• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • اختلاف، تحقیق اور قلم

    پرویز حکیم ریاض حسین

    اختلاف صدیوں سے انسان کے ساتھ ساتھ چلتا آرہاہے۔اختلاف چا ہئے۔ اپنوں یا پرائیوں سے ہونے کے بے شمار وجوہات ہیں۔ مسلمانوں میں اختلاف کی وجہ صرف اور صرف تعلیمی فقدان ہے اختلاف ہماری زندگی کا ایک ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔ ہمارا کو نسا ادارہ ہے جہاں اختلاف اور جھگڑانہیں ہے ۔ اختلاف کی وجہ سے ہم بے وزن اور بے وقار ہو گئے ہیں۔جسکایہ نتیجہ نکل رہا ہے کہ ہم ہر شعبے میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ ایک گروپ دوسرے گروپ کو کمزور کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ جو چیز اچھی لگے وہ کریں۔ اپنے خیالات دوسروں پر زبردستی نہ ٹھونسیں ۔ اسی اختلاف کی وجہ سے مسلمان اس وقت بُری حالت میںہیں۔  ہر چیز سے اختلاف، آیسی اختلاف،دوسری قوموں سے اختلاف، خلیفوں پر اختلاف، اماموں پر اختلاف، رونے پر اختلاف، داڑھی پر اختلاف،یا پیجامہ پر اختلاف، ہندوں سے اختلاف،عیسائیوں سے اختلاف ، مرزائیوں سے اختلاف ، فضول باتو ں پر اختلاف،غرض ساری دنیا سے اختلاف ۔جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے اسمیں شدت پیدا ہو رہی ہے۔ اختلاف کادائرہ سمٹنے کے بجائے وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ شعیہ سنی میں اختلاف۔ دو نوں فریق اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں دونوں کی جڑیں گہری ہیں ۔ دونوں کے پاس پیسے ہیں۔ کوئی بھی فریق شکست تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ کوئی اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اسمیں خا ص رول نیم خام علمائے دین بھی ادا کررہے ہیں۔ جو اس اختلاف کو ہوا دے رہے ہیں۔ سب کے پنے اپنے مفادات ہیں۔ کچھ ماضی کی تلخیوں کا بدلہ لے رہے ہیں۔ جذبہ خیر خواہی کا تقاضہ تھا کہ دونوں طرف کے لوگ اتحاد و اتفاق کی شرط کے ساتھ وفاداری کو مشروط کرتے ۔ کسی جماعت یا قوم کی تباہی کا سب سے بڑا سبب نزاع و اختلاف ہے۔ اختلاف کی وجہ سے بزدلی پیدا ہوتی ہے پستیاں مقدر بن جاتی ہیں کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ ۔ یہ خدا صاحب کا ذاتی مسئلہ ہے۔ وہ خاموش اور نہ جانے کہاں بیٹھا ہے۔ یہ کمزور انسان ڈنڈ ا ہاتھ میں لئے سب پہ اپنی سوچ کی باتیں ٹھونسا چاہتا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے لئے جو اچھا سمجھتا ہے دوسروں کے لئے بھی اچھا سمجھے اور اسی حساب سے سوچے اور عمل کرے۔ اچھے سے اچھے طریقہ کو اپنانے کے لئے مطالعہ کرے ، تلاش کر ے اور تحقیق کرے۔ تحقیق صاف بتائے گی۔ کہ اچھا کیا ہے اور بُرائی کس میں ہے تحقیق سے ہی اولیا، انبیا، رشی منی، سائنسدان، فلا سفر وغیرہ و غیرہ پیدا ہوئے۔ تحقیق کے معنی اصلیت کی جانکاری  حاصل کرنے کی سعی ہے۔ قدرت کے بیش بہا اور بیش قسمت خزانے ایسے ہیں جو آنکھوں سے اب تک اوجھل ہیں۔ روز اول سے انسان قدرت کے راز جاننے کی جستجو میں ہے۔ آسمان کی شکل وصورت کا راز ، سمندر کی گہرائی ہو ، زمین کے اندر کیا ہے یا پہاڑوں میں کونسے راز دفن ہیں ۔ تحقیق  کی بدولت ہی ان چیزوں سے انسان آہستہ آہستہ پردہ اُٹھا سکتا ہے۔ کائینات میں ایک سے بڑھ کر ایک راز ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مریض پر بھی زندگی کے آثار ہو سکتے ہیں۔ مسلمان بھی ان ساری باتوں پر کمند ڈال سکتے ہیں۔ یہ کسی کی ذاتی جاگیر نہیں۔ کائینات کے گوشوں کو بے نقاب کر سکتے ہیں۔ اگر مسلمان ترقی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں تحقیق کے میدان میں اپنے قدم مظبوتی سے جما لینے چاہئیں ۔ رنگ ونسل سےبالا تر ہو کر لکبیر کا فقیر بننے کے بجائے کوششیں کی جائے کہ وقت کا درست استعمال ہو۔ اسطرح دین اسلام کی عمارت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو سکتی ہے اور بلند سے بلند ہو تی چلے جائے گی۔ آج تمام عالم کے مسلمان پر یشان اور بکھرے ہیں۔ آج مذہب کو ہی نفرتوں کی آما جگاہ بنا یا گیا ہے۔
    } جس دن سے انسان عقل وشعور کی وادی میں پہلا قدم رکھتا ہے اُسی دن سے وہ دماغ میں ڈھیرہ جمائے سوالات اور اُلجھنوں کو سلجھانے کی تک دو میں مصروف ہو جاتا ہے اور پھر انکشاف کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ بہت کچھ دریافت ہونے کے باوجود ابھی بھی بے شمار راز انسانی عقل وآنکھ سے پوشیدہ ہیں۔ بہت سی باتوں کو سمجھنا ہے اورسمجھانا ہے۔ اہل پورپ نے تحقیق کا سلسلہ جاری رکھا اوراس تحقیق نے ان کو کہاں سے کہاں پہنچایا ۔ انسانی عقل حیران ہے اور زبان لفظوں کے لئے پریشان ہے کہ یہ دنیا کتنی عجیب و غریب ہے  اور اندر کتنے راز چھپائے بیٹھی ہے کوئی بھی نہیں جانتا اس تحقیق کا اختتام کب ہو گا؟
    ۔ آج کا عقل مند اور علم دوست انسان یہ مانتا ہے کہ تحقیق سے نئی دنیا مل سکتی ہے۔ وہ افراد جو صدیوں سے ایک ہی خول میں مقید ہیں انہوں نے اپنی سوچ پر پردہ بٹھارکھا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے۔ اپنے سوچوں اور خیالات کو سیدھے راستے کا راہی بنائو اور انسانیت کی بقاکی خدمت کرو ۔ تحقیق ہی در اصل سمت کا تعین کرتی ہے۔ اور حقایق سامنے لاتی ہے۔ تحقیق سے نئی دنیا مل سکتی ہے۔ لیکن تحقیق کیلئے علم کا ہو نا ضروری ہے۔علم کو محض اعلےٰ ڈگریوں کے حصول کا ذریعہ بنانے کے بجائے اصلاح اور وسعت ذہن کا ذریعہ بنایا جائے ۔ ہمارے آباو اجداد خاص الخاص مخلوق نہ تھے بلکہ ہماری طرح عام آدمی تھے اُنہی کہ وجہ سے آجکل سہولتیں میسر ہیں۔ ٹی وی۔ ریڈیو، بجلی ، پنکھے ، گھڑیاں جہاز راکٹ ، عینک ، فرج، لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ، موبائیل وغیرہ وغیرہ اُنہیں کی دین ہے ۔ لیکن تحقیق کیلئے علم کا ہونا شرط ہے
    اگر آپ نے تحقیق کی تو قلم کی مدد سے اسکو تخلیق کرو۔ زیادہ تر لوگ اس بات کو ذہن نشین کر لیتے ہیں کہ لکھنے کا عمل یعنی تخلیقی عمل صرف کسی اچھے اور بڑے مصنف کا ہی کام ہے یا پھر صحافت سے جڑے لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ یہ سوچ غلط ہے۔ ہر شخص اپنی ایک فکر، ایک تصور ، ایک نظریہ رکھتا ہے۔ اُسکے نظریات و خیالات سے کسی کو اختلاف ہو سکتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم قلم کے ذریعہ اُن کو دوسروں تک لیجائیں ۔ اگر تنقید ہو تو کوئی پروا ہ نہیں۔ تنقید کے بغیر تخلیق بے ترتیب جنگل کے مانند ہوتی ہے۔ لکھنے سے یا تخلیق سے دوسرے لوگوں کو فائدہ بھی ہوسکتا ہے۔ اکژ ایسا ہوتا ہے کہ ہم فرصت کے لمحات میں ہوتے ہیں ۔اپنے دائرہ عمل سے تھوڑ سا بوجھل ہو جاتے ہیں ۔ لیکن کچھ کرنا بھی چاہتے ہیں تو ایسے لمحات میں سب سے بہترین طریقہ یہی ہے کہ کاغذ اور قلم اٹھائیں اور اپنے تجربات اور احساسات کوصفحہ قرطاس پر اتاریں ۔ قلم تلوار کا کام کرتی ہے یعنی قلم میں وہ طاقت ہے جو نسلوں کے ذہنوں کو تبدیل کر سکتی ہے۔ قلم کا زور انقلاب بر پا کرتا ہے۔ انقلاب کسی بھی قسم کا ہو سکتا ہے اگر انسان فرسودہ سوچوں کا مالک ہو تو قلم اُسکو فرسودہ خیلات سے باہر نکال کر آنے والی نسلوں پر رحم کے دروازے کھول دیگی۔ انسا ن کو چاہئے کہ وہ بغیر کسی ڈر ، بغیر کسی خوف کے قلم گھماتا جائے اور کچھ نہ کچھ تخلیق کرتا جائے تاکہ تحقیق کے دروازوں کے پیچھے کیا چھپا ہے اسکی جانکاری اس کو ملے

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...