• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • ماضی کی چند یادیں

    عنایت گل چرار شریف
    چرارشریف حضرت شیخ العالم ؒ کی آخری آرام گاہ کی وجہ سے وادی گلپوش کشمیر میں صدیوں سے مشہور و معروف ہے اس مردم خیز بستی کے بارے میں سروالٹر لارنس نے اپنی خود نوشت کتابhe Valley of Kashmirمیں لکھا ہے کہ یہاں کے لوگ ذہین ہیں اور عبدالاحد آزاد صاحب نے اپنی تحقیقی کتاب کشمیری زبان اور شاعری میں لکھا ہے کہ اس قصبے میں ادب و فہم کا مرکز ہے یہاں فارسی کے مشہور شاعر عبد الرسول، حاجی الیاس، مطب واعظ اکرم بقال، صدیق تر اگ، حسن گنائے وغیرہ جیسے علماء اور ادباء تولد ہوئے اور ایسا بھی سننے میں آیا کہ علامہ اقبال کے اجداد بھی اس قصبے سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی قصبے سے کشمیر کے ممتاز ناول نگار مفکر اورنقاد جناب غلام نبی گوہر صاحب بھی آفرید ہوئے ہیں۔ شیخ العالم ؒ کے شلوکوں کو تر تیب اور قلمبند کرنے کا شرف حاصل کرنے والے با باکمال اور با با خلیل بھی اسی مُردم خیز بستی سے تولد ہو ئے تھے۔ شیخ العالم ؒ کے معتبرکلام کو نئی جہت اور نئے جوش کے ساتھ ترتیب دینے والے ادیب اسد اللہ آفاتی۔ مرحوم غلام نبی میر۔ ابو نعیم۔ وغیرہ بھی چرار شریف کے ہی رہنے والے ہیں۔ چرار شریف میں کچھ حساس طبقے ،حساس شاعر نقاد اور سیاست دان ا ب بھی موجود ہیں۔ حاجی خاندان ایک قدیم خاندان ہے اس خاندان سے حاجی عبد العزیز کے گھرانے سے934ء کو حاجی عبد القیوم نے جنم لیا۔ حاجی عبد القیوم محتاج تعارف تونہیں ہے کیونکہ سیاست کی بات جب بھی طے ہوتی ہے تو عبدالقیوم کا نام بھی ابتدائی سیاستدانوں میںشمار ہوتا ہے۔ عبدالقیوم صاحب نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبہ چرار شریف میں حاصل کی اسکے بعد گاندھی میموریل کا لج شمس واری سے گریجویشن حاصل کی پھر علی گڈھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا وہاں سے ایم۔ اے ایل ایل بھی کی ڈگری امتیازی پوزیشن کے ساتھ حاصل کی حالانکہ ان دنوں انہوں نے وقت سے پہلے نئے زمانے کی اہمیت محسوس کی وہ یہ سمجھ گئے تھے کہ انسانی تہذیب کی منزل یا مقصد ایسی آزادی نہیں ہے جس سے لوگوں میں بے تعلقی یادوری بڑھے بلکہ انسانوں اور قوموں کے قریب آنے اور فکرو عمل کے تمام میدانوں میں میل جول اور آپس انصار ہی اس کی حقیقی منزل ہے۔ اس زمانے میں قیوم صاحب نصیب تخلص رکھا کرتے تھے اور کچھ اچھے مضا مین بھی لکھے جن میں تحقیقی اور تنقیدی مواد زیادہ ہو تا تھا کچھ مضامین علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کے جریدے میں شائع ہوئے تھے۔ اس زمانے میں ہندوستان کے معروف نقاد اور ادیب پر وفیسر رشید احمد صدیق نے جب انکے مضامین پڑھے تو انہوںنے بر ملا کیا تھا کہ واقعی یہ نوجوان مشہور نقاد بنے گا۔ قلم میں روانی ، الفاظ کی پیچیدگی اور من گھڑت داستانوں کو چھوڑ کر قیوم صاحب ایک عمدہ مفکر تھے ۔ اس وجہ سے وہ بھدرواہ کالج میں بحیثیت لیکچرار تعینات ہوئے۔ لیکن کم ہی وقفے میں وہ سوپور کے ڈگری کالج میں ایسی عہدے پر تبدیل کئے گئے۔ لیکن عبدالقیوم کے نصیب میں کچھ اور لکھا ہوا تھا تو ٹھیک957ء کو وہ سیاست میں کو دپڑے تو پہلے ہی الیکشن میں انہوں نے باری اکژیت سے کامیابی حاصل کی اس طرح سے وہ اکتوبر957 کو قانون ساز اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے پھر972عیسوی میں وزیر تعلیم۔ پھر منصوبہ بندی کے وزیر اسکے بعد اعلیٰ تعلیم کے وزیر، اور وزیر مال بھی رہے۔ وہ قانون ساز کونسل میںحذب اختلاف کی طرف سے لیڈر بھی منتخب ہوئے۔ حاجی قیوم صاب شرافت، دیانت، ذہانت، قابلیت کاسرچشمہ تھے۔ آسمانی محلوں کے بجائے وہ زمینی حقائق کو زیادہ اہم سمجھتے تھے۔ بات کا سلیقہ تدبر سے بھرا ہوتا تھا۔ اور کردار کی عمدہ مثال بھی عیاں تھی۔ قد کے چھوٹے قیوم صاحب تدبر اور سوچ کے بڑے تھے ۔ فارسی، اردو اور انگریزی زبان پر زبردست گرفت تھی۔ قیوم صاحب اچھے مقرر تھے ۔ چرب زبانی کے بجائے ادیبانہ تقاریر کرتے تھے۔ بہر کیف یکم جنوری005ء کو عبدالقیوم صاحب اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔
    ہے رنگ لالہ وگل نسرین جدا جدا
    ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہئے
    u    ایک پختہ سیاست دان کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی تدبر کے ساتھ ساتھ تاریخ پر پوری نگاہرکھتا ہو۔ یہ بھی تو ایک واضح حقیقت ہے کہ مہاتما گاندھی، محمد علی جناح، جیسے اعلیٰ لیڈر جنہوں نے ہندوستان کو فکری تدبر اور خاص حکمت عمل سے ہندوستان کو آزادی دلائی یہی وجہ سے کہ ایسے لیڈروں کو اب بھی لوگ قائد اور مہاتما کے ناموں سے یاد کر تے ہیں۔ اسی طرح کشمیر کے سیاسی لیڈر کچھ ایسے بھی تھے جو قابل اور پختہ تھے اور کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے کشمیر کو زندان بنا دیا۔ قومی مفاد اور انفرادی مفاد میں جو فرق ہم دیکھتے آئے ہیں کچھ نام ایسے بھی ہیں جنہوں نے نجی مفاد کو طاق پر رکھ کر مفاد عامہ کی بات کی مفاد عامہ کا مطلب سرکاری ملازمت بلکہ بلکہ دور دراز علاقوں کیلئے آب و دانہ بہم کرنا انکو تعلیمی اور طبی سہولیات فراہم کرنا مقصود ہے۔ یوں تو ہم عبدالقیوم کی بات کرتے ہیں انہوں نے دہلی، یا جموں میں محل نہیں بنائے۔ حتاکہ انہوں نے اپنا مکان تک نہیں بنایا تھا۔ سرکاری اخراجات میں وہ واحد عہدہ دار تھے جنکی ٹیلیفون بل گاڑی کا خرچہ وغیرہ بہت کم آتا تھا۔ کیونکہ قیوم صاحب سرکاری خزانے کو امانت سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ محمد عبداللہ جیسے لیڈر انکی قدر کرتے تھے۔ اور ڈاکٹر فاروق عبداللہ  نے  چرار شریف میں اپنی تقریر میں یہ کہا کہ ہمارے دروازے قیوم صاحب کیلئے ہمہ وقت کُھلے ہیں۔ اور یہی ایک کامیاب سیاست ہے اور کامیاب سیاستدان بھی۔۔۔۔
    مضمون نگار کی آراء سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہ

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...