• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • کربلا ایک مکمل درسگاہ

    غلام علی پمپوش

    سونیم پٹن
    جہاں انسانیت کے ہر شعبہ کی اصلاح کا سبق ملتا ہے۔ تاریخ کا یہ واقعہ کتنا قابل توجہ ہے کہ حرکا لشکر شدت تشنگی کا شکار تھا اور جانوروں کی طرح انسانوں کی زبانیں بھی دہن سے باہر نکلی ہوئی تھی۔ امام حسین ؑ کو حرکا اردہ بھی معلوم تھا اور اس کے لشکر کی نفسیات کا بھی مکمل علم تھا لیکن آپ نے اس رسالہ کو سیراب کرنے کا حکم دیدیا اور اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ مستقبل میں اپنے بچوں کیلئے پانی کا کیا انتظام ہو گا اور اپنے لشکر کا کیا انجام ہوگا اس لئے آپ کو معلوم تھا کہ یہ طرز عمل ایک دن حرکوراحق تک کھینچ کر لے آئیگا اور اس طرح آپ نے یہ درس بھی دیا کہ عظیم ترین نتائج کیلئے ہر مصیبت کا سامنا کیا جا سکتا ہے اور پانی پلانے کے حد تک کسی طرح تفریق مناسب نہیں ہے چاہئے وہ راستہ روکنے والا لشکر ہو یا حکومت پرغاصبانہ قبضہ کرنے والا حاکم ، یا سجدہ پر وردگار میں سر پر تلوار چلانے والا قاتل۔۔
    اے کر بلا تیری درسگاہ ِ شہادت پرسلام !
    تیرے بھوکے پیاسے ان معماروں پر سلام
    جنہوں نے اپنے خون سے تیری تعمیر کی ہے۔ کر بلا کی درسگاہ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ صبر بشریت کا جو ہر ہے ۔ شعار نبوت ہے اسے ہاتھ سے جانے نہ دو اور درحقیقت جہاد بھی صبر ہی کی ایک شاخ ہے ظلم کی انتہا تو ہوتی ہے صبر کی انتہا نہیں ہوتی۔
    /یہ سر زمین کربلا ہے۔ یہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ ایک درسگاہ ہے ۔ شہر کے اعتبار سے ایسا شہر جو دنیا کے تمام شہروں سے مختلف ہے اور درسگاہ کے اعتبار سے پوری کائنات کی درسگاہوں میں ممتاز ہے۔ تاریخ کے اور اق گواہ ہیں کہ۱۶ھ؁ سے پہلے سر زمین کربلا ایک صحر ا اور جنگل تھی اور کسی قوم و فرقہ نے اسے باقاعدہ طریقہ سے آباد نہیںکیا تھا لیکن ۱۶ھ؁ میں کچھ لوگ اس سر زمین پر جان دینے کیلئے وارد ہوئے اور جان دیکر اس سر زمین کو آباد کر گئے پھر اس کے بعد سے آج تک تقریباً ۰۷۳۱؁ سال گزر گئے اور شاہی حکومتوں کے چاہتے ہوئے بھی یہ زمین غیر آباد نہ ہوسکی۔
    اللہ اللہ کر بلا عبادت کی کیسی درسگاہ ہے جہاد حضرت امام حسین ؑ کا ہر سپاہی صاحب معراج نظر آتا ہے۔ بوقت ظہر ایک بوڈھے مجاہد کا امام سے یہ کہنا کہ مولا یہ نماز ظہر کا اول وقت ہے کیا بہتر ہوتا کہ زندگی کی آخری نماز بھی با جماعت آپ کی پیشوائی میں ادا کر لیتا ۔ اس موقعہ پر امامؑ نے اپنی ذمہ داری محسوس کی۔ جناب زبیر ؑ و سعید ؑ نے اپنا فرض پورا کی اور نماز پوری ہوگئی اس کے ساتھ خود امام کا وہ کر دار کہ جب آپ ؑ چھ ماہ کے بچے کی میت ہاتھوں پر لئے ہوئے بارگاہ الٰہی مین سب کچھ قربان کر دینے کے بعد یہ فرما رہے تھے کہ ہم اللہ کیلئے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں پلٹ کر جانے والے ہیں ۔ ہم اس کے فیصلے پر راضی ہیں اور اسکے سامنے ہمارا سرا طاقت خم ہے۔
    پرھ رخصت آخر کے وقت بہن جناب زینب ؑ سے یہ فرمائش کہ نماز شب کی دعائوں میں ہمیں بھول نہ جانا اور آخر میں خاک کر بلا پردہ آخری سجدہ جس نے عبادت کو چار چاند لگا دیئے ۔ اسی کے ساتھ امام زین العابدین ؑ اور ثانی زہرا ؑ جناب زینب ؑ کا بکھر ی ہوئی لاشوں ، جلتے ہوئے خمیوں ، سہے ہوئے بچوں آئیں بھر تی ہوئی بیوائوں کے درمیان ذوق عباد معراضحاصلکر رہا تھا۔ جب اپنے پورے گھرانے کی بُر بادی و تارجی دیکھتے ہوئے بھی اللہ کے ایک مخلص ترین بندہ نے سجدہ شکر میں پوری رات گزار دی اور شاید اسی موقع کی عبادت نے
    زین العابدین ؑ اور سید ساجدین ؑ بنا دیا۔
    غرض کہ کر بلا اپنی معنویت کے اعتبار سے درسگاہ عبادت ہے اے کاش ! کر بلا سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہم بھی اپنے وجود کو اپنے مالک کے حوالے کرنے کی سعادت حاصل کریں۔
    =
    کربلا ایک ایسا عظیم واقع ہے جس کے دامن میں اخلاق کی تمام عظمتیں کر دار کی تمام بلندیاں انسانیت کی خوبیاںجمع ہوگئی ہیں اور انسانی ہدایت کیلئے تمام درسہائے عظمت و کمالات اکٹھا ہو گئے اگر انسان چاہئے تو اس بحر سے بقدر ظرف اپنی پیاس بجھا سکتا ہے اور اس طرح صحیح منزل پر پہنچ سکتا ہے۔ درسگاہ کر بلا ایک ایک فردوفا کے باب میںاپنی مثا ل آپ جیسا کہ اما م حسین ؑ نے فرمایا کہ مجھے بہتر اور وفادار اصحاب ملے ہیں امام حسینؑ نے شب عاشورہ اپنے فدا کاروں سے کہا کہ تم لوگ آزاد ہو جہاں چاہو چلے جائو مگر پھر بھی اصحاب باوفا جمے رہے اور ایک لمحہ کے لئے امامؑ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ امام ؑکے ساتھ تمام پریشانیوں میں ڈٹے رہے اور جو وعدہ کیاتھا اس کو آخری وقت تک نبھایا۔ حضرت عباسؑ علم دار کر بلا نے ایسی وفا کا مظاہرہ کیا کہ لفظ وفا ان کے نام کا جز بن گیا اور آج ساری دنیا انہیں علمداروفا، تاجدار وفا جیسے ناموں سے یاد کرتی ہے اور اردو، فارسی ، عربی ، اور کشمیری میں وفا کے حوالے سے حضرت عباس ؑ کا اتنا ذکر کر لیا گیا ہے جس کی مثال کسی دوسری شخصیت کے لئے نہیں ملتی ہے یہ وفا صرف ایک بھائی سے بھائی کی وفا داری نہیں تھی بلکہ خداپرست مردمومن کی وفاداری تھی۔ ایک مسلمان جو کلمہ پڑھتا ہے گویا وہ عہد کرتا ہے کہ میں تمام عمر خد کا وفا دار ہوگا۔ نبی ؐ کا وفادارر ہوںگا۔ کربلا میں تمام وفائیں ایک نقطے پر مرکوز ہوگئی تھیں۔ امام حسین ؑ کے ہر وفادار ساتھی نے اپنے مالک سے جو عہد کیا تھا۔ اسے امام ؑوقت پر اپنی جان فدا کر کے پورا کر دیا۔
    واقعہ کر بلا نے یہ درس بھی ملتا ہے کہ انسان بندگی کے امتحان کی منزل میں قدم رکھے تو اسے کسی قسم کی آزمائش سے گھبرانا نہیں چاہئے۔واقعہ کر بلا نے اس حقیقت کو بھی مجسم بنا دیا اور انسان کو جانثاری کا ایک نیا حوصلہ دے دیا کہ اس نے خود اپنی آنکھ سے یہ منظر دیکھ لیا کہ شہید راہ حق کس طرح زندہ ہے۔ اس کی یاد قائم کی جائے ۔ اس کی عثمت کے سامنے سر تسلیم خم کیا جائے۔
    رب کریم ہمیں درس کر بلا سے استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ذکر حسین ؑ کو اپنے تذکرہ کا سبب قرار دے۔ ایام عزا کو اطاعت و عبادت کا ذریعہ بنا دے۔ حضرت امام حسین ؑ کے سچے دوستوں ، چاہنے والوں اور عزاداروں کی فہرست میں ہمارا نام بھی شامل فرما۔ ( آمین

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...