• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • محکمہ سیاحت میںسنسنی خیزاسکینڈل کا انکشاف

    تعمیراتی کاموں کی ’’اپرول‘‘ کے ذریعے اپنی تجوریاں بھرنے کا نیا طریقہ دریافت
    سرینگر//
    محکمہ سیاحت میں تعمیراتی کاموں کے لئے ٹینڈر طلب کرنے کے بجائے غیر قانونی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے برسوں پرانے کاموں کی ’’توسیع‘‘ کے نام پرخزانہ عامرہ کو کروڑوں روپے کے نقصان سے دوچار کرنے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ اس اسکینڈل میں محکمہ کے بعض اعلیٰ افسران اور انکے منظور نظر ٹھیکیداروں کا ہاتھ ہے جن کی آپسی ملی بھگت سے سرکاری قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔اس دوران حکومت نے اس پورے معاملے کی مکمل تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے۔با و ثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ محکمہ سیاحت کے کچھ افسران نے تعمیراتی کاموں کے لئے باضابطہ ٹینڈر طلب کرنے کا قانونی راستہ ترک کرتے ہوئے پرانے تعمیراتی کاموں کی ’’اپرول‘‘ کے ذریعے اپنی تجوریاں بھرنے کا نیا طریقہ دریافت کیا ہے جس کے تحت چند مخصوص تعمیراتی کمپنیوں کو براہ راست مالی فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر چہ محکمہ میں کسی بھی قسم کے تعمیراتی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے باضابطہ طور ٹینڈر طلب کئے جاتے تھے لیکن گذشتہ ایک برس سے یہ سلسلہ پر اسرار طور پر بند کردیا گیا اور محکمہ کے اندر تمام ٹھیکے خفیہ طور ہی الاٹ کئے جارہے ہیں۔نئے ٹھیکوں کی الاٹمنٹ کے لئے حکومت کی طرف سے وضع کردہ ضوابط کو ملحوظ نظر رکھنا ضروری ہے ،لہٰذا بڑے پیمانے پر ہورہی ان بے ضابطگیوں کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لئے یہ ٹھیکے کئی برس قبل مکمل کئے گئے تعمیراتی کاموں کی توسیع کے ذریعے الاٹ کئے جارہے ہیں۔سرکاری ضوابط کے تحت ہر محکمہ پر یہ لازم بنایا گیا ہے کہ تعمیراتی اور دیگر کاموں کے بارے میں محکمہ اطلاعات کے توسط سے ٹینڈر نوٹس شائع کرائی جائی لیکن ٹورازم محکمہ کی طرف سے ایسا نہیں کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں ذرائع نے انکشاف کیا کہ بارہمولہ ،اوڑی،مانسبل اور دیگر کئی سیاحتی مقامات پر اسی طریقے سے ٹھیکوں کی الاٹمنٹ عمل میں لائی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ سیاحت میں تعینات بعض انجینئروں نے کچھ مخصوص ٹھیکیداروں کے ساتھ ساز باز کر رکھا ہے جس کے تحت کسی اور ٹھیکیدار کے نام کئی سال قبل الاٹ ہونے والے تعمیراتی کاموں کی توسیع عمل میں لاکر یہ کام دیگر ٹھیکیداروں سے کرائے جاتے ہیں ۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کسی بھی تعمیراتی کام کی تھوڑی سی بھی رقم بقایا ہو نے کی صورت میں اپرول کا راستہ کھلا رہتا ہے لیکن اپرول سے صرف بنیادی ٹینڈر نوٹس کے اندر اندر عمل میں لائی جاسکتی ہے۔کے ایم ا ین ذرائع سے یہ بات بھی منکشف ہوئی ہے کہ ایک ٹھیکیدار کے نام الاٹ شدہ کام توسیع کے ذریعے دوسرے ٹھیکیدار سے کرانے کے لئے ٹھیکیداروں کو لالچ دیا جاتا ہے یا پھر انہیں بقایا جات کی ادائیگی کے بہانے ایسا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ کی طرف سے سیاحتی مقام مانسبل میں شیلٹر شیڈ تعمیر کرایا گیا جس پر ابتدائی طور پرلاکھ روپے کی رقم صرف ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا تاہم بعد میں ’’اپرول‘‘ کی بنیادوں پر ایک کی جگہ دو شیڈ تعمیر کئے گئے اورنئے ٹینڈر طلب کرنے کے بجائے اس کام پر صرف ہونے والی رقم میں 19سے0لاکھ روپے تک کا اضافہ کیا گیا۔ضوابط کے تحت کسی بھی تعمیراتی کام کے سلسلے میں ٹینڈر نوٹس میں درج رقم میں 25فیصد کمی یا اضافہ کیا جاسکتا ہے اور یہ ٹھیکے محکمہ کے ڈائریکٹرکی باضابطہ منظوری سے ہی الاٹ کئے جاسکتے ہیں ۔تاہم ذرائع کے مطابق لڈورہ رفیع آباد بارہمولہ میں ڈاک بنگلہ تعمیر کرنے کے لئے 40لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی تھی اور اس کے لئے متعدد تعمیراتی فرموں نے ٹینڈر داخل کئے لیکن یہ کام صرف منظور نظر ٹھیکیدار کو الاٹ کرنے اور خود مالی فوائد حاصل کرنے کے لئے محکمہ کے افسران کی ملی بھگت سے یہ ٹھیکہ صرف1لاکھ روپے میں الاٹ کیا گیا جس سے تعمیراتی ماہرین کے مطابق ڈاک بنگلے کی مکمل تعمیر ناممکن ہے۔معلوم ہوا ہے کہ ایسا صرف اس لئے کیا گیا کہ بعد میں اپرول کے ذریعے ٹھیکے کی رقم میں اضافہ کیا جائے جس کے نتیجے میں تعمیراتی فرموں اور محکمہ کے افسران کی جیبیں گرم ہوں۔ذرائع کے مطابق یہ پروجیکٹ ایک کروڑ روپے پر مشتمل ہے اور بقیہ 80لاکھ روپے کے کام توسیع کے ذریعے الاٹ کرکے من مانے ریٹ مقرر کرنے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ خادنیار بارہمولہ میں تعمیر کی گئی ’’ایکو پارک‘‘میں قریب 5سال قبل ایک کیفٹیریا تعمیر کیا گیا اور ضابطے کے تحت صرف بنیادی کام کو ہی توسیع دی جاسکتی ہے لیکن محکمہ کے حکام نے قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کچھ ہفتے قبل ہی برسوں پرانی الاٹمنٹ کی ’’اپرول‘‘ کے ذریعے دیوار بندی اور دیگر کام کے سلسلے میں مزیدلاکھ روپے کا ٹھیکہ الاٹ کیا۔اسی طرح کچھ عرصہ قبل سرحدی قصبہ اوڑی کے چہلہ علاقہ میں 6بیت الخلاء تعمیر کرائے گئے جن پر2سے4لاکھ روپے کی رقم صرف کی گئی جبکہ گانٹمولہ اور درنگہ بل بارہمولہ میں اسی طرح کے بیت الخلاء کی تعمیر پرصرفسےلاکھ روپے خرچ ہوئے۔اس طرح گذشتہ ایک سال کے عرصے میں کروڑوں روپے کے تعمیراتی کام غیر قانونی طور الاٹ کرکے نہ صرف ان کا موں پر ضرورت سے زیادہ رقم صرف کی جارہی بلکہ اس عمل سے سرکاری خزانے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کا ارتکاب کیا گیا ہے۔دریں اثناء اس صورتحال کے بارے میں کے ا یم ا ین نے جب سیاحت کے وزیر مملکت ناصر اسلم وانی سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ اس طرح کی شکایات کی مکمل چھان بین کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ تعمیراتی کاموں کی الاٹمنٹ کے سلسلے میں سرکاری ضوابط پہلے سے ہی لاگو ہیں اور اگر کسی افسر کو قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا تو اسکے خلاف سخت کارروائی میں عمل میں لائی جائے گی۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...