• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • کشمیریوں کویرغمال نہیں بنایاجاسکتا:محبوبہ مفتی


    سرینگر//
    پاکستان کیساتھ مذاکرات کی بحالی پر زور دیتے ہوئے پی ڈئی پی صدر محبوبہ مفتی نے آج کہا کہ بات چیت سے راہ فرار اختیار کرنا کسی بھی صورت میں سود مند ثابت نہیں ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جسکے ذریعے تمام مسائل کا پُر امن حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق جموں میں آج پی ڈی پی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا خصوصی اجلاس پارٹی صدر محبوبہ مفتی کی صدارت میں منعقد ہوا جسکے دوران اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جامع مذاکرات منقطع ہوکر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں کی آڑ میں کروڑوں عوام کو یرغمال نہیں بنایا جاسکتا بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مذاکراتی عمل فوراً سے پیشتر شروع کئے جائیں تاکہ دونوں ممالک میں رہائش پذیر کروڑوں عوام کو موجودہ صورتحال سے باہر نکالا جاسکے۔انہوں نے اس با ت پر تشویش کااظہا کیا کہ مذاکراتی عمل میں تعطل پیدا ہونے سے ہند پا ک کے درمیان سرد جنگ شروع ہوگئی ہے جس سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر تشدد کی کاروائیوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے کشمیر  سال003کی پوزیشن پر آگیا ہے ۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ مذاکرات ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے پیچیدہ سے پیچیدہ معاملات کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی نے روز اول سے ہی ہندوپاک کے مابین مذاکرات کی بحالی کےلئے زبردست تک و دو کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ پی ڈی پی نے اپنے مختصر دورہ اقتدار کے دوران دونوں ممالک کو ایکدوسرے کے قریب لایا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات ہی برصغیر میں قیام امن کی ضمانت فراہم کرسکتا ہے جبکہ کسی بھی طرح کا ٹکرائو پورے جنوب ایشیاء کےلئے خطرے کا باعث ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پی ڈی پی نے امن عمل کےلئے جو شروعات کی تھی موجودہ سرکار نے اسے پس پشت ڈالدیا ہے اور نتیجے کے طور پر دونوں خطوں میں تنائو جیسی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ محبوبہ مفتی نے خبردار کیا کہ اگر جامع مذاکرات کی بحالی کےلئے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو یہ ایک خطرناک پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی وکالت کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ہی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے لہٰذا اس دیرینہ مسئلہ کا حل تلاشنے کےلئے مذاکرات شروع کئے جائیں اور ساتھ ہی ساتھ دیگر تنازعات جس میں ہند تاس آبی معاہدے شامل ہیں کو بھی افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ٹکرائو جیسی صورتحال کی وجہ سے ان لوگوں کو تقویت ملتی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات دیکھنا نہیں چاہتے لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ شر پسند اور امن دشمن عناصر کو مسترد کرنے کےلئے بنا کسی تاخیر کے بات چیت شروع کی جائے۔ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا کہ بات چیت کا کوئی متبادل نہیں بلکہ یہی ایک واحد ذریعہ ہے جس سے تمام مسائل کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کا مثبت جواب دیں اور اس میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں ۔ اس موقعہ پر ایک قرار داد بھی پاس کی گئی جسکے دوران مرکزی سرکار پر زور دیا گیا کہ وہ پاکستان کیساتھ جامع مذاکرات بحال کریں۔قرارداد مین کہا گیا ہے کہ پی ڈی پی مسئلہ کشمیر کا دائمی اور پرامن حل چاہتی ہے اور اس کیلئے مذاکراتی عمل واحد راستہ ہے۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...