• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • بحالی مذاکرات کے لئے ملزمان کے خلاف کاروائی لازمی :ڈاکٹر فاروق


    سرینگر//جنوریکشمیر میڈےا نےٹ ورک        نیشنل کانفرنس کے صدر اور قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جامع مذاکراتی عمل تب تک بحال نہیں ہو سکتا جب تک نہ پاکستان ممبئی حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لاتا ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج جموں کشمیر پیس فائونڈیشن کے اہتمام سے مہاتما گاندھی کے ’’شہیدی دیوس‘‘کے سلسلے میں منعقد کی گئی ایک تقرےب میں شرکت کی۔اس موقعہ پر نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران رےاست کے سابق وزیر اعلیٰ نے ہند پاک مذاکراتی عمل کی بحالی کو یہ کہتے ہوئے خارج از امکان قرار دےا کہ پاکستان کی طرف سے ممبئی حملوں میں ملوث لوگوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کے بعد ہی بات چےت بحال ہو سکتی ہے ۔انہوں نے کہا ’’بھارت کا موقف یہ ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے اور ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو سزا دی جائے لہٰذا پڑوسی ملک کو یہ کارروائی عمل میں لانی ہو گی ۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جب بھارت کو یہ محسوس ہو گا کہ پاکستان ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لے رہا ہے تو بات چےت خود بخود شروع ہو گی ۔جموں کشمیر میں لائن آف کنٹرول اور ہند پاک سرحدوں پر دراندازی کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے بتاےا کہ سیکورٹی فورسز اس طرح کی تمام کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے تےار ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی فورسز نے ان عناصر کی کوششوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور مستقبل میں بھی انہیں ناکام بنایا جائے گا ۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مزید بتاےا کہ بھارت جنگ و جدل میں یقین نہیں رکھتا لیکن جب پاکستان بھارت پر حملہ کرنے والے لوگوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے گی تو بات چےت کیلئے اعتماد کی فضاء بحال ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کا شکار ہے اور ملک کی حفاظت اور سالمےت کو یقینی بنانے کیلئے مرکزی حکومت کی طرف سے ہر طرح کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور اس ضمن میں پاکستان سے ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو بھارت کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہیں ۔ڈاکٹر عبداللہ کے مطابق بر صغےر کے عوام امن و سلامتی اور تعمیر وترقی کے متمنی ہیں لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب ماحول تشدد اور خون خرابہ سے پاک ہو ۔انہوں نے ایک بار پھر یہ بات دہرائی کہ بات چےت سے تمام مسائل حل کئے جا سکتے ہیں اور موجودہ دنیا میں تشدد کا کوئی رول نہیں ۔پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے اس بےان کہ جموں کشمیر کا مسئلہ ایک نظریاتی مسئلہ ہے ،پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ نے بتاےا ’’کچھ بےانات اےسے ہوتے ہیں جو اپنے لوگوں کیلئے ہوتے ہیں اور یہ لوگ وہی کہتے ہیں جو عوام چاہتی ہے ‘‘۔تاہم انہوں نے اس بےان پر مزید تبصرہ کرنے سے معذوری ظاہر کی۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...