• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • گلگت بلتستان ریاست جموں وکشمیر کاحصہ :راجہ فاروق حیدر

    پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حید رخان نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان مملکت پاکستان کا آئینی حصہ نہیں بلک ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے اور جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا،اس خطے کی آئینی اورجغرافیائی حیثیت کا تعین نہیں کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے ماضی کی کوتاہیوں کے لئے گلگت بلتستان کے عوام سے معافی مانگتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر ان علاقوں کو ’’آزاد کشمیر‘‘ سے الگ رکھنا ضروری ہے تو عوام کے آئینی حقوق کی بحالی کے لئے گورنر اور وزیراعلیٰ کے بجائے صدر اور وزیر اعظم کے عہدے تخلیق کئے جائیں۔ذرائع کے مطابق سرحد پار کشمیر کے  وزیر اعظم راجہ فاروق حید رخان  اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ سوموار کواسلام آباد پاکستان کے کشمیر ہائوس میں ایک دوسرے سے ملاقی ہوئے۔دونوں لیڈران کے درمیان ہونے والی پہلی باضابطہ ملاقات میں دونوں اطراف کی قیادت کے درمیان گلگت بلتستان کی آئینی اورجغرافیائی حیثیت کے بارے میں کوئی اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا۔اس موقعہ پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے ان علاقوں کے ریاست جموں وکشمیر کا حصہ نہ ہونے کے حوالے سے اپناروایتی موقف دہرایا جبکہ وزیر اعظم راجہ فاروق خان اور دیگر قائدین نے تاریخی حوالوں سے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ یہ علاقے’ متنازعہ‘ ریاست جموں وکشمیر کا حصہ ہیں اور ان کی حیثیت کا تعین تنازعہ کشمیر کے حل سے قبل ممکن نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم’’ آزاد کشمیر‘‘ اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے درمیان ملاقات میں راجہ فاروق حیدر خان اور دیگر کشمیری قیادت نے اپنا موقف دہرایا کہ یہ علاقے ریاست جموں وکشمیر کا حصہ ہیں اور ان کی آئینی اور جغرافیائی حیثیت کا تعین مسئلہ کشمیر کے حل سے قبل ممکن نہیں۔ راجہ فاروق حیدر نے سید مہدی شاہ اور ان کے وفد پر واضح کیا کہ کشمیری عوام اور حکمران گلگت بلتستان کے عوام کو ملنے والے جمہوری نظام اور حقوق کے مخالف نہیں،’’بلکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ان علاقوں کو اس سے بڑھ کر حقوق ملنے چاہیں اور ہمارا موقف ہے کہ ان علاقوں کو اگر’ آزاد کشمیر‘ سے الگ رکھنا ضروری ہے تو پھر وہاں گورنر اور وزیر اعلیٰ کی بجائے صدر اور وزیر اعظم کے عہدے تخلیق کئے جائیں کیونکہ یہ علاقے مملکت پاکستان کا آئینی حصہ نہیں‘‘۔ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے اس موقعہ پر اپنا موقف دو ٹوک اندا زمیں پیش کیا کہ وہ گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر کا حصہ نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا’’آزادی کے بعد ان علاقوں نے اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ کر دیا تھا‘‘۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کشمیری قیادت نے ماضی میںگلگت بلتستان کے عوام کے مسائل اور حقوق کو نظر انداز کئے رکھا اور اب حقوق ملنے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔

    گلگت بلتستان ریاست جموں وکشمیر کاحصہ :راجہ فاروق حیدرتنازعہ کشمیر کے حل کے بغیر جغرافیائی حدود کاتعین کرنا ممکن نہیں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حید رخان نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان مملکت پاکستان کا آئینی حصہ نہیں بلک ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے اور جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا،اس خطے کی آئینی اورجغرافیائی حیثیت کا تعین نہیں کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے ماضی کی کوتاہیوں کے لئے گلگت بلتستان کے عوام سے معافی مانگتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر ان علاقوں کو ’’آزاد کشمیر‘‘ سے الگ رکھنا ضروری ہے تو عوام کے آئینی حقوق کی بحالی کے لئے گورنر اور وزیراعلیٰ کے بجائے صدر اور وزیر اعظم کے عہدے تخلیق کئے جائیں۔ذرائع کے مطابق سرحد پار کشمیر کے  وزیر اعظم راجہ فاروق حید رخان  اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ سوموار کواسلام آباد پاکستان کے کشمیر ہائوس میں ایک دوسرے سے ملاقی ہوئے۔دونوں لیڈران کے درمیان ہونے والی پہلی باضابطہ ملاقات میں دونوں اطراف کی قیادت کے درمیان گلگت بلتستان کی آئینی اورجغرافیائی حیثیت کے بارے میں کوئی اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا۔اس موقعہ پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے ان علاقوں کے ریاست جموں وکشمیر کا حصہ نہ ہونے کے حوالے سے اپناروایتی موقف دہرایا جبکہ وزیر اعظم راجہ فاروق خان اور دیگر قائدین نے تاریخی حوالوں سے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ یہ علاقے’ متنازعہ‘ ریاست جموں وکشمیر کا حصہ ہیں اور ان کی حیثیت کا تعین تنازعہ کشمیر کے حل سے قبل ممکن نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم’’ آزاد کشمیر‘‘ اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے درمیان ملاقات میں راجہ فاروق حیدر خان اور دیگر کشمیری قیادت نے اپنا موقف دہرایا کہ یہ علاقے ریاست جموں وکشمیر کا حصہ ہیں اور ان کی آئینی اور جغرافیائی حیثیت کا تعین مسئلہ کشمیر کے حل سے قبل ممکن نہیں۔ راجہ فاروق حیدر نے سید مہدی شاہ اور ان کے وفد پر واضح کیا کہ کشمیری عوام اور حکمران گلگت بلتستان کے عوام کو ملنے والے جمہوری نظام اور حقوق کے مخالف نہیں،’’بلکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ان علاقوں کو اس سے بڑھ کر حقوق ملنے چاہیں اور ہمارا موقف ہے کہ ان علاقوں کو اگر’ آزاد کشمیر‘ سے الگ رکھنا ضروری ہے تو پھر وہاں گورنر اور وزیر اعلیٰ کی بجائے صدر اور وزیر اعظم کے عہدے تخلیق کئے جائیں کیونکہ یہ علاقے مملکت پاکستان کا آئینی حصہ نہیں‘‘۔ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے اس موقعہ پر اپنا موقف دو ٹوک اندا زمیں پیش کیا کہ وہ گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر کا حصہ نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا’’آزادی کے بعد ان علاقوں نے اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ کر دیا تھا‘‘۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کشمیری قیادت نے ماضی میںگلگت بلتستان کے عوام کے مسائل اور حقوق کو نظر انداز کئے رکھا اور اب حقوق ملنے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...