• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • گرفتاری سے رہائی تک

    الطاف حسین ندوی روزنامہ اطلاعات کے مستقل کالم نگار ہیں اور وہ وادی کشمیر میں اپنی قلمی کاوشوں اور دینی تبلیغ کی بنیاد پر جانے جاتے ہیں۔ وہ اکثر سیاسی سماجی اور دینی موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور اُن کی تحریروں کے بارے میں روزنامہ کو قارئین کی طرف سے ملا جلا رد عمل مل رہا ہے۔حال ہی میں پولیس نے اُن کو حراست میں لیا اور متعدد سوالات پوچھے۔ اُن کی پوچھ تاچھ سے معلوم ہوتا ہے کہ پولیس میڈیا رپورٹوں کے رد عمل میں کس حد تک جاسکتی ہے۔ ادارے کے مسلسل اسرار پر الطاف حسین ندوی نے اپنی گرفتاری کی روداد قلمبند کی ہے جس کو قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کیا جا تا ہے۔(ایڈیٹر)

    13جنوری  2010بروز بدھ ساڑھے پانچ بجے کے قریب میں گھر سے نماز مغرب کی ادائیگی کے لیے نکلا تو میں نے دور سے دوپولیس والوں کوگاؤں کے نمبردار عبدالرشید میر کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے دیکھا چند لمحوں کے بعد نمبردار عبدالرشید تیزی کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے میری طرف آیا اور مجھ سے کہا’’تھانہ سری گفوارہ کی پولیس آپ کو ڈھونڈ رہی ہے‘‘۔میں نمبردار کی معیت میں ان لوگوں کے پاس پہنچا تو میں نے ان میں سے ایک ثناء اللہ نامی حوالدار کو دور سے ہی پہچانا ۔علیک سلیک کے بعد وہ بڑی لجاجت کے ساتھ مجھ سے کہنے لگا’’ ایس ،ایچ ،اُو صاحب آپ کو بلا رہے ہیں لہذا آپ ہمارے ساتھ چلیں ‘‘۔یہاں سے کوئی دوسو میٹر دوری پر ان لوگوں نے بکتر بند گاڑی کھڑی کررکھی تھی جس میں ان لوگوں نے مجھے سوار کرتے ہی گاڑی بہت ہی تیز رفتاری کے ساتھ سلر میں واقع آر آر کیمپ کی طرف دوڑا دی ۔حوالدارکیمپ میںچندلمحوں تک کھڑے کھڑے کسی کے ساتھ باتیں کرکے فوراََ واپس آیا اور پھر ہم سبھی اسی گاڑی سے سر ی گفوارہ روانہ ہوگئے۔بیس منٹ بعد ہم لوگ سری گفو وارہ ایس اُوجی کیمپ پہنچے جہاں سے سیدھے مجھے سب انسپکٹر درجیت کے کمرے میں پہنچا دیا گیا ۔وہاں سوالات کالمبا سلسلہ شروع ہو گیا جن میں اکثر سوالات کاتعلق ماضی سے تھا ۔ڈیڑھ گھنٹے کے اس سوال و جواب سے فراغت حاصل کر کے ایس اُوجی والوں نے مجھے سری گفوارہ تھانے پہنچا دیا جہاں مجھے منشی کے کمرے میں ایک گھنٹے تک بٹھایا گیا۔ یہاں بیٹھے لوگوں کے چہرے خاصے خشم آلود تھے ۔یہاں میرے ساتھ نمبردار عبدالرشید میر کے علاوہ میرے ماموزاد بھائی ساگر فیاض بھی موجودتھے۔ اسی بیچ ساگر بیت الخلاء گیا تو منشی نے اس سے انتہائی درشت لہجے میں سخت ڈانٹ پلائی ۔ نمبر دارعبدالرشید میر گرفتار تو نہیں تھا مگر اس سے میری ہمدردی جتانے کے نتیجے میں مصیبت میں مبتلا ہونا پڑا۔

    %             یہاں پہنچ کر مجھے معلوم ہوا کہ ساگر کو مجھ سے پہلے ہی گرفتار کیا گیا تھا اور اسے کیمپ پر پہنچاتے ہی لاتوں اور گھونسوں سے نوازا گیا تھا۔میں نے ایس اُوجی والوں سے اپنی گرفتاری کی وجہ پوچھی تو مجھے بتا یا گیاکہ میرے گھر کئی روز پہلے کوئی دو آدمی آئے ہوئے تھے ۔میں نے گذشتہ دس روز میں آئے ہوئے سارے مہمانوں کی تفصیل بتا دی مگر وہ لوگ کسی بھی طرح مطمعٔن نہیں ہوئے ۔ساگر کے بارے میں وہ بتا رہے تھے کہ اس کے ساتھ کوئی دو لڑکے تھے جنہیں یہ سری گفوارہ سے اڑلچھ لے گیا ہے اس لئے یہ ان دونوں نوجوانوں کی تفصیلات بتا دے، حالانکہ ساگر کے بقول وہ کسی بھی لڑکے کے ساتھ اڑلچھ نہیں گیا تھا۔رہائی سے قبل ایس ،ایچ،او سری گفوارہ نے ساگر سے کہا کہ’’ آپکو آئی بی والے ڈھونڈ رہے ہیں‘‘۔ میں خود اس سلسلے میں حیران ہوں کہ آئی بی کا نام کیوں لیا گیا حالانکہ بعد میں آئی بی والے کہیں بھی نظر نہیں آئے ۔پولیس افسر درجیت نے مجھ سے کئی مرتبہ پوچھا کہ میرا ملی ٹینسی کے ساتھ کیا اور کیسا تعلق رہا ہے اور میری موجودہ سر گرمیاں کیا ہیں ؟یہاں طویل انتظار اور پوچھ تاچھ کے بعد یہ لوگ مجھے ایس ایچ اُو سری گفوارہ کے پاس لے گئے جہاں ایس ایچ او نے مجھ سے کوئی بات کئے بغیر پہلے ایک الگ کمرے میں ساگر اور اس کے بعد نمبردار عبدالرشید کو بلاکر میری سر گرمیوں کے بارے میں تفصیلات پوچھیں ۔پولیس چاہتی تھی کہ کسی طرح ان دونوںکو میرے خلاف کوئی من گھڑٹ بیان دینے پر مجبور کیاجائے تاکہ اُن کے ہاتھ مجھے ملزم بنانے کا بہانہ لگ جائے ۔ساگر اور عبدالرشید کے بعد ایس ایچ او نے مجھے بلایا۔ میں ان کے کمرے میں داخل ہوا تو سوالات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا ۔
    یہاں بھی مجھ سے ان دو نوجوانوں کے بارے میں پوچھا گیا جو میرے گھر آئے ہی نہیں تھے ۔میں نے ایس ایچ او صاحب سے پوچھا’’ یہ کون لوگ تھے جو آپ کے بقول میرے گھر آئے تھے‘‘۔ انہوں نے میرے اس سوال کا جواب تو نہیں دیا، البتہ وہ لگاتار مجھے اپنی بے بنیاد باتیں قبول کرنے پر راضی کرانے کی کوشش کرتے رہے ۔اُدھر ادھر کی باتوں کے بعد ایس ایچ او صاحب نے براہ راست میر ی موجودہ صحافیانہ اورمبلغانہ سرگرمیوں کے بارے میں استفسار ات شروع کر دئے ۔میں نے انہیں’ الف‘ سے لیکر ’ی‘ تک ساری تفصیلات بتا دیں کہ اچانک ’’پاڈن‘‘واقعہ پر سوالات و جوابات کا طویل سلسلہ شروع ہوگیا ۔اس لئے کہ میڈیا نے اسے ’سیکس اسکینڈل ‘قرار دیا تھا اور ایس ایچ اُو کے عبدالرشید ایتو نامی ملزم کے ساتھ مبینہ تعلقات کو ہی’خبر ‘ بنایا تھا جبکہ ایس ایچ او سری گفوارہ اس حوالے سے ایک الگ داستان بیان کرتے ہیں اور وہ میڈیا رپورٹنگ کے بعض حصوں سے اتفاق نہیں رکھتے ہیں۔ سب سے زیادہ غصہ انھیں روزنامہ اطلاعات کی اس خبر پر تھا کہ’’ عبدالرشید ایتو کے ساتھ ان کے خصوصی تعلقات ہیں ‘‘۔انہوں نے مجھ سے کہا’’ یہ خبر آپ نے ہی اطلاعات کو دی ہے‘‘۔ حالانکہ وہ خود ہی کہہ رہے تھے’’ میں نے روز نامہ اطلاعات کے آفس فون کر کے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ یہ اطلاع اُنہیں کس نے دی تھی‘‘ ۔ایس ایچ اُو سری گفوارہ کے بقول دفتر اطلاعات سے انھیں بتا دیا گیا’’ یہ خبر اطلاعات کو ایک خبر رساں ادارے کی طرف سے ملی ہے‘‘ ۔میں نے ایس ایچ اُوسے پوچھا’’روزنامہ اطلاعات سے آپ کو یہ تفصیلات کس نے بتادیں‘‘۔  اُنہوں نے جواب میںکسی’سید نثار‘ کا نام لیا۔ رہائی کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ سید نثار نام کا کوئی بھی شخص روزنامہ اطلاعات سے وابستہ نہیں ہے۔
    ایس ایچ اُو صاحب میری ساری روداد سننے کے بعد بھی مطمعئن نہیں ہو ئے کہ یہ خبر میڈیا کو میرے علاوہ کسی اور نے نہیں دی ہوگی بلکہ اپنے خاص ’’افسرانہ انداز‘‘ میں یہ خبر دینے اور چھاپنے والے حضرات کے نام ایسی ایسی فحش اور گندھی گندھی گالیاں دیدیں کہ مجھ جیسے عام کالم نگار کے لیے بھی یہ صورتحال بہت ہی شرمناک اور خوفناک تھی ۔مجھے حیرت اس بات سے ہورہی تھی کہ ایک پولیس کا آفیسر کس مُنہ سے ایک روزنامہ سے وابستہ پیشہ وروں کے خلاف اتنی گندھی زبان استعمال کررہا تھا۔
    بے بسی کے اس عالم میں مجھے وہ سب کچھ سننا پڑاجو عام حالات میں میرے لئے برداشت کرنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے ۔روزنامہ اطلاعات سے وابستہ لوگوں کے نام ان گالیوں سے میری روح تڑپ اٹھی، مگر میں کیا کر سکتا تھا، ایک عام بے بس کشمیری کی طرح، سوائے صبر کے ۔مجھے ایس ایچ او صاحب کے رویئے سے اس بات کابخوبی اندازہ ہوگیا کہ اُنہیں پختہ یقین ہوچکا ہے کہ ’’پاڈن ‘‘ کی خبر میں نے میڈیا کو دی ہے اور اسی لئے وہ میرے سامنے خبر دینے والے کو گندھی گالیاں دے کر دل کی بڑاس نکال رہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ انھیں معاف فرمائے ۔

    3            پاڈن نامی چھوٹی سی بستی میرے گاؤں سلر سے کوئی دو کلو میٹر کی دوری پر واقعہ ہے ۔یہ گاؤں بہت ہی چھوٹا ہے ۔یہاں کے لوگوں نے3 دسمبر  2009 کو غلام محمد ڈار المعروف غلام شوداکے گھر میں دری گنڈ کے عبدالرشید ایتو اور سری گفوارہ کے طارق احمد وازہ کو مشکوک حالت میں پکڑ لیا تھا ۔جس روز یہ واقعہ پیش آیا اسی روزایک صحافی بشیر نادمؔ صاحب جو  ہفت روز شیشناگ کے ایڈیٹر انچیف ہیں اور سری گفوارہ ہی کے رہنے والے ہیں، صبح سویرے میرے گھر پہنچے اوراُنہوں نے سر ی گفوارہ سے آکر مجھے اس واقعہ کی خبر دی۔ ہم دونوں ’’پاڈن‘‘ نامی گاؤں کی طرف روانہ ہوگئے جہاں لوگوں کے جم غفیر نے ہمیں گھیر لیا ۔اپنے علاقے کے لوگ مجھے ایک دینی مبلغ کی حیثیت سے ہی زیادہ جانتے ہیں ۔پاڈن کے عوام نے ہمارے سامنے بہت ہی شدید غم وغصے کا اظہار کیا۔ میں نے ان سے کہا کہ ’’ہماری ساری قوم دین سے غافل ہے اور آج کا واقعہ اسی کا نتیجہ ہے،دین ہی تمام بے حیایئوں اور بے شرمیوں سے ایک آدمی کو دور رکھتا ہے‘‘۔ میں نے مزید بتایا’’ہم ہر حادثے کے بعدصرف پچھتاوے پر اکتفا کرتے ہیں۔ ان برائیوں کے روک تھام کے لیے راستے تلاش کرنے کے بجائے ہم اس کی ساری ذمہ داری پولیس اور حکومت پر عائد کرتے ہیں جب کہ حکومت اور پولیس قانونی طور پر اس لعنت کو روکنے میں بے بس ہیں ۔اور تو اور حکومت کے تمام ادارے ان خباثتوں کو فروغ دینے میں ’’غیر محسوس رول‘‘ نبھا رہے ہیں ۔حکومت اور پولیس سے اس حوالے سے کوئی امید رکھنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہوگا ۔اس کا تدارک بس دین سے جُڑ جانے میں مضمر ہے اور اگر ہم آج یا کل کے انتظار میں رہے تو اس کے بتدریج فروغ پانے کے امکانا ت زیادہ موجود ہیں‘‘ ۔
    پاڈن کے عوام نے جو تفصیلات ہمیں بتائیں وہ میںمن وعن انہی کی زبانی پیش کروں گا ۔عوام کا کہنا تھا کہ2دسمبر کی رات کے قریباََ دس بجے رشید ایتو ، طارق اورایک تیس سالہ لڑکی گاڑی سے اُترے اور غلام ڈارکے گھر میں داخل ہو گئے۔غلام ڈار ایک ’’گویا‘‘ہے اور اپنے گاؤں سے باہر بھی گانا گانے جاتا رہتا ہے۔رشید وغیرہ کے گھر میں داخل ہونے کے بعد وہاںسے گانے بجانے کی آوازیں آئیں۔ ہمسایوں کو یہاں انجانے لوگوں کے آنے جانے سے پہلے ہی ان محفلوں پر شک ہورہاتھا ۔لوگوں کے بقول نصف شب کے قریب انہیںمکان کی کھڑکیوں میں جھانکنے سے پتہ چلا کہ ایک کمرے میں دو شخص ایک لڑکی کے ساتھ زبردستی منہ کالا کر  نے کی کوشش کررہے ہیں کہ اسی بیچ اُنہیںاندر سے لڑکی کے چیخنے چلانے کی آوازیں سنائی دیں۔ وہ جمع ہو گئے اور مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر چیخنے چلانے اور دروازہ کھٹکھٹانے کے باوجود بھی دروازہ نہیں کھولا گیا ۔لوگ مشتعل ہو گئے اور انہوں نے مکان پر سنگ باری شروع کر دی۔لوگ زبردستی مکان کے اندر داخل ہو گئے جہاں انھوں نے لڑکی اور غلام ڈار کو غائب پایا ۔مجھے چند روز قبل واقعہ کے چشم دید گواہ نذیر احمد بٹ اور منظور احمد ڈار ساکنہ پاڈن کی زبانی یہ بھی معلوم ہوا کہ پاڈن کے قریب ترین بستی بٹہ پورہ کے غنی ماگرے کے مطابق ’’لڑکی‘‘ بھاگتے ہوئے اس کے گھر پہنچی جس کے جسم پر ستر کے کپڑوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔اسلام آبادکے وکلاء کے مطابق لڑکی کی عمر کوئی پندرہ سے لیکر سولہ سال تک ہو گی ۔عوام کا کہنا تھا ’’ہم نے پولیس کو نہیں بلایا بلکہ پولیس خود ہی یہاں پہنچی اور ان کا شک ہے کہ پولیس کو واقع کی اطلاع غلام ڈار نے دی تھی‘‘ ۔خیر پولیس کے آنے کے بعد ایس ایچ او سر ی گفوارہ یہاں پہنچے ،عوام کے بقول ان کے ساتھ ایس ٹی ایف کے علاوہ سی آر پی ایف اہلکار بھی تھے ۔ایس ایچ او نے عوام سے رشید ایتواور طارق کو پولیس کے سپرد کرنے کے لیے کہا ۔عوام نے جذبات میں آکر ایسا کرنے سے انکار کردیا اور الزام عائد کیا کہ پولیس ان مجرموں کی پردہ پوشی کرتی ہے ۔کافی لے دے کے بعد عوام نے رشید وغیرہ کو پولیس کے حوالے کر دیا ۔اس طرح پولیس رشید وغیرہ کو اپنے ساتھ لے گئی جس کے بعد وہ لوگ اٹھارہ روز تک پولیس حراست میں رہنے کے بعد حال ہی میں عدالتی ضمانت پر رہا ہوگئے ۔غلام ڈار تادم تحریر لاپتہ ہے اور پولیس اس کو پکڑنے میں ابھی تک ناکام ہے ۔
    اسی روز گاؤں کے لوگ یہاں سے کوئی ایک ڈیڑھ کلومیٹر کی دوری پر پہلگام بجبہاڈہ روڈ پر نکل آئے اور سڑک کو آنے
    جانے کے لیے بند کر دیا تھا۔ جب ہم نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انھوں نے بہ یک زبان کہہ دیا’’ ہمارا تجربہ ہے کہ پولیس ان سیاہ کاریوں میں ملوث مجرمین کو چھوٹ دیدیتی ہے ،ہمارے احتجاج کا مقصد یہ ہے کہ کوئی حکومتی ذمہ دار آکر ہمیں یقین دلائے کہ ان مجرمین کو عبرتناک سزا ملے گی تو ہم اپنا احتجاج ختم کردیں گے‘‘ ۔عوام نے ہم سے یہ بھی کہا’’ ہم نے چند مقامی مین اسٹریم سیاستدانوں کو فون کر کے تمام تر حالات سے باخبر کیا مگر وہ بھی اس واقعہ پر خاموش ہی بیٹھے ہیں‘‘۔لوگ ان سیاستدانوں کی خاموشی پر خاصی برہم دکھائی دے رہے تھے۔ انھوں نے شکایت کی کہ ایس ایچ اُونے انھیں ضلع کمشنر اسلام آباد کے پاس جانے سے بھی روک دیا تاکہ حکامِ بالاان حالات و واقعات سے بے خبر رہیں ۔ایس ایچ او نے مجھے گرفتار کرنے کے بعد بتا یا ’’وہ لو گ ضلع کمشنر صاحب کے پاس گئے اور ہم نے انھیں بالکل نہیںروکا البتہ وہاں سے انھیں ایس پی صاحب کے پاس بھیجا گیا اور وہاں سے بلاآخر انھیں میرے ہی پاس آنا پڑا، اس لئے کہ کیس میرے ہی پاس تھا‘‘ ۔
    پاڈن کے عوام نے اس سے جڑے ہوئے ایک اور واقعہ کے بارے میں ہمیں بتا دیا کہ اس سے پہلے ایک اور معاملے میں غلام ڈار ساکنہ پاڈن 29نومبر 2009کوایک لڑکی کو اپنے ساتھ لیکرڈاکٹر کے پاس گیا۔ واپسی پر لڑکی نے غلام ڈار کی بد کرداری کی شکایت گاؤں والوں کے پاس جاکر کی، گاؤں والوں نے لڑکی کی روداد سننے کے بعد غلام ڈار کو تلاش کرنا شروع کر دیا مگر غلام ڈار جبار چوپان کے گھر میں چھپا بیٹھااور وہیں سے اس نے عبد الرشید ایتو ساکنہ دری گنڈ کو فون کر کے بتا دیا کہ اُسے لوگوںسے خطرہ ہے لہذاوہ اسکوبچانے کی کوئی صورت نکالے۔عوام کے بقول اس کے ایک گھنٹے بعد یہاں ایس ،ایچ ،او سری گفوارہ پہنچے اور انھوں نے مسئلہ کی سنگینی کااحساس کئے بغیر رفع دفع کر کے معاملہ ختم کرادیا ۔اس پر ایس ،ایچ، او سری گفوارہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے جو کچھ بھی کیا عوام ہی کے کہنے پر کیا اور دوسرے واقعے کے بعد عوام نے دوسری ہی کہانی شروع کردی جو بالکل من گھڑت ہے۔
    عوام پولیس اور ایس،ایچ،اوسے اسی بات پر ناراض تھی کہ انھوں نے غلام ڈار کو با ربارقانونی گرفت میں لانے کے برعکس ’’تمامتر حالات وواقعات‘‘ کو بہت ہی معمولی سمجھ کر اس سے ’’جری‘‘ بنا دیا حتیٰ کہ اب وہ دوسروں کی بہو بیٹیوں کی عزت کو نیلام کر نے کے لیے اپنے ہی گھر کو ایک اڈے کے طور پر استعمال کرنے لگا تھا ۔عوام کا کہنا تھا کہ انہوں نے ان مشکوک حالات سے پولیس کو بار بار باخبر کیا مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی ۔دوران گرفتاری مجھ سے ایس ،ایچ،او نے خود بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا’’پاڈن کے لوگ میرے پاس آئے اور یقیناََ انھوں نے غلام ڈار کی شکایت کی مگر میں نے بھی انھیں باربار کہا کہ اس کے متعلق آپ کو جو شکایت ہے اس سے لکھ کر لاو، ٔ ان لوگوں نے ایسا نہیں کیا ج سکی وجہ سے میں کوئی قانونی کارروائی نہیں کر سکا‘‘ ۔
    جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کیا ایس،ایچ،او اور عبدالرشید ایتو کے درمیان کوئی ’’خصوصی تعلقات‘‘تھے کہ نہیں ؟؟؟عوام میں اس بات کے چرچے اس وقت شروع ہوگئے جب حال ہی میں رشید ایتو نے اپنی بیٹی کی شادی کے موقعہ پر بڑے ہی عالیشان قسم کی دعوت کا اہتمام کیا تھا اور اس میں کافی سیاسی اثرورسوخ والے لوگ شامل ہو گئے تھے ۔ایس ،ایچ،او سری گفوارہ کا کہنا تھا ’’ میں نے اس کے گھر دعوت میں شمولیت ضرور کی مگر میں دوروز بعد وہاں گیا جب کہ روزنامہ اطلاعات میں خبر یہ چھپی تھی کہ میں مہمانوں کی آؤبھگت کر رہا تھا‘‘۔
    ایس ،ایچ ،او صاحب جب بھی اس بات کا تذکرہ کرتے تھے تو میڈیا کو خبر دینے والے اور روزنامہ اطلاعات سے وابستہ عملے کی خوب خبر لیتے تھے ۔رشید ایتو کی بیٹی کی شادی میں’’فضول خرچی‘‘کی وجہ سے علاقے کے عوام میں نفرت پیدا ہو گئی تھی۔ اس حوالے سے افواہوں کا بازار اب تک گرم ہے۔اس کے ساتھ پولیس کے سمبندھ پہلے سے ہی مشکوک تھے کہ پاڈن واقعہ نے معاملے پر سے پردہ اُٹھا دیا ۔ایس ،ایچ ،او سری گفوارہ اس بات کو تسلیم  ہی نہیں کرتے ہیں کہ اس کے تھانے کے ساتھ کوئی تعلق ہے ،جبکہ لوگ اب تک اپنی رائے پر بضد ہیں۔ایس ایچ او کا کہناہے’’ میرا اس سے کوئی تعارف ہی نہیں تھا کہ اچانک ایک روز یہ شخص دعوتی کارڈ لیکر آیا اور اس نے مجھے مدعو کیا، چونکہ مذہب اسلام میں دعوت رد کرنا منع ہے اس لئے ہمیں اس کے گھر تین روز بعد مجبوراََ جانا پڑا‘‘ ۔
    ایس ،ایچ ،او سر ی گفوارہ کا کہنا تھا’’ میں نے قانونی طور پر ملزمین عبدالرشید ایتو وغیرہ کےکیس بناتے وقت اس بات کا خیال رکھا تھا کہ اس طرح کی فھژ سرگرمیوں سے ہمارے سماج پر انتہائی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں‘‘۔چونکہ ملزمین کی ضمانتہوگئی ہے اس لئے لوگوں کواس بات پر حیرانگی ہے کہ عدالت نے اُنہیں اتنی جلدی رہا کیوں کر دیا ۔اس واقعہ کو علاقے کے لوگ بہت ہی شک کی نگا ہ سے دیکھ رہے ہیں ۔ عوامی حلقے ’’سبینہ سیکس اسکینڈل‘‘کی مثال پیش کرتے ہوئے پولیس کے دعوؤں کو من گھڑت قرار دیتے ہیں ۔اب یہ معاملہ پولیس کے ہاتھوں سے نکل کر عدالت کے ہاتھوں میں آچکا ہے جہاں قانونی کارروئی کا سارا دارومدار سری گفوارہ پولیس اسٹیشن کے تحقیقاتی موادپر ہی ہوگا ۔
    میرا آج کا یہ موضوع گرفتاری کے اسباب سے ہٹ کر ’’پاڈن واقعہ‘‘ کی طرف مڑ چکا ہے اس لئے کہ گرفتاری سے رہائی تک میں نے پولیس بالخصوص ایس ،ایچ ،او سری گفوارہ پر اس واقعہ کی رپورٹنگ کا بھوت سوار پایا۔ اسی وجہ سے میں نے اس واقعہ کی سرسری تفصیلات سے قارئین کرام کو باخبر کرنا چاہا تاکہ وہ حقیقت سامنے آجائے جس پر کئی وجوہ سے اب تک پردہ پڑا ہوا تھا ۔اس واقعہ سے جڑے بعض حصوں کو میں نے جان بوجھ کر حذف کردیا اس لئے کہ ان کا تعلق اس ’’ذات‘‘ سے ہے جو اس واقعہ کی اہم کردار ہے ۔ان تفاصیل سے ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔رسوائی سے بھرپور ایک داستان ہے جس سے میڈیا میں لانا اور بھی رسوائی ہے، کاش ہماری مائیں اور بہنیں ہمیں بار بار رسوا نہ کرتیں ؟؟؟میری معلومات کی حد تک حقیقت یہ ہے کہ یہ رضامندی کے برعکس جبر کا معاملہ تھا مگر ہمیں ایسے حالات نے گھیر لیا ہے کہ بے دینی اور بے غیرتی کے مہلک جراثیم نے ہمارے اندر کی انسانیت کو ختم کردیا ہے ۔کنن پوشہ پورہ کپوارہ میں جن بہنوں کو ظالموں نے نشانہ بنایا ،دو دہا ئیاں گذر جانے کے باوجود وہ اپنے مقدر پر نالاں ہیں۔ یہ وہ وجوہات ہیں جو والدین کو خاموش ہو جانے پر مجبور کردیتے ہیں ۔۔۔۔اور یہاں بھی میں کچھ اور لکھنے سے قاصر ہوں ۔۔۔۔۔
    مجھے اس سے قبل بھی کئی مرتبہ گرفتارکیا جاچکا ہے 9مئی 1996؁ سے لیکر جنوری000تک میں بالترتیب ملنگ پور پلوامہ کے برگیڈ ہیڈ کوارٹر،بادامی باغ ،وکٹرفورس اونتی پور،برگیڈہیڈکوارٹر کھنہ بل،جے آئی سی پلوامہ واسلام آباد،ہری نواس،کٹھوعہ سب جیل،ہیرا نگر سب جیل،کوٹ بلوال اورسری نگر سینٹرل جیل میں قریباََ ساڑھے تین برس تک بند رہا ہوں ۔اس وقت پولیس اور فوج نے عسکریت کی کہانی تیار کرکے مجھے حراست میں رکھا جو بعد میں عدالتی کارروائی کے وقت ایک من گھڑت کہانی ثابت ہوئی ۔آج کی مختصر اور ماضی کی طویل قید میں مجھے کافی مماثلت دکھائی دے رہی ہے ۔کشمیر میں کل بھی حق کہنا اور لکھنا جرم تھا اور آج بھی جرم ہے ۔یہ ایجنسیوں کا اپنا طریقہ ہے اور ان طریقوں سے وہ قلمکاروں اور علماء کو ایک خاص ڈگر پر چلنے کے لیے مجبور کررہے ہیں۔ مگر میں ایسے مواقع پر مرعوبیت کو علمی اور قلمی خیانت کا ناقابل معافی جرم سمجھتا ہوں ۔اپنی جیل زندگیوں میں، میں نے جو سیکھا ،کوئی مدرسہ اور کوئی یونیورسٹی مجھے اس سے آشنا نہ کر سکی ۔جیل کی زندگی ایک آزمائش ہوتی ہے جہاں انسان نہ چاہنے کے باوجود بہت کچھ سیکھ جاتا ہے ۔عقل و شعور کی پختگی ،علم و عمل میں ہم آہنگی اور سب سے بڑھکر مقصد زندگی کے تعین میں ایک نادر اور نایاب موقعہ ہاتھ آجاتا ہے ۔اس دوران آدمی کو ذہن و ضمیر کی قیمت بھی بہت آسانی کے ساتھ مہیا ہو جاتی ہے ۔آدمی کا دام بھی بہت بڑھ جاتا ہے ۔اگر اللہ کی تائید شامل حال نہ ہواور عقل کا پہرہ دارغفلت کا شکار نہ ہو جائے تو آدمی کسی کام کا نہیں رہتا ہے، اپنا سب کچھ بیچ ڈالتا ہے996؁ سے لیکر 2000 تک کی اس طویل جیل زندگی میں کیا کیا دیکھا اور کیا کیا سنا ایک الگ کہانی ہے جس سے اگر تحریری شکل دیدی جائے تو کئی ضخیم جلدوں کی کتاب تیار ہو جائے گی۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...