• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • ہٹ دھرمی اور حقیقت پسندی

    شہباز کلگامی
    زندگی کے معاملات میں اعتراف حقیقت انصاف سے قریب تر ہے اور ہٹ دھرمی یعنی حقیقت کا اعتراف نہ کرنا انصاف سے بعید۔ حقائق کو کھلے ذہن سے ماننا زندگی میں کامیابی کا ضامن ہے ۔یہ حقیقت نہ صرف انفرادی سطح پر بلکہ جماعتی۔ ملکی اور بین الا قوامی سطح پر بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔
    جنگ عظیم اول اور دوم میں سامراجی ذہن کے مالکوںنے دنیا کو غلامی کی زنجریں پہنانا چاہیں لیکن انہیں ہر بار مُنہ کی کھانی پڑی۔ بدلے میں انہیں شکفت وارث کا منہ دیکھنا پڑا۔ مسولنی کو پھانسی کا سامنا کرنا پڑا اور ہٹلرخود کشی کرنے کیلئے مجبور ہوا۔اٹلی اور جرمنی کو عالمی تاج کے بدلے بد حالی اور رسوائی سے سابقہ پڑا۔ امریکہ نے ویٹ نام کی جنگ جتنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگادی لیکن اسے شکست اور رسوائی کے بغیر کچھ حاصل نہ ہوا۔ روس نے افغانستان پر فوج کشی کر کے اپنی عظیم سلطنت کو وسعت دنیا چاہی لیکن بدلے میں مظلوم قوموں کی اراضی سے ہاتھ دھونا پڑا اور اپنی پرانی سرحدوں کے اندر سمٹنا پڑا۔ دنیا امریکہ پر ویٹ نام کی جنگ کے دوران اور روس کے افغانستان پر حملے کے دوران چیختی  چلاتی رہی کہ آزاد قوموں کے اقتدار اعلیٰ سے کھلواڑ کرنے سے باز رہا جائے لیکن تو سعیی مزاج نے حیقت کے اعتراف سے روکے رکھا۔ نتیجے میں شرمندگی کا ہی سامنا کرنا پڑا بلکہ اپنے وسائل اور اپنے وقار سے بھی ہا تھ دھونا پڑا امریکہ نے جیسے ویٹ نام سے کوئی سبق حاصل نہ کیا تھا۔ افغانستان پر فوج کشتی کی۔ خوش فہمیاں ختم ہو گئی ہیں امریکہ کے اصل عزائم سے دنیا بے خبر تھی نہیں ۔ کئی ممالک نے اس حملہ سے اتفاق نہیں کیا۔ لیکن ہٹ دھرمی نے اعتراف حقیقت سے باز رکھا۔
    دہشت گردی کو ختم کرانے کے بہانے امریکہ اور نیٹو ممالک تاریخ بدترین دہشتگردی کے خود مرتکب ہو رہے ہیں۔ بہت کچھ ہورہا ہے لیکن امریکہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔
    یہی قاتلانہ کھیل امریکہ اور اس کے اتحادی عراق میں بھی کھیل رہے ہیں۔ عراق کے اقتدار اعلیٰ پر کھٹ پتلی حکمراانوں کو مسلط کر کے امریکہ اس علاقے کے وسائل پر ہاتھ صاف کرنے  میںبھی لگا ہوا ہے لیکن اب جو کہ امریکہ بھی اپنی غلطی اور ناعا قبت اندیشی کا اعتراف کررہا ہے۔لیکن ہٹ دھرمی کو تھامے ہوئے اپنی احمقانہ جنگبازی سے باز بھی نہیں اتا ہے ۔ پچھلے باسٹھ سال سے جموں وکشمیر کی ریاست بھی ظلم و ستم کی بدترین چکی میں پسی جا رہی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان اس تنازعے کے سلسلے میں کئی جنگیں بھی لڑچکے ہیں ا۔ کتنی ہی بار بات چیت کا سلسلہ شروع کیا گیا لیکن ہر بار ہٹ دھرمی آڑے آئی اور مسئلہ کشمیر الجھتا ہی رہا۔ لاکھوں لوگ اس تنازعے کی بھینٹ چڑھ گئے ۔ بستیوں کی بستیاں تباہ و برباد ہوئی۔ آگ وآہن کا سلسلہ جاری ہے۔ برصغیر کے کل عوام اس تنازعے کے نتیجے میں غریت اجلاس جہالت بکمری۔ بیماری اور بے کاری کا سامنا کر رہے ہیں لیکن ہٹ دھرمی اعتراف حقیقت کے راہ میںرکاوٹ ہے۔
    پچھلے چند سال سے ایسا لگتا تھا کہ ہندو پاک ایک دو سُرے کے نزدیک آرہے ہیں۔تلخیاں ختم ہو رہی ہیں۔ محبت وروادری کا جذبہ پنپ رہا ہے۔ اعتماد سازی کے اقدمات کئے جا رہے تھے۔ راستے کھل رہے تھے تجارت کی باتیں ہو رہی تھیں لیکن بعد میں حالات وہیں پر آ ٹپکے جہاں پہلے تھے ۔
    امریکہ ویٹ نام سے دم دبا کر بھاگ گیا افغانستان اور عراق سے بھی نکلنے کیلئے مجبور رہے ۔ روس افغانستان سے اپنا سا منہ لے کر بھاگ گیا۔ برزنیف نے عالمی رائے عامہ کو پایہ حقارت سے ٹھکر اکر فوج کو افغانستان سے نہیں نکالا لیکن چند ہی سال بعد گور با چو ف نے فوج نکالنے میں ہی عافیت سمجھی۔ چاند نکہ اس وقت اس پر کوئی زیادہ عالمی دبائو بھی نہیں تھاہندوستان نے سری لنکا اپنی فوج بھیج تھی تاکہ حکومت کو نسلی جنگ سے نجات دلانے میں مدد کرے لیکن چند سال بعد اپنی فوج واپس بلالی۔
    جب بھی کشمیر کے مسلے کے سلسلے میں کوئی پیش رفت ہوتی ہے اور دنیا امید کر تی ہے کہ جموں وکشمیر کا تازعہ سلجھتے کے قریب ہے تونامعلوم ہاتھ کوئی نہ کوئی انسانیت سوز حرکت کرتے ہیں اور ہندوستان بات چیت کے باب کو سمیٹ رکر رکھ دیتا ہے۔ چھٹی سنگھ پورہ کا واقعہ ناڈی مرگ کا قتل عام اور  پتھری بل کا گھناو ناجرم استعمال صرف چند مثالیں ہیں۔
    ممبئی کے قتل عامپر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے یہ انسانت کا قتل عام ہے ۔ لیکن گناونے جرم کے چہر نے کو ننگا کرنے کیلئے سنجیدگی ۔ خلوص انصاف پسندی اور عقل و شعور کو کام میں لانے کی ضرورت ہے۔ غیر ضروری شور شرابہ سے اس مجرم ننگے نہیں ہو سکتے اور نہ امن کو تقویت مل سکتی ہے۔ جو کام باہمی صلح و صفائی سے حل ہو سکتے ہیں وہ جنگ و جدل اور مخالفت سے حل ہوئے کے بجائےاور زیادہ پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ مسائل کو حل کر نے کے سلسلے میں بنیادی باتوں کو زیر نظر لانا ضروری ہے جب تک بیماری کی صحیح جانچ نہیں ہوتی صحیح علاج کی امید ہی نہیں کی جاسکتی ۔ الیکشن سلیکشن۔ پرو پگنڈہ مہم سیاسی تگڑمبازی۔ سفارتی پنجہ آزامائی وغیرہ سے مسائل حل نہیں ہوتے۔حقیقت پسندانہ رویہ انصاف پر مبنی موقف ۔باہم اصلح جوئی اور پرخلوص جذبہ ہی کسی پیچیدہ؎ہ سے پیچدہ مسلے کو حل کر سکتے ہیں۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...