• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • عارف سے شیرازہ تک

    الطاف حسین ندوی
    سال ۹۰۰۲؁ کو اگر’’ سانحات اور حادثات ‘‘کا سال قرار دیا جائے تو بے جا نہیں ہوگا ۔نیلوفر اور آسیہ کی مظلومانہ موت کو سنگ دل سے سنگ دل انسان بھی فراموش نہیں کر سکتا ہے ۔کشمیر میں یہ ’’جمہوری وسیکولر ہندوستان اورگاندھی جی کے عدم تشدد والے بھارت‘‘ کے ہاتھوں آخری قتل تو نہیں تھا البتہ ریاستی حکام سے لیکر دہلی کے ’’گاندھی جی کے وارثوں‘‘ تک سبھی نے مل کر جس بے شرمی کے ساتھ اس کیس کودبانے کی کوشش کی وہ انسانیت کے قاتلوں کے ماتھے پر نہ مٹنے والاوہ کلنک ہے جس سے دیکھ کر ’’آسیہ اور نیلوفر کے وارثین‘‘انھیں دور سے ہی پہچان لیں گے ۔ادھر آسیہ اور نیلوفر کا یہ قتل ہمیں رُلا ہی رہا تھا کہ کلر پلوامہ کے دوسالہ معصوم عارف کو اپنے باپ کی گودمیں کسی نا معلوم بندوق بردار نے والد سمیت قتل کردیا اور عارف کے بعد شیرازہ ساکنہ کلر نامی ایک جواں سال لڑکی کوبھی نا معلوم بندوق برداروں نے گولی مار کر جاں بحق کر دیا ۔عارف کی خبر جوں ہی اخبارات میں چھپی تو دوسرے ہی روز مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم ،وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور تمام دوسرے حکومتی ذمہ داراں کے یہ بیانات سامنے آنا شروع ہوگئے کہ حریت کانفرنس کے ہنگامہ پسند لوگ اس بہیمانہ قتل پر خاموش کیوں ہو گئے ؟ان کا ایک آدھ مزمتی بیان اخبارات میں کیوں نہیں چھپا۔۔۔۔۔۔؟؟؟

    ادھر آسیہ اور نیلوفر کا یہ قتل ہمیں رُلا ہی رہا تھا کہ کلر پلوامہ کے دوسالہ معصوم عارف کو اپنے باپ کی گودمیں کسی نا معلوم بندوق بردار نے والد سمیت قتل کردیا اور عارف کے بعد شیرازہ ساکنہ کلر نامی ایک جواں سال لڑکی کوبھی نا معلوم بندوق برداروں نے گولی مار کر جاں بحق کر دیا

    _ پہلے اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ ’’نامعلوم بندوق بردار ‘‘کون لوگ ہیں ۔عسکریت پسند یا سیکورٹی فورسز اور پولیس؟یہ خود ایک معمہ ہے جو گذشتہ بیس برس سے کسی بھی طرح حل نہیں ہو پاتا ہے ۔البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب حکومت نامعلوم بندوق بردار کا لفظ استعمال کرتی ہے تواس سے عسکریت پسند مراد ہوتے ہیں ۔گو حکومت کے نزدیک ہر وہ کاروائی جو نامعلوم بندوق بردار انجام دے رہے ہیں کشمیر کے عسکریت پسندوں کا فعل ہو تا ہے ۔جہاں تک ہمیں یاد ہے چھٹی سنگھ پورا مٹن میں ۶۳ سکھوں کا قتل عام ہونے کے بعد حکومت نے اس کی ذمہ داری بھی ’’نامعلوم بندوق برداروں‘‘پر عائد کی تھی ۔چدمبرم جی اور عمر صاحب کو یاد ہو کہ نہ ہو اس قتل عام کے بعد ’’فوج‘‘ نے چند عام شہریوں کو گرفتار کرکے ایک فرضی مقابلے میں ابدی نیند سُلا دیا۔۔۔اور جب معاملہ عدالت میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک ڈرامہ تھا جس سے فوج نے تیار کیا تھا۔ عدالت نے ان اہلکاروں کی نشاندہی بھی کی تھی مگر اس کے باوجود ان کے خلاف ابھی تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔اسی طرح وند ہامہ ،گاؤکدل ،حبہ کدل ،ہندواڑہ اور سوپور کے علاوہ یہی کچھ کئی قصبات اور دیہاتوں میں بھی دہرایا گیا اور ہر ایسے موقعہ پر حکومت نے نامعلوم کہہ کرشک کی سوئی عسکریت پسندوں کے جانب موڈدی ۔پھر بات یہاں تک پہنچی کہ عوام کو حکومتی بیانات پر سے اعتماد ہی اُٹھ گیا اور سانحہ شوپیان نے رہی سہی کسر نکال کر رکھدی ۔
    اب اس کا ایک اور پہلو لے لیجئے کہ کیا عسکریت پسند اس میں مکمل طور پر پاک وصاف ہیں ؟نہیں ایسا نہیں ہے،اس طر ح کا دعویٰ کرنا آپ اپنا مذاق اُڑانے کے مترادف ہوگا ۔عسکریت پسندفرشتے نہیں ہیں ان سے غلطیاں ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں البتہ یہ ایک ایسی غیر منظم فوج ہے جن کی فی الحال کہیںبھی جواب دہی نہیں ہے۔نہ ہی ان کے غلط کاموں کو کوئی اچھی نگاہ سے دیکھتا ہے اور نہ ہی ان کے غلط کاموںکو درست کہنے کی کوئی شرعی یا اخلاقی دلیل موجود ہے ۔پی چدمبرم جی اور عمر عبداللہ کا ان کاروایئوں کو حریت کے ساتھ جوڑنے کا کیا جواز ہے ۔اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جس طرح سانحہ شوپیان پروادی میں ہمہ گیر احتجاج کیا گیا اسی طرح حریت کو عارف اور شیرازہ کے
    قتل پر کرنا چاہئے تھا تو ہمیں اس پر آپ کے ساتھ اتفاق ہے مگر یہ بھی تو بتائے کہ چھٹی سنگھ پورا سے لیکر شوپیان تک جو ایک ملک کی باضابط فوج نے کیا اس کاعلاج اور تدارک کیا ہے ؟؟؟
    بحیثیت عوام ہم ’’اٹوٹ انگ والے کشمیر ‘‘میں رہ رہی ’’جمہوری اور عدم تشدد والے ملک کی سیکولر فوج اور پولیس‘‘کے بارے میں یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس کا کیا علاج ہے جو ان کے ہاتھوں ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے ؟اور تمام تر ’’امن وزیروٹالرینس ‘‘کے دعوؤں کے باوجود جاری ہے ؟جناب والا یہاں انسان مر رہے ہیں اور روز مر رہے ہیں کیا انھیں بچانے کے بجائے اس پر ’’میڈیا ڈبیٹ‘‘میں حریت کو زچ کرنے سے یہ لوگ بچ جائیں گے؟؟؟حالانکہ جو لوگ دو بندوقوں کی ٹکر میں مر رہے ہیں انھیں نہ آپ سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی حریت سے ؟؟؟عارف جیسا پھول اورشیرازہ جیسی معصوم کلی ہمارے ہی ویران گلشن کے پژمردہ پھول ہیں ۔انھیں جس نے بھی قتل کیا دنیا کی کسی بھی لغت میں اس کی حوصلۂ افزائی کے لیے الفا ظ ملنا مشکل ہے مگر یہ بحث اور لایعنی ڈبیٹ کب تک جاری رہے گا ؟ کیا تب تک جب تک ہم سب مارے جائیں؟مسئلہ یہ نہیں کہ کشمیرمیں کون کس کو مار رہا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ مارنے والے کے ہاتھ کب اور کس طرح رک جائیں گے ؟وہ کب تک دو سالہ عارف اور اسی سالہ محمد اکرم کو قتل کرتے رہیں گے ؟بحثیت عوام کشمیریوں کو ایک اجتماعی المیہ کا سامنا ہے ۔وہ اس المیہ کی کوکھ سے پیدا ہو رہے مسائل کے برعکس اصل مسئلے کا حل چاہتے ہیں تاکہ بار بار عارف اور شیرازہ کا خون کشمیر کی مظلوم قوم کو نہ رُلا دیں!اور آپ کا آپسمیں ایک دوسرے کو طعنے دینے اور زچ کرنے سے یہ عمل نہیں رُکے گا ۔
    جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ حریت کانفرنس نے اس پر احتجاج نہیں کیا غلط اور بے بنیاد الزام ہے حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں نے اس واقعہ کی شدید مزمت کی ۔۔۔ہاں یہ بات درست ہے کہ ان کا اسٹیٹمنٹ تین روز بعد آیا یہاں تک کہ آپ نے اپنے ترکش کے سارے تیر حریت پر برسانے میں ذرا برابر تساہل نہیں برتا ۔یہ طریقہ کارحریت کی منفی سیاست کا آیئنہ دار ہے حریت اگر بااصول افراد کی جماعتیں ہیں انھیں چاہئے کہ اپنے انسانی اور اسلامی اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے ان کی پاسداری کریں چاہئے ان کی زد میںاپنے آئیں یا غیر ۔۔۔وہ اصول ہی لایعنی ہیں جن میں ’’میں اور تو‘‘یا ’’اپنا اور غیر‘‘ کا تصور موجود ہو ۔اسلام اس کی اجازت تو درکنار اس سے انتہائی ظلم قرار دیتا ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں ’’فاطمہ ‘‘نام کی ایک عورت نے چوری کی اس عورت کا تعلق ایک امیر گھرانے سے تھا بعض مسلمانوں نے بھی اس سلسلے میں سرکار ؐکی خدمت میں (شرعی سزا)ہاتھ کاٹے جانے کے برعکس کوئی اور سزا دینے کی درخواست پیش کی ،حضورؐنے انتہائی شدت کے ساتھ اس سے رد فرماتے ہوئے صحابہ ؓ کو اس سے مستقبل میں بچے رہنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی یہ بھی یاد دلایا کہ گذشتہ قومیںاسی تفریق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے غضب کی شکار ہوئیں۔وہ لوگ احکام الٰہی کے نفاذ میںبھی امیر اور غریب کا فرق کرتے تھے ۔ حریت کانفرنس کے زعماؤں کو اس جانب اپنی توجہ مبذول کرتے ہوئے یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ان کے ایک ایک عمل اور ایک ایک قول کو لوگ بہت ہی غور و فکر اور توجہ کے ساتھ سنتے ہیں ۔مانا کہ عارف اور شیرازہ کے معاملے میں تساہل کسی اور کارن سے ہوا ،یہ بھی مانا کہ آپ کے ’’میڈیاصلاح کاروں‘‘کو اس کی اطلاع بہت دیر سے ملی ہوگی مگر کیا کوئی غیر اس سے قبول کرے گا ۔زیادتی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ہو یا فوج اور پولیس کے ہاتھوں ہر حال میں زیادتی ہی ہو گی اس میں فرق کرنے کی کوئی ضرورت نہیں سوائے اس کے کہ جو چیز ظاہراََ زیادتی نظر آئے بعد میں تحقیقات سے معلوم ہو کہ وہ عین انصاف ہے الگ بات ہے مگر فہم عمومی میں ظلم ظلم ہی ہے اور ہمیں بھی ہر دو صورتوں کے ظلم کو ظلم ہی کہنا چاہئے ۔
    مضمون نگار کی آراء سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں
    ٹیگڈ: ,

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...