• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • اور مجھے قیامت یاد آئی

    ابو المبشر اوکے کُلگام
    قیامت کی ہولنا کیوںکا نقشہ قرآن کریم کی آیات کو پڑھ کر آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے۔ احادیث مبارکہ کو پڑھکر دل پر لرزہ طاری ہو نا ہے۔ انسان کو اپنے کئے کرائے کا جواب دینا ہے۔ ذرہ برابر نیکی ہوتو موجود پائی جائے گی۔ ذرہ برابر بدی ہو تو جوا بد ہی کیلئے سامنے کھڑی ہو گی۔ کوئی شخص دوسرے شخص کا بوجھ اُٹھا نے والا نہ ہوگا۔ آل واولاد ۔ مال و اسباب اور جاہ حشم سب غائب ہوگا۔ دیدے پھاڑ پھاڑ کے لوگ مدد گاروں کو ڈھونڈ یں گے لیکن اپنے اعمال کے سوا کوئی چیز میسر نہ ہوگی۔
    تندرستی اور بیماری زندگی کی ایک حقیقت ہے۔انسان ہمیشہ تندرست ہی نہیں رہتا ہے۔ کبھی کبھی بیماری سے بھی سابقہ پڑتا ہے۔ انسان تندرستی میں خدا کا شکرء بجا لائے تو اس کے لئے خبر ہے۔ بیماری کی حالت میں صبر سے کام لے تو اس کے لئے خبر ہے۔ اس کا الٹا کرے تو گناگار بھی ہوگا اور پریشان حال بھی۔
    اس سال جنوری سے مجھےrologyکی کچھ وقت پیش آئی دوا دار و کیا لین مختلفestsکرنے کے بعد معالجین نے جراحی کی صلاح دی۔ 23نومبر 2009ء کی تاریخperationکیلئے مقرر ہوئی دو دن پہلے ہی صورہ میڈیکل انسٹیچوٹ کے وارڈ نمبرمیں داخلہ ہوا۔ ڈاکٹر عارف حمید صاحب نےperationکرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی سوان ہی کے حسب منشا میں نے بھی اپنے آپ کو ذہنی طور Operationکیلئے تیار کیا۔ کوئی دس بجے صبح وارڈ میں جن لوگوں کا آپریشن ہو نا تھا مطلع کیا گیا ابتدائی تیاریاں تو پہلے ہی کی جا چکی تھیں۔ اس لئے زن مرد جن کا آپریشن ہو نا تھا دیگر مریضوں اور اپنے لواحقین سے رخصت لے لے کر آپریشن تھیٹر کے طرف روانہ ہوئے۔ کچھ ہچکچاتے ہوئے جا رہے تھے۔ کچھ بادل نخواستہ اور کچھ بہ ر ضاو رغبت ۔ لیکن ہر ایک اس امید پر کہ Operationہو گا تو تندرستی حاصل ہو گی۔ دنیا ہ  امید قائم است۔
    ہسپتال میںperationوالے بیماروں کو جو وردی پہنائی جا تی ہے وہ ہم نے پہن رکھی تھی۔ تھیڑ کے باہر لوگوں کی بھیڑ تھی۔شور سرا با بھی کافی تھا کیونکہ بیماروں کے دوست واحباب سراسمیگی کے عالم میں ادھر اُدھر پھررہے تھے۔ دروارہ کُھلا۔ پولیس والے نے ہمیں اندر آنے کا اشارہ کیا۔ ہمارے داخل ہوتے ہی دروازہ بند ہوا۔ سارے دوست۔ رفیق۔ رشتہ دار باہر تھے اور ہم اندر۔ گیلری طے کی تو سامنے ایک بڑا خوبصورت حال تھا۔ جہاں دو Bedلگے تھے۔ انتہائی صاف وشفاف نہ گندگی نہ شور۔ لیکن ایک پُراسرار خاموشی۔ کچھ بیمار پہلے ہی بیڈوں پر بیٹھے تھے۔ ہم بھی خاموشی کے ساتھ مختلف چار پائیوں پر جلواہ افروز ہوئے اور دیدے پھاڑ ے ماحول کاجائزہ لینے لگے۔ کل چو دہedsتھے۔ چند خواتین۔چند مرد اور کچھ بچے موجود پائے۔ ان بیماروں میں چند لوگ جوان تھے اور کچھ بوڑھے ۔ ہر کوئی اجنبی۔البتہ وارڈ کے اندر ایک دو کے ساتھ میری شناسی ہوئی تھی۔ میرے ایک طرف ایک عمر رسیدہ لمبی داڑھی والا بھاری بھر کم آدمی تھا اور دوسری طرف ایک جواں سال آدمی
    ہال کی دوسری طرف بھی ایک گیلری تھی جس کے آگے آپریشن تھیڑ تھا۔ ہربیمار کے سامنے اس کی فائل تھی جس پر بیماری کی تشخٰیش ۔ایکسرے رپورٹ اور دوسرےest کی رپورٹ تھی جو آپریشن سے پہلے کئے جاتے ہیں۔ ہال کے اندر سبزاور نیلی رنگ کی خوبصورت اور صاف و شفاف وردی پہنے ہوئے۔سر پر ایک صاف قسم کی ٹوپی پہنے ۔ مُنہ اور ناک کو ڈھکنے والی ماسک لگائے ملازمین آتے جاتے تھے۔ ان کی آمدورفت سے ہال کے اندر کی پُر اسراریت میں مزید اضافہ ہو جاتا تھا کیونکہ وہ خاموشی کے ساتھ مختلف بیماروں کی فائلیں پڑھتے ۔ بیماروں سے مخصوص پوچھ گچھ کر تے تھے۔ فائلیں اپنے ساتھ لے جاتے تھے اور آپریشن تھیڑ واپس آکر کسی مخصوص بیمار کو بلاتے تھے ۔ ہسپتال کی مخصوص وردی کے علاوہ جس بیمار کے پاس جو کپڑا بھی ہوتا تھا وہ اس کےساتھ آئے لوگوں کو واپس کیا جاتا تھا۔ نتیجتاً ہر بیمار کی نظریں آنے والے ملازم پر ٹک جاتی تھیں کہ نہ جانے اب کی بار کس کا بھلائو آتا ہے اور کس شخص کو تن تنہا آپریشن تھیٹر کی طرف ،ان دیکھے مستقبل کی طرف جانا ہے کوئی امیر ہے یا غریب کوئی  بوڑھا ہے یا جوان کوئی عورت ہے یا مرد کسی کا کوئی وارث ہے یا نہیں۔ آگے کا مرحلہ تن تنہا ہی جھیلنا ہے ۔میں نے خاموشی کو توڑ تے ہوئے اور اپنے آپ کو حوصلہ دیتے ہوئے پاس والے بزرگ سے سرگوشی میں ہی بات شروع کی۔وہ ٹنگمرگ کے رہنے والے تھے۔ میں نے پوچھا کیسا محسوس ہو رہا ہے؟۔ بولا خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا یہ تو قیامت کا سما لگ رہا ہے۔ آپریشن کا یہ ہال قبر کے متراد ف ہے۔سب رشتہ دار دوست احباب ہم سے الگ ہیں۔ امیری اور غریبی چھوٹ چکی ہے۔ ہم اپنی اپنی تکلیف ساتھ لئے ہوئے حیران و پریشان ہیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ ہمارے نامہ اعمال یہ ہسپتال کے دار ونحے جانچ کرتے ہوئے اپنے ساتھ لیتے ہیں۔ ہم سے صرف ہمارے ہی متعلق پوچھ گچھ ہورہی ہے۔ کوئی دوسرا ہماری جگہ نہ سوالات کا جواب دینے والاہے اور نہ ہمارے نامہ اعمال کو ادل بدل سکتا ہے۔ دوست احباب سب ہم سے الگ لاچار ہیں کہ نہ ان کو ہماری عافیت کی کوئی خبر ہے کہ وہمارے معاملے میں مداخلت کر سکتے ہیں یہ تو چھوٹی سی قیامت کا نظارہ ہے۔ اصل قیامت کی ہولناکی کیسی ہوگی۔ النفسی النفسی کا کیا عالم ہوگا۔ والدین واو لاد کوئی مدد نہ کرسکیں گے۔ مال و دولت بے کار ہوچکی ہوگی۔ نامہ اعمال سامنے پڑا ہوگا نیکیوں اور بدیوں کی جانچ پڑتال ہو رہی ہوگی۔ پُر اسرار یت اپنے معراج پر ہوگی۔ ۔جنت یا جہنم میں خلود ہوگا لیکن نہ معلوم کون خوش نصیب ہو گا جیسے جنت نصیب ہو گی۔ کاش ہم آج سے ہی اس کیلئے کوشش کرتے

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...