• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • ذکر خدا اور کربلا

    سید علی اختر  رضوی گوپال پوری
    ذکر خد انسان کے لئے مایہ شرف ہے باعث و قار ہے شخصیت و کردار کا عطر ہے یہ الطاف الٰہی کو اپنی طرف موڑے کا ذریعہ ہے کیونکہ خدا نے خود فرمایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کرو گا کیوں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کے اندر احساس فرائض زندہ ہے اور جب جمہوریت احساس فرائض کے ساتھ زندہ تو انار ہے گی تو وعدہ الٰہی کے مطابق لامحالہ نعمتوں سے نواز جائے گا۔
    حدیث قدسی میں ارشاد ہے۔
    جو شخص کسی بزم میں میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس سے بہتر مواقع پر اس کا ذکر کرتا ہوں جو خفیہ اور پوشیدہ طریقے پر میراذ کر کرتا ہے تو میں اس کا ذکر اعلانیہ کرتا ہوں۔
    ذکر اگر قلب و دماغ میں ہے تو یاد ہے زبان پر جاری ہو تو ذکر ہے لیکن اگر قلب و ماغ اور زبان میں پوری طرح رچ بس جائے تو اعضا وجود روح سے اس کا مظاہر ہ ہونے لگتا ہے اس طرح عبودیت مرتبہ کمال حاسل کر لیتی ہے۔
    علمائے اخلاق نے ذکر کے چار مرتبے قرار دئے ہیں۔
    پہلا مرتبہ زبان کا ہے کہ اللہ کا ذکر زبان سے کیا جائے۔ تسبیح و تحمید صرف زبان سے ہو آیات وا حادیث میں اس کے بے شمار فضا ئل بیان کئے گئے ہیں۔دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ زبان کے ساتھ دل بھی آہنگ ہو لیکن بعض حالات میں محسوسات اس کے دل کو اپنی طرف متوجہ کرلیں۔ اس طرح دل کی ہم آہنگی وقتی اور عارضی بن کے وہ جائے کبھی کبھی اس کا نتیجہ پریشان خیال کی صورت میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ شخصیت غیر متوازن ہو کے رہ جاتی ہے۔
    تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ زبان کے ساتھ دل بھی ہم آہنگ ہو زبان داغ قلب باہم معاون رہیں ذکر کے علاوہ چیزیں اسے اپنی طرف متوجہ نہ کر سکیں اور نہ رکاوٹ بنیں یہ رسوخ کی منزل ہے۔
    ذکر کا چوتھا مرتبہ یہ ہے کہ ذکر دل ودماغ میں اسطرح رچ بس بجائے کہ خون کی طرح رگوں میں دوڑ نے لگے۔ یاد اور ذکر ہی اس کی شخصیت بن جائے غیر خدا اس کے فکر و خیال میں بھی نہ آئے۔ انتہائے مصائب اس کے ذکر کو انگیز کرنے کا ذریعہ بن جائیں اس کا مظاہرہ ذکر سنگدلوں کو تڑپا دے ظلم و ستم دیکھ کر لرز جائے۔ عاشور ہ کے دن کر بلا میں اس کے بے شمار مظاہرات ملتے ہیں۔
    امام حسین ؑ علیہ اسلام کی اخری جنگ کا تذکرہ مقاتل میں ہے۔
    آپ جنگ کرتے کر تے ذردیر کیلئے ٹھہر گئے اچانک ایک پتھر آپ کی پیشانی پر لگا اور خون جاری ہو گیا آپ نے اسے دامن سے صاف کرنا چا ہا کہ ایک شعبہ تیر آپ کے سینے پر لگا آپ نے فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد آسمان کی طرف نگاہ کی اور فرمایا خدا تو جانتا ہے کہ یہ اشقاء سے قتل کر رہے ہیں کہ رو ئے زمین پر اسکے سوادو سراکوئی فرزند رسول ؐ نہیں۔آپ نے وہ تیر پشت سینہ سے باہر نکالا کہ پر نالے کی طرح خون جا ری ہو گیا۔
    جس وقت امام حسین ؑ اپنے خون میں نہائے ہوئے گھوڑے سے زمین پر آئے آپ کی مناجات کے فقرے یہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیرے فیصلے پر صبرکرتا ہوں اے میرے رب تیرے سوا کوئی معبود نہیں اے فریادیوں کے فریاد رس تیرے سوا امیر کوئی  پروردگار نہیں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تیرے حکم پر صبر کرتا ہوں اے پناہ جس کی کوئی پناہ نہ ہو متقل الحسین المقرم۵۴۳ء  اسرار الشہادۃ دربندی ۳۲۴ء
    امام حسین ؑ کے ساتھ جو لوگ بھی کر بلا میں موجود تھے بوڑھے جوان بچے خواتین سبھی کے سینے میں حسین کا دل دھڑک رہا تھا۔ وہ ذکر کر کے اعلیٰ ترین مدار پر اس طرح فائز ہوئے کہ امام حسین ؑ سے خراج تحسین و صول کیا کمیت کے اعتبار سے مختصر ترینھ فوج کیفیت کے اعتبار سے تاریخ آدم و عالم کا عظیم لشکر اور معرفت و عشق الٰہی کا اعلیٰ ترین نمونہ تھا انہوں نے توحید کو تمام شرائط۔۔۔۔س۔۔۔۔۔ کے ساتھ اپنے عقیدہ و کردار کا سرمایہ  بنا لیا تھا۔
    روز عاشورہ ظہر کا وقت آیا تو ابو شمامہ الصائدی جن کا نام زیاد بن عمر وبن غریب بن منظلہ بن دارم الصائدی تھا انہوں نےس سورج کی طرف دیکھا اور بارگاہ حسینی میں عرض کیا۔
    چاہتا ہوں کی آپ پر فدا ہونے سے پہلے یہ نماز جس کا وقت آگیا ہے آپ کی اقتدار میں پڑھ لوں۔
    امام حسین ؑ نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔تمنے نماز زیادہ دلائی خدا تمیں مصلیوں اور ذاکروں میں شمار کرے۔
    امام نے اس دعا میں ذکر کا وہ آخری مرتبہ مراد لیا ہے جب عشق الٰہی رگوں میں خون بن کے دوڑتا ہے لیکن مصلی کا ترجمہ عام طور سے نماز گزار کیا جاتا ہے جو عاشور کے دن ظہر کے ہنگام سے قطع نظرصرف نظر کے مترادف ہے عام حالات میں نماز پڑھنے والا بھی مصلی کہا جاتا ہے کر بلا میں طہر کی نماز در اصل ذکر خدا کی وہ آخری منزل تھی جسے صرف سابقین ہی یا رکھ سکتے ہیں۔ حضرت امیر المومنین ؑ جنگ میں مشغور تھے اچانک وقت نماز آگیا ۔ آپ چمکتی تلواروں کے درمیان نماز میں مشغول  ہو گئے ابن عباس نے حیرت سے عرض کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے امیر المومنین یئہ کیا کر رہے ہیں انہوں نے عام نماز گزاروں کی طرح مطالبہ کیا کہ ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں ۔ نماز دوسرے وقت کیلئے اٹھا رکھنی چاہئے۔
    حضرت امیر المومنین ؐ نے فرمایا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم ان سے اس نماز کیلئے جنگ کر رہے ہیں۔( وسائل حراست۷۴۲)
    ایسے ماحول میں جب تلواریں چمکہ رہی ہوں، تیروں کی بارش ہو رہی ہو نیز ے کیجول سے بٖل گیر ہو رہے ہوں۔ ایسے میں صرف سابقین ہی کو نماز یاد رہ سکتی  ہے جرامت اور امیر المومنین کا شاگرد رشید بھی فراموش کر سکتا ہے۔ لیکن ایسے میں بلکہ اس سے بھیانک اور لرزہ خیز موقع پر نماز یاد رکھنا ابو شمامہ الصائدی اور دوسرے الضار حسین ؑ کا قلب تھا۔
    امام نے لفظ مصلین میں اسی حقیقت کی نشاندہی کی ہے مصلی ایک تو صلوٰہ کا مشتق ہے لیکن ایک دوسرا مصلی سابق کے مقابل ہے گھوڑ دوڑ میں جو تیز رفتار گھوڑا اول آتا ہے اسے سابق کہتے ہیں اور دوسرا وہ گھوڑا جو دوسرے نمبر پ آئے اس طرح کی دوڑ میں سابق کے کانوں کے پاس اس کا منھ ہو۔ مصلی کہتے ہیں حدیث معصوم ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کلام عرب میں اس کے بہت سے شواہد ہیں المرقش الا کبر بطور افتخار کہتا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر کسی دن شرافت ونبرر گی کے نشانے( مقصد ) تک پہنچنے میں پہل کرنے کا موقع آئے تو ہم ہی میں سابق سب سے پہلے پہنچنے والے پائو گے یعنی اورل اور دوم ہمارئے ہی آدمی ہوں گے۔
    اس طرح امام ؑ نے ابو شامہ کو دعائیں جو فقرہ مصلین فرمایا ہے اس کا ترجمہ نماز گزار نہیں کیا جانا چاہئے۔
    امام حسین ؑ اپنے وفادار صحابی سے فرما رہے تھے کہ تم نے ایسے موقع پر نماز یاد دلائی ہے؟ ایسے موقع پر تو ہم سابقین کو نماز زیاد رہتی ہے ذخدا وند عالم تمہیں ہم سابقین کا مصلی قرا ر دے۔
    امام نے فرمایا کہ ان دشمنوں سے نماز پڑھنے کی مہلت طلب کرو جب مہلت طلب کی گئی تو حصین بن نمر نے کہا ۔ تمہاری نماز قبول نہیں ۔
    رجل فیقہ حضرت جیب ابن مظاہر نے یہ سن کر فرمایا۔ اے شرابی ! کیا تیری نماز قبول ہو گی اور فرزند رسول ؐ کی نماز قبول نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔
    امام حسین ؑ نے اسی عالم میں نماز ظہر پڑھی۔ زہیرین اور سعیدبن عبداللہ بچائو کے طور پر نمازیوں کے آگے گھڑے ہوئے۔ روایت میں ہے کہ سعید کے بدن پر اس قدر تیر لگے کہ آپ زمین پر گر پڑے اور امام ؐ سے عرض کی کیا میں نے اپنا عہد کو پورا کیا ؟ امام نے فرمایا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہام تم مجھ سے پہلے جنت میں جا رہے ہو سعید کے بدن پر تیرہ پیوست تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔( مقتل المقرم۷۹۲)
    جرات اظہار اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بقیہ ۳۸ کا ۔۔۔۔۔۔
    آج کی دنیا میں چاہے وہ کسی ملک کا ر رہنے والا اس کا مسلک کچھ بھی اس کی زبان اور تہذیب جدا جدا ہو وہ خدا کو مانے یا نہ مانھے لیکن جب اذادی انسان اور آزادی ضمیر اورجرات اظہار کا سوال آتا ہے تو بے ساختہ حضرت امام حسین ؑ کا مقدس نام اس کی زبان پر آجاتا ہے اور مجبور ہو تا ہے کہ کر ملاوالوں کو کراج عقیدت پیش کرے۔ے

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...