• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • جنگجویانہ سرگرمیوں میں اضافہ سرکارکے لئے باعث تشویش

    دلی میں وزیر داخلہ کی صدارت میں اعلیٰ سطحی میٹنگ میں صورتحال پر غور
    سرینگر//
    ریاست میں جنگجویانہ سرگرمیوں میں طویل عرصے کے بعد اچانک اضافے کے پیش نظرنئی دلی میں کشمیر کی صورتحال کے بارے میں وزیر داخلہ پی چدمبرم ،قومی سلامتی کے مشیر شیو شنکر مینن اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان کی درمیان ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی ہے جس میں کشمیر کے حوالے سے ایک نئی حکمت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ نئی دلی کے معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یوم جمہوریہ کے ٹھیک دوسرے دن یعنی7جنوری کودوپہر کے وقت وزیر داخلہ پی چدمبرم نے حال ہی میں قومی سلامتی کے مشیرکا عہدہ سنبھالنے والے شیو شنکر مینن ، اُن کے ماتحت اعلیٰ افسران، سراغرساں ادراے انٹیلی جنس بیورو(آئی بی) و’ رائ‘ کے سربراہان، اور جوائنٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کو نارتھ بلاک میں واقع اپنے دفتر پر طلب کیا جہاں ایک اہم میٹنگ کے دوران کشمیر کی موجودہ سیاسی و حفاظتی صورتحال پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق میٹنگ کے دورا ن جموںکشمیر میں پر تشدد واقعات میں اضافے پر غور و خوض ہوا اور ایک نئی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ میں سرینگراورنئی دلی کے درمیان بات چیت کے کئی اہم پہلوئوں کو بھی زیر غور لایا گیا جبکہ وادی کے اندر علیحدگی پسندوں کی سرگرمیاں بھی زیر بحث آئیں۔ذرائع کا کہناہے کہ مذکورہ میٹنگ اس لئے اہمیت کی حامل تھی کیونکہ یہ کشمیر کے بارے میں وزیر داخلہ پی چدمبرم اور نئے قومی سلاتی کے مشیر شیو شنکر مینن کی پہلی رسمی میٹنگ تھی اور اس میں بھارت کے اعلیٰ سراغرساں اداروں کے سربراہان نے بھی حصہ لیا۔ذرائع کے مطابق چونکہ وادی کشمیر میں حالیہ مہینوں کے دوران جنگجوئوں کی سرگرمیوں میں کئی برس بعد اچانک تیزی آئی ہے ،اس لئے وزرات داخلہ نے اپنی کشمیر پالیسی میں کئی اہم تبدیلیاں عمل میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے اپنی اُسی نئی کشمیر پالیسی کو زیر بحث لانے کے لئے اس حساس میٹنگ کا اہتمام کیا تھا جس کے دوران نئی دلی کی نئی کشمیر پالیسی پر آراء اکٹھی کی گئیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ وزیر داخلہ پی چدمبرم اورنئے قومی سلامتی کے مشیر شیو شنکر مینن کو کشمیر کی حفاظتی صورتحال کے بارے میں تازہ ترین اطلاعات فراہم کی گئیں اور شرکاء نے جنگجوئوں کی اچانک بڑھتی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔کم وبیش دو گھنٹوں تک جاری رہنے والی حساس ترین میٹنگ میںسرینگر دلی مجوزہ بات چیت کے مختلف پہلوئوں پر غور کیا گیا اور اس ضمن میں علیحدگی پسندوں کی موجودہ پالیسی پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔میٹنگ میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ خفیہ سفارتکاری کے حوالے سے بھی کئی اہم امور زیر غور آئے اور مجوزہ مذاکرات کے طریقہ کار پر بھی بات ہوئی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیر داخلہ پی چدمبرم نے گذشتہ برس کے ماہ اکتوبر میں سرینگر آکر ریاست کے تمام مکتب ہائے فکر سے وابستہ لوگوں کے ساتھ خفیہ مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیاتھا جس پر ابھی تک کوئی قابل ذکر پیش رفت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس میٹنگ کے دوران ریاست میں فوج کی تعداد کم کرنے کے انتہائی نازک معاملے پر بات ہوئی اور اس سلسلے میں سراغرساں اداروں کی رائے حاصل کی گئی۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ پی چدمبرم ماہ فروری کے دوران ممکنہ طور پر سارک ممالک کے وزرائے داخلہ کے اجلاس کے سلسلے میں پاکستان جارہے ہیں مگر اس سے قبل نئی دلی کشمیر مسئلے کے بارے میں ایک ٹھوس حکمت عملی تیار کرنا چاہتی ہے تاکہ سارک ممالک کی مجوزہ میٹنگ کے دوران اُٹھنے والے سوالات کا موثرجواب دیا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ نے اس سلسلے میں بھی میٹنگ میں شرکاء کی تجاویز حاصل کرنے کے بعد وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کوبھی آگاہ کیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹنگ کے دوران کنٹرول لائین پر دراندازی کے واقعات کے بعد پیدا صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آنے والے ایام کے دوران جنگجوئوں کی طرف سے مزید حملوں کا امکان بڑھ گیا ہے۔میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا کہ کشمیر میں تعینات فورسز کو مزید چوکس کیا جائے اور ریاستی حکومت کو آئے دنوں کے احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے کے لئے جامع حکمت عملی اپنانے پر زور دیا جائے۔میٹنگ میں شامل سراغرساں ادروں کے ذمہ داروں نے وزیر داخلہ کو یقین دلایا کہ جموں کشمیر کے اندر سراغرسانی کا نظام مزید بہتر بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے اور اس سلسلے میں ریاستی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ میٹنگ میں تاہم اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ یوم جموریہ کی تقریبات احسن طریقے پر انجام پذیر ہوئیں اور مذکورہ تقریبات کے دوران ملک کے کسی بھی حصے میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ واضح رہے کہ6جنوری سے قبل پورے بھارت میں سیکورٹی اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا تھا۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...