہ نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کےلئے دفعہ144 نافذ کر رکھا تھا۔ تاہم کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کےلئے غیر اعلانیہ کرفیو کے نفاذ کیساتھ ساتھ ناکہ بندی کی سختیاں پورے شہر خاص میں اسقدر تھیں کہ وہاں دن میں الو بولتے نظر آرہے تھے اور گلی کوچوں تک کو بھی خار دار تار سے سیل کردیا گیا تھا۔ رعناواری میں وامق فاروق کی رہائش گاہ پر جانے والے تمام راستوں کو سیل کردیا گیا تھا وہیں کسی کو بھی چلنے پھرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا جبکہ پولیس و فورسز کے ہزاروں اہلکار وہاں صورتحال کو قابو میں رکھنے کےلئے تعینات کئے گئے تھے۔ فورسز کی بھاری کمک کے بیچ اگر چہ کئی مقامات پر سنگبازوں نے فورسز پر سنگباری کرنے کی کوشش کی لیکن آج فورسز اہلکاروں نے زبردست سختی برتی اور عینی شاہدین کے مطابق درجنوں افراد کو نقل و حرکت کی پاداش میں لہولہان کردیا گیا ۔اس دوران مائسمہ اور بٹہ مالو میں پچھلے تین روز کے دوران جاری رہنے والی سنگباری کے پیش نظر امکانی مظاہروں کو روکنے کےلئے غیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیاتھا اور مائسمہ کے اندرونی گلی کوچوں کو کل شام سے ہی سیل کردیا گیا تھا اور سی آر پی ایف کے خواتین دستے بھی وہاں تعینات کئے گئے تھے۔ یہی صورتحال بٹہ مالو کے اندرونی علاقوں میں بھی تھی جہاں سینکڑوں کی تعداد میں فورسز اور پولیس اہلکاروں نے گلی کوچوں کی ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ کسی کو بھی چلنے پھرنے کی اجازت نہیں تھی اور لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے۔ معلوم ہوا ہے کہ آج صبح نوہٹہ چوک میں امام مسجد کی شدید پٹائی کی گئی اور اس کا بازو توڑ دیا گیا جبکہ اس کے ڈرائیور کو لہولہان کیا گیاجبکہ سخت ترین ناکہ بندی کے باعث مہاراج گنج اور شہر خاص کے دیگر علاقوں میں صبح سویرے نمازیوں کو مسجد جانے کی اجازت نہیں ملی اور کئی مقامات پر نمازیوں کی بھی مار پیٹ کی گئی۔ سبزی ، روٹی اور دودھ لانے کےلئے بھی لوگوں کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ اسی طرح لام محلہ رعناواری میں مقامی لوگوں کے مطابق فورسز اہلکار دن دھاڑے گھروں میں گھس گئے اور وہاں اندھا دھند طریقے پر مکینوں کی مار پیٹ کی جسکے نتیجے میں شبیر احمد ڈار و فاروق احمد ڈار پسران غلام محمد کی شدید مارپیٹ کی گئی جس کی وجہ سے ان کے جسم سے خون بہنے لگا ۔ تاہم جب انہیں لواحقین نے اسپتال لیجانے کی کوشش کی تو بقول ان کے فورسز اہلکاروں نے انہیں اسپتال لیجانے کی بھی اجازت نہیں دی اور اجازت طلب کئے جانے پر لاٹھیاں برسائی گئیں اور دوبارہ فورسز اہلکاروں نے رہائشی مکان پر دھاوا بول کر شیشے چکناچور کئے۔ ادھر پادشاہ باغ ،نٹی پورہ، سونہ وار علاقوں میں بھی آج دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سنگبازوں نے فورسز پر دھاوا بولنے کی کوشش کی جسکے نتیجے میں فورسز اہلکاروں نے ان پر شدید لاٹھی چارج کیا جسکے دوران نصف درجن نوجوان زخمی ہوئے۔ ادھر ٹینگ پورہ بائے پاس اور بمنہ کے علاوہ چھتہ بل ، نٹی پورہ ، پادشاہی باغ اور مگر مل باغ میں بھی سنگباز نمودار ہوئے تاہم فورسز اہلکاروں نے وہاں مقامی لوگوں کے مطابق زبردست توڑ پھوڑ کی ۔ ٹینگ پورہ بائے پاس کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ فورسز اہلکار دن دھاڑے زبردستی گھروں میں داخل ہوئے اور وہاں موجود نوجوانوں کی پٹائی شروع کردی اور افراد خانہ کے بیچ بچائو کے دوران اندھا دھند طریقے سے سی آر پی ایف اہلکاروں نے بلالحاظ عمر وجنس پٹائی کا سلسلہ شروع کردیا جسکے نتیجے میں نصف درجن خواتین بھی زخمی ہوئیں۔ تاہم اس موقعہ پر گھروں میں بیٹھے 8 نوجوانوں کو فورسز اور پولیس اہلکارگرفتار کرکے لے گئے جن میں نثار احمد بٹ، عادل احمد اور بلال احمد شامل ہیں۔ چنانچہ ان گرفتاریوں کےخلاف وہاں مردوزن گھروں سے باہر آئے اور اس کےخلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ تاہم فورسز اہلکاروں نے ان کے جلوس نکالنے کی کوشش ناکام بنانے کے لئے ان پر لاٹھی چار ج کیا۔ اس دوران لائوے پورہ نارہ بل میں نوجوانوں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی تھی اور اس دوران وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں کی چیکنگ کے دوران وہ شناختی کارڈ چک کررہے تھے اور پولیس اہلکاروں کوتلاش کررہے تھے۔ اس دوران چھتہ بل علاقے میں بھی نوجوانوں نے سخت ترین ناکہ بندیوں کی پرواہ کئے بغیر سڑکوں پر آنے کی کوشش اور فورسز کو نشانہ بنایا ۔ تاہم فورسز اہلکاروں نے انہیں فوری طور پر لاٹھی چارج کرکے منتشر کردیا۔ دریں اثنائ پائین شہر میں جامع مسجد مکمل طور پر سیل رہی جبکہ حضرت مخدوم صاحب ؒ کی زیارت پر بھی زائرین نہیں پہنچ سکے۔اس دوران پائین شہر کیساتھ ساتھ وسطی شہر میں بھی زبردست ناکہ بندی تھی جبکہ شہر سرینگر سمیت پوری وادی میں ہمہ گیر ہڑتال سے زندگی پہیہ جام ہوکر رہ گیا۔ ہڑتال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سڑکوں پر ٹریفک غائب تھا اور سڑکیں ویران اور سنسان دکھائی پڑ رہی تھیں جبکہ صورہ انسٹی چیوٹ اور دیگر اسپتالوں سے وابستہ عملے کو بھی شدید پریشانیوں کا سامنا رہا وہیں سرکاری دفاتر اور کاروباری مراکز بھی متاثر ہوئے۔ ادھر ضلع صدر مقامات اننت ناگ، پلوامہ، شوپیاں، بارہمولہ، سوپور، کپوارہ ، بانڈی پورہ، بڈگام ، گاندربل اور دیگر قصبوں میں بھی ہڑتال رہی۔ ادھر کپوارہ میں آج صبح سویرے سنگباز نمودار ہوئے اور انہوں نے دکانوں اور گاڑیوں پر پتھرائو شروع کیا جسکے ساتھ ہی آناً فاناً قصبے میں دکانیں بند ہوئیں اور افرا تفری کا ماحول قائم ہوا جسکے ساتھ ہی پورا بازار بند ہوا اور دن بھر سڑکوں پر سناٹا چھایا رہا۔ اس دوران بارہمولہ اور سوپور میں بھی مکمل بند رہا جبکہ بارہمولہ میں سنگبازوں نے اپنی موجودگی کا احساس دلانے کےلئے سیمنٹ پُل پر پولیس کو نشانہ بنانے کی کوشش تاہم پولیس نے ان کی کوشش ناکام بنادی۔ وادی بھر میں کسی بھی امکانی صورتحال سے نمٹنے کےلئے فورسز و پولیس کو تیاری کی حالت میں رکھا گیا ہے جبکہ شہر سرینگر میں ہزاروں کی تعداد میں فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے اور دن بھر سڑکوں پر صرف فورسز اور پولیس اہلکار ہی نظر آئے۔ اس دوران صورتحال کو قابو میں رکھنے کےلئے غیر اعلانیہ کرفیو ، سخت ترین ناکہ بندیاں اور قدغن عائد کئے جانے کیساتھ ساتھ علیحدگی پسند لیڈران کے گرد بھی شکنجہ کسا گیا تھا جسکے نتیجے میں حریت کانفرنس (ع) کے چیئر مین میر واعظ عمر فاروق کو گھر میں نظر بند کردیا گیا جبکہ شبیر احمد شاہ سمیت نصف درجن علیحدگی پسند لیڈران کو گرفتار کرلیا گیا جن میں فردوس احمد شاہ بھی شامل ہیں۔ ادھر آج پولیس نے قریب ایک درجن نوجوانوں کو سنگباری کی پاداش میں گرفتار کر لیا ۔ اس دوران آئی جی کشمیر نے کہا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیااور حالات معمول پر آرہے ہیں ۔

    شہر میں غیر اعلانیہ کرفیوفورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میںدرجنوں مضروب  سرینگر/4فروری /کے این ایس/ معصوم وامق فاروق کے چہارم کے موقعہ پر پوری وادی میں ہمہ گیر ہڑتال کے بیچ امکانی مظاہروں اور سنگباری کو روکنے کےلئے پائین شہر ،مائسمہ اور بٹہ مالو میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ رہا جسکے نتیجے میں شہرخاص میں سخت ترین ناکہ بندیوں کے باعث ہو کا عالم رہا جبکہ جامع مسجد سرینگر کو سیل کرنے کے علاوہ درجنوں افراد کو نقل و حرکت کی پاداش میں لہولہان کردیا گیا جن میں ایک امام مسجد ، 2 بھائی ، ایک نانوائی اور نصف درجن خواتین بھی شامل ہےں ۔ادھر ٹینگ پورہ بمنہ، نٹی پورہ، چھتہ بل، پادشاہی باغ، سونہ وار ، لاوے پورہ ، مانچھوا باغ مہتاب اوربارہمولہ و کپوارہ میں بھی سنگباری کے نتیجے میں 25 افراد زخمی ہوئے ۔ اس دوران پورے شہر میں حفاظت کے غیر معمولی انتظامات کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں فورسز اور پولیس اہلکاروں کو امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کےلئے تیاری کی حالت میں رہنے کو کہا گیا ہے۔ اس دوران آئی جی کشمیر نے کہا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ ذرائع کے مطابق چار روز قبل پولیس اہلکاروں کی شلنگ سے رعناواری کا معصوم وامق فاروق جاں بحق ہوا اور پچھلے تین روز کے دوران وادی میں حالات پُر تنائو رہے جسکے بیچ زبردست جھڑپوں میں 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران آج وامق فاروق کے چہارم کے موقعہ پر امکانی مظاہروں اور سنگبازوں کو روکنے کےلئے پائین شہر میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ رہا حالانکہ پہلے ہی ضلع انتظامیہ نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کےلئے دفعہ144 نافذ کر رکھا تھا۔ تاہم کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کےلئے غیر اعلانیہ کرفیو کے نفاذ کیساتھ ساتھ ناکہ بندی کی سختیاں پورے شہر خاص میں اسقدر تھیں کہ وہاں دن میں الو بولتے نظر آرہے تھے اور گلی کوچوں تک کو بھی خار دار تار سے سیل کردیا گیا تھا۔ رعناواری میں وامق فاروق کی رہائش گاہ پر جانے والے تمام راستوں کو سیل کردیا گیا تھا وہیں کسی کو بھی چلنے پھرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا جبکہ پولیس و فورسز کے ہزاروں اہلکار وہاں صورتحال کو قابو میں رکھنے کےلئے تعینات کئے گئے تھے۔ فورسز کی بھاری کمک کے بیچ اگر چہ کئی مقامات پر سنگبازوں نے فورسز پر سنگباری کرنے کی کوشش کی لیکن آج فورسز اہلکاروں نے زبردست سختی برتی اور عینی شاہدین کے مطابق درجنوں افراد کو نقل و حرکت کی پاداش میں لہولہان کردیا گیا ۔اس دوران مائسمہ اور بٹہ مالو میں پچھلے تین روز کے دوران جاری رہنے والی سنگباری کے پیش نظر امکانی مظاہروں کو روکنے کےلئے غیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیاتھا اور مائسمہ کے اندرونی گلی کوچوں کو کل شام سے ہی سیل کردیا گیا تھا اور سی آر پی ایف کے خواتین دستے بھی وہاں تعینات کئے گئے تھے۔ یہی صورتحال بٹہ مالو کے اندرونی علاقوں میں بھی تھی جہاں سینکڑوں کی تعداد میں فورسز اور پولیس اہلکاروں نے گلی کوچوں کی ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ کسی کو بھی چلنے پھرنے کی اجازت نہیں تھی اور لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے۔ معلوم ہوا ہے کہ آج صبح نوہٹہ چوک میں امام مسجد کی شدید پٹائی کی گئی اور اس کا بازو توڑ دیا گیا جبکہ اس کے ڈرائیور کو لہولہان کیا گیاجبکہ سخت ترین ناکہ بندی کے باعث مہاراج گنج اور شہر خاص کے دیگر علاقوں میں صبح سویرے نمازیوں کو مسجد جانے کی اجازت نہیں ملی اور کئی مقامات پر نمازیوں کی بھی مار پیٹ کی گئی۔ سبزی ، روٹی اور دودھ لانے کےلئے بھی لوگوں کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ اسی طرح لام محلہ رعناواری میں مقامی لوگوں کے مطابق فورسز اہلکار دن دھاڑے گھروں میں گھس گئے اور وہاں اندھا دھند طریقے پر مکینوں کی مار پیٹ کی جسکے نتیجے میں شبیر احمد ڈار و فاروق احمد ڈار پسران غلام محمد کی شدید مارپیٹ کی گئی جس کی وجہ سے ان کے جسم سے خون بہنے لگا ۔ تاہم جب انہیں لواحقین نے اسپتال لیجانے کی کوشش کی تو بقول ان کے فورسز اہلکاروں نے انہیں اسپتال لیجانے کی بھی اجازت نہیں دی اور اجازت طلب کئے جانے پر لاٹھیاں برسائی گئیں اور دوبارہ فورسز اہلکاروں نے رہائشی مکان پر دھاوا بول کر شیشے چکناچور کئے۔ ادھر پادشاہ باغ ،نٹی پورہ، سونہ وار علاقوں میں بھی آج دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سنگبازوں نے فورسز پر دھاوا بولنے کی کوشش کی جسکے نتیجے میں فورسز اہلکاروں نے ان پر شدید لاٹھی چارج کیا جسکے دوران نصف درجن نوجوان زخمی ہوئے۔ ادھر ٹینگ پورہ بائے پاس اور بمنہ کے علاوہ چھتہ بل ، نٹی پورہ ، پادشاہی باغ اور مگر مل باغ میں بھی سنگباز نمودار ہوئے تاہم فورسز اہلکاروں نے وہاں مقامی لوگوں کے مطابق زبردست توڑ پھوڑ کی ۔ ٹینگ پورہ بائے پاس کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ فورسز اہلکار دن دھاڑے زبردستی گھروں میں داخل ہوئے اور وہاں موجود نوجوانوں کی پٹائی شروع کردی اور افراد خانہ کے بیچ بچائو کے دوران اندھا دھند طریقے سے سی آر پی ایف اہلکاروں نے بلالحاظ عمر وجنس پٹائی کا سلسلہ شروع کردیا جسکے نتیجے میں نصف درجن خواتین بھی زخمی ہوئیں۔ تاہم اس موقعہ پر گھروں میں بیٹھے 8 نوجوانوں کو فورسز اور پولیس اہلکارگرفتار کرکے لے گئے جن میں نثار احمد بٹ، عادل احمد اور بلال احمد شامل ہیں۔ چنانچہ ان گرفتاریوں کےخلاف وہاں مردوزن گھروں سے باہر آئے اور اس کےخلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ تاہم فورسز اہلکاروں نے ان کے جلوس نکالنے کی کوشش ناکام بنانے کے لئے ان پر لاٹھی چار ج کیا۔ اس دوران لائوے پورہ نارہ بل میں نوجوانوں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی تھی اور اس دوران وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں کی چیکنگ کے دوران وہ شناختی کارڈ چک کررہے تھے اور پولیس اہلکاروں کوتلاش کررہے تھے۔ اس دوران چھتہ بل علاقے میں بھی نوجوانوں نے سخت ترین ناکہ بندیوں کی پرواہ کئے بغیر سڑکوں پر آنے کی کوشش اور فورسز کو نشانہ بنایا ۔ تاہم فورسز اہلکاروں نے انہیں فوری طور پر لاٹھی چارج کرکے منتشر کردیا۔ دریں اثنائ پائین شہر میں جامع مسجد مکمل طور پر سیل رہی جبکہ حضرت مخدوم صاحب ؒ کی زیارت پر بھی زائرین نہیں پہنچ سکے۔اس دوران پائین شہر کیساتھ ساتھ وسطی شہر میں بھی زبردست ناکہ بندی تھی جبکہ شہر سرینگر سمیت پوری وادی میں ہمہ گیر ہڑتال سے زندگی پہیہ جام ہوکر رہ گیا۔ ہڑتال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سڑکوں پر ٹریفک غائب تھا اور سڑکیں ویران اور سنسان دکھائی پڑ رہی تھیں جبکہ صورہ انسٹی چیوٹ اور دیگر اسپتالوں سے وابستہ عملے کو بھی شدید پریشانیوں کا سامنا رہا وہیں سرکاری دفاتر اور کاروباری مراکز بھی متاثر ہوئے۔ ادھر ضلع صدر مقامات اننت ناگ، پلوامہ، شوپیاں، بارہمولہ، سوپور، کپوارہ ، بانڈی پورہ، بڈگام ، گاندربل اور دیگر قصبوں میں بھی ہڑتال رہی۔ ادھر کپوارہ میں آج صبح سویرے سنگباز نمودار ہوئے اور انہوں نے دکانوں اور گاڑیوں پر پتھرائو شروع کیا جسکے ساتھ ہی آناً فاناً قصبے میں دکانیں بند ہوئیں اور افرا تفری کا ماحول قائم ہوا جسکے ساتھ ہی پورا بازار بند ہوا اور دن بھر سڑکوں پر سناٹا چھایا رہا۔ اس دوران بارہمولہ اور سوپور میں بھی مکمل بند رہا جبکہ بارہمولہ میں سنگبازوں نے اپنی موجودگی کا احساس دلانے کےلئے سیمنٹ پُل پر پولیس کو نشانہ بنانے کی کوشش تاہم پولیس نے ان کی کوشش ناکام بنادی۔ وادی بھر میں کسی بھی امکانی صورتحال سے نمٹنے کےلئے فورسز و پولیس کو تیاری کی حالت میں رکھا گیا ہے جبکہ شہر سرینگر میں ہزاروں کی تعداد میں فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے اور دن بھر سڑکوں پر صرف فورسز اور پولیس اہلکار ہی نظر آئے۔ اس دوران صورتحال کو قابو میں رکھنے کےلئے غیر اعلانیہ کرفیو ، سخت ترین ناکہ بندیاں اور قدغن عائد کئے جانے کیساتھ ساتھ علیحدگی پسند لیڈران کے گرد بھی شکنجہ کسا گیا تھا جسکے نتیجے میں حریت کانفرنس (ع) کے چیئر مین میر واعظ عمر فاروق کو گھر میں نظر بند کردیا گیا جبکہ شبیر احمد شاہ سمیت نصف درجن علیحدگی پسند لیڈران کو گرفتار کرلیا گیا جن میں فردوس احمد شاہ بھی شامل ہیں۔ ادھر آج پولیس نے قریب ایک درجن نوجوانوں کو سنگباری کی پاداش میں گرفتار کر لیا ۔ اس دوران آئی جی کشمیر نے کہا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیااور حالات معمول پر آرہے ہیں ۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...