• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • مسلح افواج سلامتی کے لئے آخری متبادل :انٹونی


    یاستی پولیس کوذمہ داری سونپنے کے پیچھے دوررس مقاصد
    وزیر دفا ع اے کے انٹونی نے آج اعلان کیا کہ جموں کشمیر میں اندرونی سلامتی کاکام فوج کے بجائے پولیس کے حوالے کرنے کے لئے ریاستی پولیس کو مضبوط بنایا جارہا ہے تاکہ مسلح افواج سرحدوں کی کڑی نگرانی کرسکیں۔ذرائع کے مطابق بنگلور میں ’’تیجس‘‘نامی ہلکے لڑاکا طیارے کی نمائش کے سلسلے میں منعقدہ تقریب کے موقعہ پر وزیر دفاع نے نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران بتایا کہ مسلح افواج کو صرف اور صرف آخری متبادل کے طور پر داخلی سلامتی کہ ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا’’اندرونی حفاظت کا کام ریاستی پولیس اور نیم فوجی دستوں کا ہے اور اسکے لئے فوج کا استعمال صرف آخری آپشن کے بطور کیا جاسکتا ہے‘‘۔ایک سوال کے جواب میں اے کے انٹونی نے بتایا ’’یہاں تک کہ جموں کشمیر میں ریاستی پولیس کو مضبوط بنانے کے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تاکہ مسلح افواج کو سرحدوں کا خیال رکھنے کی ذمہ داری سونپی جائے‘‘۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملکی پالیسی کے تحت ملک کی حفاظت کے لئے مسلح افواج کو سرحدوں اور اور اگلی چوکیوں پر تعینات کیا جاتا ہے اور فوج ناگہانی آفات کے دوران بچائو اور امدادی کارروائیوں میں مدد کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی طرح کے خطرے یا ممکنہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے سرحدی علاقوں میں چوکسی بڑھادی گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق اس ضمن میں انہوں نے بتایا ’’ہم سرحدوں پر سیکورٹی ڈھانچے کو مضبوط بنارہے ہیں، چاہے زمینی سرحد ہو،سمندری یا فضائی ‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کسی قسم کی محاذ آرائی کے لئے نہیں بلکہ احتیاط کے بطور اٹھایا جارہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ وزیر دفاع نے دوروز قبل نئی دلی میں نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت کے دوران ریاست کی اندرونی سلامتی کا ذمہ ریاستی پولیس کے حوالے کرنے کا ایک بار پھر اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت ریاست میں مکمل قیام امن اور معمول کے حالات بحال کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور امن و قانون کو برقرار رکھنے کا کام پولیس کے حوالے کرنا حکومت کا ایک دُور رس مقصد ہے۔تاہم انہوں نے صاف کیا کہ فوج کی تعداد میں کمی کا فیصلہ تمام متعلقہ ایجنسیوں کے ساتھ صلاح و مشورے کے بعد ہی لیا جاسکتا ہے۔اے کے انٹونی نے بتایا ’’حکومت کا مقصد یہ ہے کہ جموں کشمیر میں اندرونی سطح پر امن و قانون کی بحالی کا ذمہ مقامی پولیس کو سونپ دیا جائے‘‘۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک پالیسی کا تعلق ہے تو اس ضمن میں حکومت کا موقف بالکل واضح ہے کہ کشمیر میں حالات کو معمول پر لایا جائے
    اوراندرانی سلامتی کی ذمہ داری پولیس کے حوالے کی جائے۔انہوں نے بتایا’’یہ ایک دور رس مقصد ہے کیونکہ اس عمل سے فوج بہ آسانی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بناسکے گی۔تشدد اور دراندازی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بیچ ریاست میں تعینات فوج کی تعداد میں کمی لانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ ’’اس سلسلے میں حکومت کے فیصلے عارضی نہیں ہوتے بلکہ اس طرح کے فیصلے انتہائی احتیاط کے ساتھ مرکزی و ریاستی حکومتوں اور تمام متعلقہ ایجنسیوں کو اعتماد میں لیکر لئے جاتے ہیں‘‘۔ذرائع کے مطابق انہوں نے مزید بتایا ’’کچھ مہینوں کو چھوڑ کر اِس وقت ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ دشمنوں کی طرف سے سرحد پار سے دراندازی کی زیادہ سے زیادہ  کوششیں ہورہی ہیں لیکن مجموعی طور پر ریاست کے حالات میں بہتری واقع ہورہی ہے‘‘۔مسٹر انٹونی کا کہنا تھا کہ کلی طور پر ریاست میں امن و قانون کی صورتحال گذشتہ سال کے مقابلے میں بہت بہتر ہے اور تشدد کے واقعات میں بھی کمی آئی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پر آرہے ہیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے عناصر سرگرم ہیں جو اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ ریاست کے حالات تیزی سے ٹھیک ہوں۔وزیر دفاع کے مطابق ’’یہ عناصر قطعی طور حالات میں بہتری نہیں چاہیں گے اور اسی وجہ سے انہوں نے تشدد اور دراندازی کی کوششوں کو دوگنا کردیا ہے تاکہ ریاست میں امن قانون کو درہم برہم کیا جائے‘‘۔تاہم انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز اس طرح کی کوششوں کا موثر طریقے سے مقابلہ کررہے ہیں ۔

    مسلح افواج سلامتی کے لئے آخری متبادل :انٹونیریاستی پولیس کوذمہ داری سونپنے کے پیچھے دوررس مقاصدوزیر دفا ع اے کے انٹونی نے آج اعلان کیا کہ جموں کشمیر میں اندرونی سلامتی کاکام فوج کے بجائے پولیس کے حوالے کرنے کے لئے ریاستی پولیس کو مضبوط بنایا جارہا ہے تاکہ مسلح افواج سرحدوں کی کڑی نگرانی کرسکیں۔ذرائع کے مطابق بنگلور میں ’’تیجس‘‘نامی ہلکے لڑاکا طیارے کی نمائش کے سلسلے میں منعقدہ تقریب کے موقعہ پر وزیر دفاع نے نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران بتایا کہ مسلح افواج کو صرف اور صرف آخری متبادل کے طور پر داخلی سلامتی کہ ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا’’اندرونی حفاظت کا کام ریاستی پولیس اور نیم فوجی دستوں کا ہے اور اسکے لئے فوج کا استعمال صرف آخری آپشن کے بطور کیا جاسکتا ہے‘‘۔ایک سوال کے جواب میں اے کے انٹونی نے بتایا ’’یہاں تک کہ جموں کشمیر میں ریاستی پولیس کو مضبوط بنانے کے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تاکہ مسلح افواج کو سرحدوں کا خیال رکھنے کی ذمہ داری سونپی جائے‘‘۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملکی پالیسی کے تحت ملک کی حفاظت کے لئے مسلح افواج کو سرحدوں اور اور اگلی چوکیوں پر تعینات کیا جاتا ہے اور فوج ناگہانی آفات کے دوران بچائو اور امدادی کارروائیوں میں مدد کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی طرح کے خطرے یا ممکنہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے سرحدی علاقوں میں چوکسی بڑھادی گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق اس ضمن میں انہوں نے بتایا ’’ہم سرحدوں پر سیکورٹی ڈھانچے کو مضبوط بنارہے ہیں، چاہے زمینی سرحد ہو،سمندری یا فضائی ‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کسی قسم کی محاذ آرائی کے لئے نہیں بلکہ احتیاط کے بطور اٹھایا جارہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ وزیر دفاع نے دوروز قبل نئی دلی میں نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت کے دوران ریاست کی اندرونی سلامتی کا ذمہ ریاستی پولیس کے حوالے کرنے کا ایک بار پھر اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت ریاست میں مکمل قیام امن اور معمول کے حالات بحال کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور امن و قانون کو برقرار رکھنے کا کام پولیس کے حوالے کرنا حکومت کا ایک دُور رس مقصد ہے۔تاہم انہوں نے صاف کیا کہ فوج کی تعداد میں کمی کا فیصلہ تمام متعلقہ ایجنسیوں کے ساتھ صلاح و مشورے کے بعد ہی لیا جاسکتا ہے۔اے کے انٹونی نے بتایا ’’حکومت کا مقصد یہ ہے کہ جموں کشمیر میں اندرونی سطح پر امن و قانون کی بحالی کا ذمہ مقامی پولیس کو سونپ دیا جائے‘‘۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک پالیسی کا تعلق ہے تو اس ضمن میں حکومت کا موقف بالکل واضح ہے کہ کشمیر میں حالات کو معمول پر لایا جائے اوراندرانی سلامتی کی ذمہ داری پولیس کے حوالے کی جائے۔انہوں نے بتایا’’یہ ایک دور رس مقصد ہے کیونکہ اس عمل سے فوج بہ آسانی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بناسکے گی۔تشدد اور دراندازی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بیچ ریاست میں تعینات فوج کی تعداد میں کمی لانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ ’’اس سلسلے میں حکومت کے فیصلے عارضی نہیں ہوتے بلکہ اس طرح کے فیصلے انتہائی احتیاط کے ساتھ مرکزی و ریاستی حکومتوں اور تمام متعلقہ ایجنسیوں کو اعتماد میں لیکر لئے جاتے ہیں‘‘۔ذرائع کے مطابق انہوں نے مزید بتایا ’’کچھ مہینوں کو چھوڑ کر اِس وقت ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ دشمنوں کی طرف سے سرحد پار سے دراندازی کی زیادہ سے زیادہ  کوششیں ہورہی ہیں لیکن مجموعی طور پر ریاست کے حالات میں بہتری واقع ہورہی ہے‘‘۔مسٹر انٹونی کا کہنا تھا کہ کلی طور پر ریاست میں امن و قانون کی صورتحال گذشتہ سال کے مقابلے میں بہت بہتر ہے اور تشدد کے واقعات میں بھی کمی آئی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پر آرہے ہیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے عناصر سرگرم ہیں جو اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ ریاست کے حالات تیزی سے ٹھیک ہوں۔وزیر دفاع کے مطابق ’’یہ عناصر قطعی طور حالات میں بہتری نہیں چاہیں گے اور اسی وجہ سے انہوں نے تشدد اور دراندازی کی کوششوں کو دوگنا کردیا ہے تاکہ ریاست میں امن قانون کو درہم برہم کیا جائے‘‘۔تاہم انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز اس طرح کی کوششوں کا موثر طریقے سے مقابلہ کررہے ہیں ۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...