• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • شوپیان کے نظر بند سینٹرل جیل منتقل

    سرینگر // شوپیاں میں پولیس نے آج سنگبازی کے الزام میں 11 نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لاکر انہیں براہ راست سرینگر سینٹرل جیل منتقل کردیا جسکے خلاف شوپیاں قصبہ میں آج بطور احتجاج ہڑتال رہی اور پولیس و مظاہرین کے مابین جھڑپیں ہوئیں جبکہ آج پولیس نے نوہٹہ ، مائسمہ اور دیگر علاقوں سے گرفتار کئے گئے 9 سنگبازوں کی عدالت میں ریمانڈ حاصل کی۔ اس دوران مجلس مشاورت نے آج اعلان کیا کہ 5 فروری بروز جمعتہ المبارک کو قصبے میں کوئی ہڑتال نہیں ہوگی۔ ذرائع کے مطابق شوپیاں قصبہ میں آج اسوقت صورتحال خراب ہوئی جب علاقے میں پولیس اہلکاروں نے چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران پے در پے 11 نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی جن کے بارے میں پولیس نے الزام عائد کیا کہ انہوں نے قصبے میں پولیس پر زبردست پتھرائو کیا اور وہ بڑھ چڑھ کر سنگبازی میں حصہ لے رہے ہیں جس کی وجہ سے امن و قانون کی صورتحال تباہ ہو کر رہ جاتی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے گوہر احمد ملک ولد محمد یوسف، اعتماد شکیل ولد محمد شکیل ساکنہ شاہ لٹو شوپیاں، ساحل احمد ملک ولد عبدالحمید ساکنہ باگندر شوپیاں، عادل میر ولد مشتاق احمد ساکنہ گاگر ن شوپیاں، عادل مشتاق خان ولد مشتاق احمد ساکنہ ٹنگ محلہ شوپیاں، عرفان گندرو ولد محمد سید ساکنہ جان محلہ، روف شیخ ولد منظور ساکنہ کنی پورہ شوپیاں، نذیر احمد پرے ولد غلام محمد ساکنہ بدرہامہ شوپیاں، رئیس احمد ملک ولد منظور ساکنہ بونہ گام، اعجاز احمد سوداگر ولد غلام احمد ساکنہ شوپیاںاور قاسم منگنوولد عبدالقیوم ساکنہ شابان شاہ محلہ شوپیاں کی گرفتاری عمل میں لائی چنانچہ گرفتاریوں کی خبر پھیلتے ہی پورے شوپیاں قصبے میں سنسنی پھیل گئی اور لوگ ان گرفتاریوں کےخلاف احتجاج کرنے لگے۔ احتجاج کرنے والے الزام عائد کررہے تھے کہ پولیس اہلکاروں نے مسجد کے حمام میں بیٹھے بے گناہ نوجوانوں کو چھاپوں کے دوران گرفتار کر لیا جبکہ راہ چلتے نوجوانوں کو بھی زبردستی گرفتار کرکے انہیں سنگبازی کے الزام میں حراست میں لے لیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس جان بوجھ کر امن و قانون کی صورتحال خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں چنانچہ پورے قصبے میں آج بطور احتجاج مکمل ہڑتال رہی جسکے دوران نوجوانوں کی ٹولیوں نے ان گرفتاریوں کےخلاف احتجاج کیا جو پُر تشدد مظاہروں میں تبدیل ہوئے۔ نوجوانوں نے پولیس پر پتھرائو کیا پولیس نے جواب میں لاٹھی چارج کی ۔ تاہم گرفتار شدگان کو حراست میں لینے کے فوراً بعد سرینگر کے سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا اور ان کےخلاف باضابطہ طور پر کیس درج کرلئے گئے ہیں۔ ادھر ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر شبیر احمدشاہ نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہو ں نے یہ گرفتاریاں معزز مقامی شہریوں کو اعتماد میں لینے کے بعد عمل میں لائی ہیں کیونکہ ان نوجوانوں کے بارے میں پولیس کو پختہ ثبوت ہیں کہ وہ سنگبازی میں پیش پیش رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں جو سنگبازی ہوئی پولیس نے سول وردی میںملبوس پولیس اہلکاروں کو سنگبازوں کی نشاندہی کےلئے ان کے بیچ رکھا تھا اور ان کی نشاندہی کے بعد ہی یہ سلسلہ شروع کردیا گیا ہے اور ان نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔ ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر نے کہا کہ پولیس نے بلا وجہ کسی بھی نوجوان کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی۔ ان کا کہنا تھا کہ سنگبازی کی وجہ سے قصبے میں امن و قانون کی صورتحال خراب ہوجاتی ہے اور عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ ادھر آج نوہٹہ، مائسمہ اور دیگر علاقوں سے گرفتار کئے گئے نو عمر سنگبازوں جن میں بشارت احمد وانی، عمر دیوا، معراج الدین ، اعجاز احمد ڈار ساکنان سید پورہ عید گاہ، عزیز احمد کمار ساکنہ رعناواری سوئیہ ٹینگ، ریاض احمد ریشی کے علاوہ رفیق احمد گنائی کو عدالت میں پیش کرکے انہیں مزید چار روز کی ریمانڈ پر لے لیا۔ اس سلسلے میں جنرل سیکریٹری بار ایسو سی ایشن نے کے این ایس کو بتایا کہ یہ نو عمر لڑکے ہیں اور انہیں جیل کے بجائے جونائل ہوم میں رکھنا تھا پولیس نے خلاف قانون انہیں حراست میں لے رکھا ہے۔ اس دوران مجلس مشاورت کے صدر عبدالرشید دلال نے 5 فروری کو قصبے میں کسی بھی طرح کی ہڑتالی کال سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 5 فروری کو قصبے میں کسی قسم کی کوئی ہڑتال کال نہیں دی گئی ہے تاہم 4 فروری کو جو سول کرفیو کی کال دی گئی ہے وہ برقرار ہے۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...