• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • سال ۰۱۰۲؁ کا پہلا فدائین حملہ

    کیا یہ عسکریت پسندوں کی بدلتی حکمت عملی ہے یا کچھ اور

    الطاف حسین ندوی
    ۶جنوری ۰۱۰۲؁کودن دھاڑے دوعسکریت پسند سرینگر کے ’’قلب‘‘لالچوک میں اچانک نمودار ہوئے اوراندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے نزدیکی پنجاب ہوٹل میں گھس کر بائیس گھنٹے تک سیکورٹی فورسز کے لیے درد سر بن گئے ۔یقیناََ انھیں اس کا کوئی اندازہ نہیں تھااس لئے کہ گذشتہ دو سال سے ایسی کوئی کاروائی عسکریت پسندوں نے نہیں کی اور نہ ہی عسکری ماہرین کو عسکریت پسندوں کے جانب سے فدائین حملے دوبارہ شروع کئے جانے کاگمان تھا ۔یہ کاروائی بالکل اچانک اور حیرت انگیز طور پر اس جگہ پر ہوئی جہاں اس طرح کی کاروائیاں انجام دینا ماضی میں بھی بہت ہی دشوار خیال کیا جاتا تھا ۔ سال نو کا آغاز اگر چہ بعض ناپسندیدہ اور حیا سوز مناظر سے ہی کیا گیا تھااورجیسا کہ ہر ایسے موقعہ پر یہاں کی حکومت ان تماشوں سے باہر کی دنیا کو یہ یقین دلانا چاہتی ہے کہ کشمیر میں ’’سب کچھ‘‘ ٹھیک ٹھاک ہے مگر ہم سب جانتے ہیں کہ یہاں’’ سب کچھ‘‘ تو درکنار کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ہمارے حکمرانوں کی گذشتہ بیس برس سے یہ عادت بنی ہوئی ہے کہ جب بھی عسکریت پسند پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کے تحت کچھ عرصہ کے لیے خاموش ہو جاتے ہیں تو دہلی سے لیکر سر ینگر تک ہر ایک بھارت نواز لیڈر میڈیا کے سامنے نمودار ہوتا ہے کہ ’’کشمیر میں دہشت گردی ‘‘کا خاتمہ ہو چکا ہے اور اب چند ایک لوگ ہیں جنہیں پولیس بہت جلد مار دے گی یا پکڑلے گی ۔ہر اس خبر کے بعد عسکریت پسند نوجوان ضرور ایسی کوئی کاروائی کرتے ہیں جس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ عسکریت اب کشمیر کے شب وروز کا حصہ بن چکی ہے اور اس سے وابستہ نوجوانوں کو جب کبھی بھی موقعہ ملتا ہے وہ اپنا مقصد حاصل کر کے چلے جاتے ہیں ۔بیس برس سے یہی کچھ ہو رہا ہے سول اور فوجی انتظامیہ کبھی عسکریت کے خاتمے کی بات کرتے ہیں اور کبھی بڑھنے کی ۔آج کہتے ہیں کہ ملی ٹینسی نہ ہونے کے برابر باقی رہ چکی ہے تو کل اس کے بالکل برعکس ’’القائدہ اور طالبان ‘‘ کے وادی میں درآنے کی ۔یہ بچگانہ پن اس بات کی دلیل ہے کہ بیس برس سے عسکریت پسندی کے ساتھ نمٹ رہے ذمہ داراں ’’کشمیر کی عسکریت ‘‘کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا ہیں یا وہ غلط اطلاعات پر بھروسہ کرنے کے عادی ہو چکے ہیں ۔لالچوک میں تازہ ترین ’’فدائین حملے‘‘نے تمام تر ابہام اور شکوک شبہات دور کردئے اور عسکریت پسند یہ بتانے میں کامیاب ہوگئے کہ بندوق کی ہمہ گیر دندناہٹ وقتی طور پر کم تو ہو سکتی ہے ختم نہیں ۔
    -
    اس سے قبل سا ل نو کے پہلے ہی روز یعنی یکم جنوری کو سوپور میںنیم فوجی دستوں پرگرنیڈوںسے حملہ ہوا اور اس کے بعدصورہ میں دو سپاہی شدید طور پر زخمی ہوگئے ۔اور اب اس سال کی سب سے بڑی عسکری کاروائی لالچوک کے بیچوں بیچ ہوئی جہاں ہر پل پولیس اور نیم فوجی دستے چپے چپے پر موجود رہتے ہیں پی ٹی آئی کے مطابق پولیس کو اس کی پہلے سے اطلاع تھی کہ عسکریت پسند کوئی بڑی کاروائی کرنے والے ہیں باوجود اس کے پولیس عسکریت پسندوں کو روکنے میں ناکام رہی ۔ادھر پانپور میں دو عسکریت پسند فوج کے ساتھ ایک معرکہ ٔ میں ۸جنوری کو جان بحق ہوگئے ۔گو ’’تسلسل کے ساتھ جاری کاروائیاں‘‘اس بات کا پتہ دیتی ہیں عسکریت پسندی کا خاتمہ فی الوقت ناممکن ہے اس لئے کہ افغانستان سے کشمیر تک ہر جگہ جہادی لوگوں کو جس شدت کے ساتھ دبانے کی کوششیں کی جارہی ہیں اسی شدت کے ساتھ عسکریت پسندی فروغ پاتی جارہی ہے ۔عسکریت پسندوں کے لیے بھی اب دو ہی آپشن باقی رکھے گئے ہیں ’’مرو یا مارو‘‘۔لہذا اپنی موجودگی اور قوت کے اظہار کے لیے بھی ایسا کرناان کے لیے ضروری ہوچکا ہے۔جہاں تک کشمیر کی بیس سال سے جاری تحریک آزادی کا تعلق ہے اس میں دو رائے نہیں ہے کہ اس کی ابتدا  ۰۹۹۱؁سے پہلے کی تحریکات کی طرح پرامن طور پر نہیں ہوئی ہے بلکہ اس کی شروعات باضابط ’’زیادہ صحیح الفاظ میں‘‘جان بوجھ کر عسکریت سے ہی کی گئی ہے ۔جس کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے اور وہ ہے دہلی کی طرف سے بلاوجہ کشمیریوں کی آواز پر کان دھرنے کے برعکس مسلسل ہٹ دھرمی۔۔۔۔۔۔
    عسکریت پسندوں میں مقامی طور پر سب سے منظم اور سب سے زیادہ سر گرم و مؤثر تنظیم حزب المجاہدین نے مرکز کی اس مسلسل پیشکش کا کافی مثبت جواب دیدیا کہ عسکریت پسند براہ راست گفت و شنید میں شامل ہو جائیں تاکہ مسئلہ کشمیر کا باوقار حل تلاش کیا جائے ۔حزب نے اس وقت تمام تر مخالفتوں کی پرواہ کئے بغیر مذاکرات کی حامی بھر لی مگر مرکز ی حکومت کی بد نیتی نے انہیں بندوق کی جانب واپس دھکیل دیا حالانکہ مقامی طور پر اس سے بڑی نیک نیتی کے ساتھ قبول کیا گیاتھا ۔حزب المجاہدین کو اس وقت کئی حلقوں کی طرف سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے انتہائی سخت لہجے میں حزب کے ساتھ ساتھ سارے کشمیری قوم کی بھی خبر لی تھی اور حزب نے اس سے بھی برداشت کرلیا ۔حریت کانفرنس کے ایک ’’فلسفی لیڈر‘‘ نے اس سے ایک ٹوٹا ہواقدم قرار دیکر بعد میںخود کئی مرتبہ جنگبندی کی تجویز پیش کی ۔حزب المجاہدین کو اسی پس منظر میں ’’جہاد کونسل‘‘سے بھی خارج کردیا گیا تھا۔سید علی گیلانی نے اس سے عجلت میں لیا گیا فیصلہ قرار دیا حالانکہ ہم سب مانتے ہیں کہ حزب کا وہ فیصلہ نہ صرف یہ کہ سو فیصد درست تھا بلکہ بعد کے حالات نے اس کے بر وقت اور بر محل ہونے کا ثبوت آپ سے آپ پیش کردیا ۔آج شاید ہی کوئی ایک آدھ شخص کشمیر کی سر زمین پر موجود ہو جو مذاکرات کا حامی نہ ہو حریت والوں کے شب و روز اسی وظیفے میں کٹ جاتے ہیں مگر جب مرکز میں ایک طاقتور حکومت بیٹھی تھی اور وہ کسی حد تک مذاکرات کے ذریعے ’’حزب المجاہدین‘‘کو’’شایدکچھ‘‘ دینے کی موڈ میں تھی تو ہر لیڈر نے ملا عمر کا روپ دھار کر حزب کی حکمت عملی کا مذاق اُڑایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حزب اب تک کئی طرح کے مسائل میں الجھی ہوئی ہے۔اس حقیقت سے شاید ہی کسی شخص کو انکار ہو سکتا ہے کہ اس مرحلہ پر ہی نہیں بلکہ آج بھی حزب کے سوا کسی دوسری تنظیم میں اتنے بڑے اقدام کی صلاحیت موجود نہیں ہے اور بعد میں چند اہم ذرائع سے معلوم ہواکہ حزب نے وہ قدم کافی تیاری اور سوچ وچار کے بعد اُٹھایا تھا ہاں اس میں شک نہیںہے کہ کئی اُمور پر توجہ نہیں دی گئی تھی ۔
    دہلی کے حکمرانوں کے بارے میں نیشنل کانفرنس جیسی کٹر بھارت نواز پارٹی بھی اب صاف الفاظ میں کہہ رہی ہے کہ دہلی کے کچھ لوگ کشمیرمیں قیام امن کے خواہشمند نہیں ہیں اور ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ ’’امن‘‘دہلی والے تو چاہتے ہیں مگر جس میں ’’قبرستان ‘‘جیسی خاموشی ہو ،نہ آزادی کا مطالبہ ہو اور نہ ہی ظلم وجبر پر منہ کھولنے کی ’’خراب عادت‘‘۔دہلی حکمران کشمیر کے بارئے میں ابھی تک اپنی پرانی wait and watchپالیسی پر کاربند ہیں جبکہ کشمیر میں دہلی کے ساتھ ۰۹۹۱؁سے قبل کی پوزیشن کی واپسی کے امکانات دوردور تک موجود نہیں ہیں ۔بھارتی سیاست شاید ’’ملکی سالمیت کے لیے ضروری عقلمندی اور طوفان آنے سے پہلے کی تیاری ‘‘سے بھی محروم ہوچکی ہے۔وہ کسی ایسے حادثے کی انتظار میں بیٹھی ہے جو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے انھیں مجبور کردے۔ملی ٹینسی اور اس کی کوکھ
    سے جنم لینے والے بے شمار ایسے واقعات جن سے بھارت کی کئی ریاستیں بار بار متاثر ہو رہی ہیں سے بھی ان پر کوئی منفی یا مثبت اثر مرتب نہیں ہو پاتا ہے وہ ابھی تک ’’اٹوٹ انگ ‘‘کی رٹ پر قائم ہیں جب کہ دوسری جانب یہی لوگ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ’’کشمیر کے بعض آزادی پسند لیڈروں ‘‘کے ساتھ خفیہ مذاکرات میں مشغول ہیں حالانکہ یہ خفیہ مذاکرات جن کے ساتھ ہو رہے ہیں زمینی سطح پر ان کے ہاتھ میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جس کی بنیاد پر مرکزی لیڈران انھیں کچھ دیتے یا ان سے کچھ لیتے ۔خفیہ مذاکرات سے قبل ’’عیاں مذاکرات‘‘کے بھی کئی ادوار ہوئے مگر مذاکرات کی حامی لیڈروں کے ہاتھ اس وقت بھی کچھ نہیں آیا سوائے اسکے کہ انھیں ’’بے اعتباری‘‘ کی کڑوی کسیلی گولی ہضم کرنی پڑی ۔
    =                   کیا یہ سبھی حالات و واقعات اس بات کی نشاندہی نہیں کرتے ہیں کہ مرکزی حکومت اور ان کی ایجنسیاں مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل میں سنجیدہ نہیں ہیں اور وہ اس طرح کے حالات واقعات سے تمام ’’آزادی پسندوں‘‘ کو یہ پیغام دینا چاہتے ہےں کہ ہم پر امن راہیں تلاش کرنے کے حامی نہیں ہیں اور نہ ہی ہم اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے کسی طر ح سنجیدہ ہیں ۔یہ کوئی مفروضہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی بھی تاریخ کشمیر کا جاننے والا نظر انداز نہیں کر سکتا ہے ۔بھارت کی مرکزی حکومت کی ابتدأ سے ہی یہ پالیسی رہی ہے کہ ’’مسئلہ کشمیر ‘‘کے حل کی بات کرنے والوں کو کسی طرح دوسرے ’’فروعی‘‘قسم کے معاملات میں اُلجھا کر وقت گذاری سے کام لیا جائے اور اس کا نتیجہ ہم نے یہ دیکھا کہ بھارت کی یہ پالیسی ’’مرحوم شیخ محمد عبداللہ ‘‘ کے بارے میں کافی مؤثر ثابت ہوئی شیخ صاحب نے آزادئ کشمیر کا اُلٹا سفر شروع کردیا اور معاملہ یہاں تک پہنچا کہ شیخ صاحب نے مسئلہ کشمیر کی وکالت سے مکمل توبہ کر کے اپنی ساری توجہ وزارت اعلیٰ کی کرسی پر مرکوز کردی۔شیخ صاحب کے بعد اجتماعی طور پر یہ مسئلہ۷۸۹۱؁میں ’’مسلم متحدہ محاذ‘‘MUSLIM UNITED FRONT  (کے الیکشن میں سامنے آیا اور اسی اسٹیج سے ایک قیادت بھی وجود میں آگئی جو بعد میں منقسم ہوگئی اور اب کئی اور افراد کی شمولیت کے بعد حریت کانفرنس کی شکل انہی افراد نے اختیار کی ہے اور ان میں بھی کئی افراد کی نگاہوں سے اصل مسئلہ اوجھل ہونے لگا ہے اور انکی ترجیحات بھی بدل گئی ہیں ان کے اس ’’انحطاطی عمل‘‘ میں مر کز کے انہی خفیہ ہاتھوں کی محنت نمایاں ہے جو کبھی شیخ صاحب اور ان کی وساطت سے اس قوم کو بہت مہنگی پڑی تھی ۔
    دہلی میں بیٹھے ان طاقتور ہاتھوں کے بارے میں سید علی گیلانی کو ایک طویل تجربے کے بعد درست ادراک حاصل ہوا ہے اگر چہ بعض لوگوں کو گیلانی صاحب کے اس اُپروچ میں ’’شدت پسندی ‘‘دکھائی دیتی ہے اور ان کا اصرار ہے کہ گیلانی صاحب کو دہلی سے خوامخواہ کی بد طنی ہے ۔کشمیر کے ہی بعض آزادی پسند لیڈروں کو ایک زمانے میں ’’لال کرشن ایڈوانی‘‘ جیسے کٹر سنگھی میں بھی ’’آدمیت‘‘دکھائی دینے لگی تھی حالانکہ لکھنپور کے اُس پار نہ ہی کوئی مسلمان اور نہ ہی کوئی سیکولر بھارتی شہری اس خیال کا حامی تصور کیا جا تا ہے اور تو اور اگر’’ روز نامہ راشٹریہ سھارا‘‘کے مدیر اعلیٰ عزیز برنی اور’’ ٹائمز آف انڈیا ‘‘کے ویر سنگھوی کے ’’ممبئی حملوں کے حوالے سے تحقیقات اور خدشات‘‘ کو ذہن میں رکھا جائے تو سید علی گیلانی کے مرکز کے متعلق خیالات کوئی بد ظنی نہیں بلکہ ایک نا قابل انکار حقیقت نظر آتی ہے کہ مر کز وقت گذاری سے کام لیکر ’’آزادی پسند قیادت چاہئے وہ سیاسی ہو یا عسکری‘‘ کو تھکا دینا چاہتا ہے اور اگر یہی بات طویل
    خاموشی کے بعدعسکریت پسندوں نے محسوس کرنے کے بعد سرینگر کے قلب لالچوک میں حملہ کر کے اپنی آتشیں کاروائیوں شروع کر نے کا فیصلہ کر کے کشمیر کے ’’لایعنی اور فضول امن عمل ‘‘کو تباہ کرنے کا فیصلہ لیا ہو تو اس کی بلواسط ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد ہو گی ۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...