• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • پاک سرکار کی نئی حکمت عملی

    حریت لیڈران کواسلام آباد طلب کرنے کا فیصلہ
    5ٍسرینگر //
    مسئلہ کشمیر پر بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کی تجویز کے بیچ پاکستانی حکومت نے کشمیری علیحدگی پسند لیڈران کیساتھ مذاکرات کےلئے انہیںاسلام آباد طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ کشمیر کے حوالے سے سارک کانفرنس سربراہ کے موقعہ پر بھی ہندوپاک لیڈران کے مابین اہم گفت و شنید متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق مسئلہ کشمیر کی عالمی سطح پر پیدا شدہ گونج کے بعد یہ تجویز سامنے آگئی ہے کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے علاوہ پورے برصغیر میں قام امن کےلئے ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے تاکہ ان مسائل کے حل کےلئے ایک واضح روڑ میپ تشکیل دیا جائے جبکہ برصغیر کیساتھ ساتھ مشرقی وسطیٰ میں بھی تشدد کی آگ تیزی سے بھڑک رہی ہے اور اس تشدد کی وجہ سے نہ صرف برصغیر بلکہ بین الاقوامی سطح کا امن بھی خطرے میں پڑ گیا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ یورپی یونین نے کشمیر مسئلہ پر بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کےلئے باضابطہ طور پر کوششیں شروع کی ہیں اور اس حوالے سے یورپی ممالک کے سفیر عنقریب ہندوستان اور پاکستان کا دورہ کررہے ہیں جسکے دوران وہ برصغیر کے حالات اور کشمیر معاملے پر ہندوستان اور پاکستان کی قیادت کے موقف کے متعلق جانکار ی حاصل کریں گے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یورپی یونین کے سفیر ریاست جموں و کشمیر کا بھی دورہ کریں گے اور ریاست کی اصل صورتحال کا از خود مشاہدہ کرکے بعد میں یورپی یونین کے سربراہ کو اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔ بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے اگر چہ بھارت نے ڈپلومیٹک چینلوں کو اس مقصد کےلئے متحرک کردیا ہے کہ اس میں کشمیر کے معاملے پر گفت و شنید نہیں ہونی چاہےے۔ تاہم پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی کانفرنس کا حصہ بنانے کےلئے اپنی طرف سے تمام سفارتی چینلوں کو متحرک کردیا ہے ۔ اسی بیچ پاکستان نے اس مسئلہ کے حل کےلئے کشمیر کے تمام گروپوں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ سارک سربراہ کانفرنس کے موقعہ پر مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبر م کے ممکنہ دورے پر اس مسئلہ کے حوالے سے کسی اہم پیش رفت پر پہنچا جاسکے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستانی حکومت نے اس ضمن میں تمام علیحدگی پسند لیڈران کو پاکستان طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس ضمن میں عنقریب پاکستان کی طرف سے حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں سمیت دیگر لیڈران کو بھی باضابطہ طور پر مدعو کیا جائےگا۔ اس سلسلے میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اس بات کا اشارہ دیا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان ایک اہم پیش رفت کی اور بڑھ رہا ہے اور اعتماد میں لینے کےلئے کشمیری قیادت کو بھی ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کی جائے گی۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے واضح کردیا کہ حکومت پاکستان کشمیری علیحدگی پسند لیڈران کےساتھ تفصیل سے گفتگو چاہتی ہے تاکہ مشترکہ طور پر کشمیر کے حوالے سے ایک ایسا روڑ میپ تیار کیا جاسکے جس پر چل پر بھارت کو بھی آمادہ کیا جاسکے تاکہ اس مسئلہ کے حل کےلئے کوئی بڑی پہل متوقع ہو۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں عنقریب علیحدگی پسند لیڈران کو پاکستان کا دورہ کرنے کےلئے مدعو کیا جائےگا تاہم سارک سربراہ کانفرنس میں مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کی ممکنہ شرکت کو بھی اس حوالے سے اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے جبکہ ریاست جموں و کشمیر میں خفیہ ڈپلومیسی کا کام پی چدمبرم کو سونپا گیا ہے اور پاکستان میں ان کی آمد کے حوالے سے سے کافی اہمیت کی حامل ہوسکتی ہے کیونکہ کشمیر کے حوالے سے انہیں مذاکرات شروع کرنے کا اختیار دیا گیا ہے وہیں پاکستان بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں مذاکرات پر زور دیتا آیا ہے۔ اس طرح سے پاکستان کشمیر ی علیحدگی پسند لیڈران کے موقف کو جاننے کے بعد اس سلسلے میں بھارتی مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کو بھی آگاہ کرسکتی ہے جسکے ساتھ ہی آر پار مذاکرات کےلئے راہ ہموار ہوگی۔ ادھر بھارتی حکومت نے بھی اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ پاکستان کیساتھ براہ راست بات چت کے بجائے اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کو اہمیت دی جائے گی ۔چنانچہ معلوم ہوا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ ممکنہ پاکستان کے دورہ کے بعد ہی ریاست جموں و کشمیر میں خفیہ مذاکراتی عمل شروع کر ے گی جس میں باضابطہ طور پر بات چیت کا آغاز ہوگا۔ معلوم ہوا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں اندرونی بات چیت کے عمل کو تیز کرنے کےلئے مرکزی حکومت نے کوششیں اگر چہ پہلے ہی شروع کر رکھی ہیں لیکن کچھ وقت کےلئے ان میں ٹھہرائو آگیا تھا۔ لیکن بتایا جاتا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ کے دورہ پاکستان کے دوران ہونے والے خفیہ مذاکرات میں بھی خرارت آسکتی ہے اور مرکز کی طرف سے باضابطہ طور پر علیحدگی پسندوں کو مذاکرات کےلئے مدعو کیا جائےگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے پہلے ہی مرکزی حکومت کی طرف سے جو کوششیں کی گئیں ان میں حریت کانفرنس (گ) کے چیئر مین سید علی شاہ گیلانی کیساتھ رابطہ اپنی نوعیت کی پہلی کوشش تھی ۔ اس سلسلے میں بھی بتایا جاتا ہے کہ میر واعظ عمر فاروق کیساتھ بھی عنقریب رابطہ قائم کیا جائیگا جبکہ لبریشن فرنٹ کو بھی بات چیت کےلئے مدعو کیا جارہا ہے ۔ چنانچہ معلوم ہوا ہے کہ مرکز ی وزیر داخلہ پی چدمبرم کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک کے لیڈران کی بھی ملاقاتیں متوقع ہیں اور کشمیر معاملے پر اہم گفت و شنید ہوسکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی بیچ بین الاقوامی سطح پر کشمیر معاملے پر کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے بھی پیش کی گئی تجویز کو پزیرائی حاصل ہورہی ہے کیونکہ یورپی یونین نے باضابطہ طور پر اس تجویز کی حمایت کی ہے اور اب اس کے انعقاد کےلئے سفارتی سطح پر کوششیں تیز کردی ہیں۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...