• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • معرفت رب اور کربلا

    سید حمید الحسن زید
    کربلا۔۔۔ تاریخ بشریت کا ایک انوکھا باب ہے جہاں پر ہرچیز عام انداز فکرسے ہٹتی ہوئی نظر آتی ہے پیکر انسانی میں نظر آنے والی دو متضاد تصوریں جو ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں۔ لیکن دونوں کو حقیقی انسانیت کامصداق قرار نہیں دیا جا سکتا  اسلئے کہ ان میں سے ایک طرف انسانیت اپنے ظاہری نقوش کی صورت میں تودکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہیںاور اگر انسانیت کی ادنی معیار کے مطابق بھی پر کھ کردیکھا جائے تو زمین و آسمان کی دوری بھی کچھ نہ محسوس ہو گی۔ لیکن ہاں دوسری طرف انسانیت ہی نہیں بلکہ معراج انسانیت اپنی اعلیٰ ترین منزل پر ہے کہ جس کے اوپر طائر فکر بھی پرواز کی جسارت نہیںکر سکتا اور اس کی صحیح شناخت اگر کسی کو ہوسکتی ہے تو وہ علم مطلق کو جس کا علم علیٰ کل شی محیط ہے۔
    البتہ عام انسان اخلاقیات کے وہ نمونہ جو اسلامی تعلیمات میں موجود ہیں ان کی بنیاد پر کسی حد تک اپنی اوقات بھر کمال انسانیت کی ہلکی سی جھلک دیکھ سکتا ہے جو ساحل سمندر سے بہت دور رہنے والے کیلئے سمندر کی گہرائی کا اندازہ لگانے کے مترادف ہے۔ لیکن اس حد تک بھی اگر کوئی زندہ دل انصاف پسند اس واقعہ کے کرداروں پر نظر ڈال لے تو دو نوں جہان میں اس کی ابدی سعادت کی ضمانت ہے اور ایسا شخص اگر ان اخلاقیات کی ہلکی سی جھلک بھی اپنے اندر پیدا کرلے تو وہ آج کی دنیا میں انسانیت کی معراج پر نظر آئے گا چنانچہ ہمارے سامنے ایسی مثالیں ہیں جنہوں نے کر بلا کو سامنے رکھ کر جینے کا راستہ اپنا یا اور اس انداز سے زندگی گذاری ہے کہ ساری دنیا پر چھا گئے’‘ اور زندگی ہی نہیں بلکہ اپنی موت سے بھی زندگی کا پیغام دئے گئے۔ یہ ہماری بدنصیبی ہے جو صرف سطحی نظر سے کر بلا کے اور اورق پلٹتے ہیں اپنے قلب دماغ کو ان نورانی اور اق کی چمک سے منور نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہماری ظاہری حیات تو باقی ہے لیکن حیات میں وہ آثار دور دور تک نظر نہیں آتے جو کربلاوالوں کی موت کا صدقہ ہیں گویا ہماری حیات ان کی شہادت کی یاد کی مرہون منت ہونے کے باوجود علمی طور پر اس کی برکات سے محروم
    ہے۔چنانچہ کر بلاکے عظیم سورمائوں میں اگر اخلاق کریمہ کا جائزہ لیا جائے تو مکارم اخلاق کی ایسی مثال نظر آئے گی کہ گو یا خلق عظیم کو بہتر حصوں میں بانٹ دیا گیا ہو۔ بلکہ اہل حرم کا ہر فرد بھی اپنے عظیم کار ناموں کی بنیاد پر اخلاق رسول ؐ کی ایسی جیتی جاگتی تصور نظر آئے گی جیسے آیہ انک لعلیٰ خُلق عظیمان ہی کی شان میں نازل ہوئی ہو۔
    خلق لغت میں عادت کو کہتے ہیں اور اخلاق خلق کی جمع ہے لہذا اخلاق اچھا بھی ہو سکتا ہے اور بُرا بھی چنانچہ جیساکہ اوپر ذکر کیا گیا کربلا برے اخلاق کا بھی ایک ناقابل فراموش نمونہ ہے کہ جس کی بنیاد پر انسان اپنا کردار سنوار سکتا ہے۔ جناب لقمان ؑ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ سے پوچھا گیا کہ آپ نے ادب خلق کہاں سے سیکھا ۔کہا بے ادبوں سے یعنی ان کی بری عادتوں کو چھوڑ تا گیا اور اور باادب بن گیا۔ لہذا اس بنیاد پر کر بلا کا دوسرا رخ بھی انسانیت کی اخلاق سازی کا ایک اہم مدرسہ سے، اور اخلاقیات کے اس رخ پر نظرڈالنے کے بعد خلق عظیم کی صورت میں موجود عملی اور اخلاقی نمونوں کی عظمت کا احساس کئی گنابڑھ جاتا ہے۔
    اسلام نے تمام انسانی خوبیوں کو اخلاقیات کی فہرست میں شامل کیا ہے چنانچہ معرفت رب اور اطاعت مولا سے لیکر شجاعت، سخاوت عدالت حمایت حق، آزادی خیر جرات اظہار۔۔۔۔۔۔۔
    غرض کہ ہر اخلاقی فضلیت، عظمت و سر بلندی کے مالک کر بلا کے ان جانباز سپاہیوں کے یہاں بدرجہ اتم موجود ہے اگر تمام اخلاقیات پر تفصیل سے روشنی ڈالی جائے تو ہزاروں صفحات پر مشتمل متعدد جلدیں بھی نا کافی نظر آئیں۔ اور اس کے باوجود ایسا محسوس ہو کہ شاید آفتاب کو ایک معمولی چراغ کے ذریعہ تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے حقیقت میں ان عظیم المر تب ذوات مقدسہ کے اخلاق و کر دار تک نہ پہنچ سکنے کااعتراف ہی ان کی عظمت کا سب سے اعتراف ہوسکتا ہے جس طرح معبود برحق کے شکر سے عاجزی ہی اس کی سب سے بڑی شکر گزاری ہے ۔ اخلاقیات کی دنیا میںسب سے پہلی بات جو سر فہرست ہے  وہ صاحب حق اور اس کے حق کو پہچانناہے چنانچہ انسان پر سب سے بڑا حق خدا کا ہے۔ لہذا سب سے بڑا صاحب اخلاق وہ ہے جو خدا کو سب سے زیادہ پہچانتاہو۔
    اور خدا شناسی یا معرفت پروردگار کی جو کیفیت کر بلا والوں میں نظر آتی ہے کہیں اور اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔مدینہ چھوڑنے کے وقت سے لیکر عصر عاشور تک اور اسکے بعد شام ٖغریباں سے قید خانہ شام تک معرفت رب کی جو مثالیں ملتی ہیں وہ انسانی تصورات کی سرحدوں سے بہت بلند ہیں جہاں عبدو معبود کے درمیان تمام پردہ اٹھ جاتے ہیں اور بند ایک سچے عاشق کی صورت میں اپنے معشوق کا جلوہ دیکھتا ہے اور اس میں اس انداز سے محو ہو تا ہے کہ دنیاوی مصائب آلام کا ذرہ برا بر احساس نہیں ہوتا ۔
    جیسا کہ کربلاء کے عظیم  قافلہ سالارسرکار سید الشہداء اپنء مشہور د عاعرفہ میں ارشاد فرماتے ہیں۔ عمیت عین التراک علیا رقیاً یعنی وہ آنکھ اندھی ہے جو تجھے نہ دیکھے جبکہ تو اس پر ناظر اور نگہبان ہے۔ اپنے آقا اور سید و سردار کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کربلا کا ہر جانباز اس طرح جلوہ الٰہی کے مشاہدہ میں محو نظرآتا ہے کہ دنیاوی مصائب وآلام کاذرہ برا بر احساس نہیں ہوتا اور گو یا اپنے مولا امیر المومنین ؑ کے کردار کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔ جہاں عبادت کی حالت میں تیر بھی نکال لیا جائے تو خبر نہیں ہوتیء۔ کربل والوں نے اپنا کردارآلِ محمد ؐ کے کردار سے اتنا قریب کر دیا تھا کہ بندہ اور آقا کا فرق مٹ گیا اور ان کی حیات وحمات محمد ؐ وآل محمد ؐ کی حیات وحمات سے متصل ہو گئی۔
    جس کی عملی تعلیم آج بھی زیارت عاشورہ کی صورت موجود ہے اور ہم کوبھی اس بات کی دعوت دی گئی ہے۔ کہ بار گاہ الٰہی میں دعاکریںپروردگار ہماری موت و حیات کو محمد ؐ وآل محمد ؐ کی موت و حیات قرار دے یعنی ہمارا شمار بھی کر بلا والوں میں فرما کر ہمیں بھی ابدی سعادت سے سرفراز فرما

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...