• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • زلیخاہ

    پروفیسر حکیم ریاض حسین

    یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں ایس ۔ پی کالج میں فسٹ ایر کا طالب علم تھا۔ چالیں چلنا۔ شیطانیت ہماری رگوں میں بس چکی تھی۔ ہمارے کلاس میں کم سے کم چار پانچ غنڈے تھے۔ اس لاین میں مجھے بھی کھڑا رکھا جا تاتھا۔ کلاس ڈسڑب کرنا، دھمال چو کڑی کرنا ہمارے معمول میں داخل ہو چکا تھا۔ اُن دنوں ہمارے پرنسپل سیف الدین صاحب تھے ۔  گول مٹول لیکن وہ ایڈ منسٹریشن کے معاملہ میں وہ بھی کم خطر ناک نہ تھے۔ کالج کی زندگی جیسے تیسے گذر رہی تھی۔ ہم لڑکوں کیلئے دو کام ضروری ہوتے تھے۔ پہلا یہ تھا۔ کہ سنیما گھروںپلیڈیم، ریگل  خیام وغیرہ میں کسی نہ کسی طرح فلم کے لئے ٹکٹ حاصل کرنا ۔ کیونکہ ان دنو ں امیر گھرانوں کی لڑکیاںبھی سینیما دیکھنا پسند کرتی تھیں ۔  تو سنیچر کے روز انکو آدھے دن کی چھٹی ملتی تھی ۔ وہ سفید یونیفارم میں خوبصورت بھی لگتی تھیں۔ صبح سویرے یاتین بجے کچھ ایسا ہی نظارہ ہو تا  تھا۔ جو لڑکیاں بر قعے پہن کر آتی تھیں۔ ہم انکو  ’’کتجہ کلہ‘‘ کہتے تھے۔ دو منز کالج کی پرنسپل طاہرہ عبداللہ بھی بڑی سٹرکٹ تھیں۔ لڑکیوں کو مٹر گشتی کی اجازت نہ تھی۔ شام کے وقت لڑکیوں کو ٹولیوں میں گھر جاتے دیکھتے رہتے تھے ۔ اور کبھی کبھی تھوڑا فاصلہ رکھ کر ساتھ ساتھ چلتے تھے۔ یہ سب ہم اس امید پر کرتے کہ شاید کسی لڑکی کو ہماری ادا بائے اور ہم بھی رانجھا کہلائیں۔ ان دنوں کسی لڑکی کو پٹاناپہاڑسے دودھ کی نہر نکالنے کے بر ا بر تھا لڑکیاں بھی چاہتی تھیں کہ لڑکے انکے پیچھے پیچھے چلیں ۔ لیکن یہ کام ہو شیاری سے ہوتاتھا اور کوئی حدودں کو پار نہیں کر سکتا تھا۔ ان دنوںسارے عاشقوں کے مخصوص اڈے تھے۔ان دنوں فنڈ بیلس کی۔ سکول کی لڑکیاں ( جسکو آجکل کوٹھی باغ سکول کہا جا تا ہے اور یہ دو متنر کالج کے آخری سرے پر اسکے ساتھ منسلک تھا۔ اسکا گیٹ ایجوکیشن دفتر کے نزدیک تھا۔) اس سکول کی یونیفارم گلابی اور شلوار سفید تھا۔ اس میں بڑے کلاس کی لڑکیاں با حیا اور خوبصورت لگتی تھیں۔ میں بھی روز سرپیر مارتا کہ کوئی گھاس ڈالے تو لڑکے مجھے بھی ہیرو سمجھےں۔
    پہلی بات میں نے بتادی ۔ دوسری بات یہ تھی کہ ہم راہ چلتی لڑکیوں پر فقرے کس کر جلدی سے گذر جا تے کہ کہیں پکڑے نہ جائیں یا اگر لڑکی بُرامانا تو مصیبت کھڑی ہو سکتی تھی۔ عزت کو دائو پر لگا کر اسکو بچانا بھی چاہتے تھے۔ سنیماہالوں میں لڑکیاں ایک سایڈ پربیٹھ جاتی  اور لڑکے دوسرے طرف، فلم کے دوران کوئی لڑکا اندھیرے ہال میں کوئی ریمارک پاس کرتا ۔ تو حال میں ہنسی کے فوارے پھوٹ جاتے ۔ جب شو ختم ہو جاتا تھا تو ہم جلدی سے باہر نکل کر گیٹ کے نزدیک کھڑے ہو کر لڑکیوں کو باہر نکلتے دیکھ لطف اندوز ہوتے۔ زیا دہ سے زیادہ ریمارکس پاس کرتے ۔ یہ ہماری محبت کی دنیا تھی۔زہنوںپر فلموں کا اثر تھا۔ دلیپ کمارراجکپور راجندر کمار دیوانند ، دھرمندر،ہمارے زہنوں پرقبضہ کئے ہوئے تھے۔ اس لئے انکا اثر لیکر کو شش رہتی تھی کہ کسی نہ کسی طرح لڑکی کو پھساکر ان سے پیچھے نہ رہیں۔ لیکن یہ کام پر خطرتھا۔ روز کوشش ہو تی اور روز ناکامی ہو تی تھی۔ کوئی کوئی خوش قسمت مشکل سے کا میاب ہو جا تا تھا۔ لیکن ایسا راز سال بھر کے بعد معلوم ہو تا۔ لڑکی کو ساتھ لیکر چلنے میں خطرہ ہی خطرہ تھا۔ پولیس پیچھے ، دوست پیچھے گھر والے پیچھے، محلے والے پیچھے سب پیچھے پڑجاتے تھے ان خطرات کے باجود ہر عاشق مزاج لڑکا تاک میں رہتا تھاکہ کوئی مچھلی اس کے جال میں پھنس جائے۔ میرے دو مخصوص ذاتی اڈے تھے۔ ایک بربر شاہ کر اسنگ اور دوسر ی وہ جگہ جو بسکو سکول کے مین گیٹ کے نزدیک ہے۔جہاںآ ج یورینل ہے۔ لیکن وہاں چھوٹا گورنمنٹ کا قائم کر دہ بس سٹاپ ہوا کرتا تھا۔ ہم کبھی لڑکیوں کا پیچھا ٹولیوں میں پھر بھی ڈر ڈر کر تے تھے۔لیکن میں ہمیشہ اکیلئے بازی کھیلنے کا عادی تھا ۔ یا تقدیر مجھے ایسا کرا رہی تھی ۔میں ایک دن بسکو سکول کے نزدیک بس سٹاپ پر کھڑے ہو کر لڑکیوں کے خوبصورت چہرے دیکھ کر ہی بس کرتا تھا۔ میرے سامنے سے انتہائی خوبصورت لڑکی گذری۔ ہماری نظریں ٹکرائیں۔ اپنی خوبصورتی  سے بے خبر وہ بے خوف چل رہی تھی۔چال ڈھال سے لگ رہا تھا کہ وہ کسی پہنچے ہوئے گھرانے کی لڑکی تھی ۔ جیسے ہی میرے نزدیک سے گذری کہ میرے ہونٹوں سے خود بخود نکل گیا ’’ جس ملک کی سرحد کی نگاہ بان ہوں آنکھیں اُس ملک کی سرحد کی کوئی چھو نہیں سکتا ۔ اُس نے میری طرف دیکھا اور تھوڑے  انتظار کر نے کے بعدگاڑی میں سوار ہو کر چلی گئی ۔ یہ کوئی مسلہ ہی نہ تھا یہ چھپا چھپی کا کھیل یا اس طرح کے کھیل روز کا معمول تھا۔ دوسرے دن میں مقرر جگہ پر کھڑا ہو گیا  اسی اثنا میں وہ کل والی لڑکی دور سے نمودار ہوتی نظر آگئی۔ میرے نزدیک سے گذری تو جس ملک کی سر حد کی نگہبان ہوں۔۔ اس ملک کی سرحد کو کوئی۔۔۔۔ ہونٹوں سے نکل گیا لیکن اس نے کوئی توجہ نہ دی۔ آہستہ یہ روز کا معمول بن گیا۔ وہ کسی قسم کاایکسپرشن ہی نہیں دے رہی تھی۔ نہ اقرا رکی نہ انکار کی۔ میرا ڈائلاگ ہوائوں میںغائب ہو جاتا ہے ۔۔ انسان کے بارے میں کچھ کہنا بہت مشکل ہے۔۔ ابھی تو مجھے کچھ پتہ نہیں تھا۔ اُسکی آنکھیں بڑی  اور بادامی تھیں۔ جن میں سرمہ اپنی جکہ فٹ بیٹھ کر لوگوں کی دلوں دھڑ کنوں کو تیز کرتاتھا چہرہ اُسکا تھوڑا لمبا تھا جس پر خدانے ایک عجیب قسم کشش دی تھی۔ ۔
    رو ز روز گھر جا کر شیخ چلی کے تلہ مٹھ بناتا تھا کہ کل یہ وہ کروں گا۔ محبت کا اظہار کر و نگا۔ لیکن دوسرے دن جب ملتی تھی۔ تو میری زبان کی ڈائریکشن تبدیل ہو جا تی تھی۔ میرگھگی بند ہو جاتی ۔ کیونکہ گھر کا ڈر محلے کاڈر پولیس کاڈر بدنامی کا ڈر لڑکی کار ولٹ ڈرا ہا تھا۔
    uدن گذرتے گئے میں روز بغیر کسی سے کچھ کہے مخض ریمارک پاس کرتا تھا۔ لیکن اسکی طرف سے کوئی ریسپانس نہیں آرہا تھا۔ وقت کسی کا غلام نہیں ۔ برف شروع ہو گئی سکولوں اور کالجوں میں چھٹیاں ہو گئیں۔ اب میں تھا اور میری تنہائی  جسکو میں شدت سے محسوس کر رہا تھا۔ لڑکی کا گھر معلوم تھا۔ نہ اتہ پتا۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ مایوس ہوا اور رنجیندہ بھی رہنے لگا۔ وقت گذر تا گیا اور لڑکی میرے زہن سے اتر کر واپس سوار ہو تی ۔ کالج اور سکول دوبارہ کھلے ۔ لیکن میں اُس لڑکی کو دو بارہ  دیکھ نہ پایا ۔ لیکن اب زندگی کا بھی سوال تھا۔ امتحان وغیرہ کا کام بھی تھا۔ میں فائنل میں تھا۔  میرے قریبی دوستوں میں فیروز رشید اور قمر الدین تھے۔ فیروز امیر ترین گھرانے کا لڑکا تھا۔ رشید درمیانی طبقے کا لڑکا تھا۔ قمر الدین بانہال کا ۔۔۔ میں بھی اچھے تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتا تھا ہماری آپس میں کا فی بنتی تھی ۔ فیروز مجھ سے تھوڑا بہت ڈرتا تھا ۔ کیونکہ حکم چلانا اور اس پر عمل کرانا اسکی عادت تھی جو میرے لئے قابل قبول نہ تھا ۔ وہ ہر کام میں پیش پیش رہتا تھا۔ لیکن آگے کسی کو پڑنے نہیں دیتا تھا۔وہ سنوار میں رہتا تھا۔ میرے ساتھ اسکی کافی دوستی تھی۔ نہ جانے اُسے مجھ میں کیا نظر آیا۔ وہ مجھے اپنی گاڑی میں کافی گھما تا پھراتا تھا ساتھ میں رشید اور قمرالدین بھی ہوتے تھے۔ ایک دن فیروز مجھے اپنے گھر سنوار لے گیا ۔ گھر بڑا عالیشان تھا۔ مکان کے ساتھ ایک بہت خوبصورت باغ تھا۔ جسمیں ایک حصے میں کرسیاں اور ٹیبل لگے ہوئے تھے۔ خوبصورت پھول باغ کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہے تھے۔ پھر یہ بار بار ہوا۔ ایک دن اسکے باغ میں کرسیوں پر بیٹھ کر دھو پ کی کرنوں کو اپنے جسموں میں جذب کر رہے تھے۔ اچانک میری نظر مکان کے دروازے پر پڑی ۔ ایک آسمان سے اُتریا پسرا ہاتھ میں ٹرے لیکر ہماری طرف بڑھ رہی تھی۔ فیروز کھڑا ہو گیا اورا پسرا سے کہنے لگا، کیا  علیا گھر میںنہیں ہے۔ بہنا بہنا مجھے بلانا تھا میں خود مہمانوں کیلئے چائے۔۔ اُس لڑکی نے ٹرے بھائی کے ہاتھ پررکھی اور اندر چلی گئی  ۔ میرے پیر وں تلے سے زمین کھسک چکی تھی۔ کیونکہ یہ وہی لڑکی تھی جسکو میں کہتا تھا کہ’’ جس ملک کی سرد کی نگہبان ہوں آنکھیں اُس ملک کی سرد کی کوئی چھو نہیں ۔۔۔  یہ میرے دوست کی بہن تھی  ۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ کہ میں کیا کروں اور کیا نہ کروں ۔ بھاگنے سے شکوک ابھر سکتے تھے۔ بھوک  مرچکی تھی۔ لیکن دوستوں کا ساتھ دیکر چائے کے زہر یلے گھونٹ  نیچے اُٹار رہا تھا ۔ دماغ میں پریشانیاں اور الجھنیں تلا طم پیدا کر رہی تھیں۔ دماغ اڑان کی کوشش میں لگا تھا۔ دوست بھی پریشان ہوئے کہ دیکھتے دیکھتے مجھے کیا ہوا۔ دماغ سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔  فیروز مجھے اپنی گاڑی میں ڈال کر کے مجھے گھر لے آیا۔ گھر آکر بستر پکڑ لیا عجیب قسم کا کھیل شروع ہو چکا تھا۔ بے قصور ہو کر بھی میں خود کو قصور وار ٹھہرا رہا تھا۔ کچھ ڈر کچھ خوف اور کچھ احساس گناہ کی وجہ سے کالج نہ گیا۔کہ شاید بہن نے اپنے بھائی فیروز کو میری کمینہ حرکتوں کی جانکاری دی ہو گی۔ تیسرے دن فیروز اچانک گھر آگیا اور مجھے اپنی گاڑی میں کالج لے گیا۔ مجھے راحت ملی۔ کہ کوئی گڑ بڑ والی بات نہیں ہے۔ فیروز کے گھر میں دوبارہ آنا جانا اپنے ذہن کو صاف رکھتے ہوئے شروع کیا۔ نام زلیخاہ تھا۔ میرے سامنے کئی بار باغ میں آتی تھی۔میرے اور میرے دوستوں کے ساتھ بڑے صاف طریقہ سے کبھی کبھی گپ شپ بھی کرتی تھی۔ لیکن میں ہمیشہ اُسکے سامنے اپنی غلطی کی وجہ سے بجھا بجھا  سار ہتا تھا۔ مجھے اپنا ضمیر جھکائے ہوئے تھا۔ لیکن  وہ ایسے اظہار کر رہی تھی کہ جیسے کچھ ہو ہی ا نہیں تھا ایک بات میرے زہن  میںکھٹک رہی تھی کے فیروز کے گھر والے کچھ منفرد قسم کے لوگ تھے شاید ان کے پاس دولت تھی۔ اسی لئے گھمنڈی بنے ہوئے تھے اس قسم کے اثرات فیروز میں بھی نمایاں  تھے۔ کبھی کبھی وہ نوکروں سے بہت ہی بر ابرتاو کرتا ۔ اور ہمارے سامنے بے عزت کرتا ۔ ایک دن کی بات ہے کہ فیروز نے مجھے بلا کر کہا تمارا میتھامیٹکس بہت سڑانگ ہے۔ میری بہن2th میں پڑھتی ہے  میتھ میں کمزوری ہے۔ اسکی تھوڑی بہت ہلپ کر دے جسکی میں نے اسلئے جلدی حامی بھرلی کہ میرے احسان کرنے سے شاید میری غلطیاں دھل جائینگی ۔ میں ایمانداری سے اپنی غلطی  پر شرمساری کا مظاہرہ کرنا چاہتا تھا۔لیکن میری قسمت میں اور ہی قسم کے الفاظ درج ہو چکے تھے۔ مجھے لگنے لگا کہ زلیخاہ پڑھائی میں کم اورمجھ میں زیادلچسپی لے رہی ہے دماغی طور وہ پڑھنے کے دوران غیر حاضر رہتی تھی۔ لیکن میں اُس سے نظریں ملانے سے گریز کر رہا تھا۔ مجھے لگاکہ میں اُسکی سرمہ سے بھری ہوئی جھیل جیتی آنکھوں میں ڈوب نہ جائوں تو وہاں سے میرا نکلتا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہو گا۔ جو میری دوستی کیلئے بھی ایک دھبہ ہو گا ۔ ایک دن موقع قیمت جان کر کہنے لگی کہ سر تاج صاحب (یہ نام اسی کا دیا ہوا تھا) آپکی دی ہوئی کاپی پر آپ کے لکھے ہوئے نام کے اردگرد میں نے قلم سے ایک حصار بنا دیا ہے۔ آپ کو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔  تو وہ ایک ہی بات ہوتی ہے۔ سر تاج صاحب جس ملک کی سرحد کی نگہبان ہوں آنکھیں۔ اُس ملک کی سرحد کو آپ ہی چھونے کی جرت کر سکتے ہیں ۔ مجھے اُسکا مطلب صاف سمجھ آرہا تھا وہ مجھ سے محبت کا اظہار کر رہی تھی پھر بھی ڈرتے ڈرتے میں نے پوچھ ہی لیاکہ کیا زلیخاہ یہ سچ ہے کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔ اُسنے دھبے دھبے لفظوں میں کہا ۔ اس دن سے جس دن سے آپ امیرا  کدل کے بس سٹینڈ کے پاس ریمارس پاس کرتے تھے۔نصاب کی کتابیں بند ہوچکی تھیں اور محبت کی ڈکشنری کھل چکی تھی۔ میںدل کی گہرائیوں میں ڈھوب چکا تھا خوشی بھی ہورہی تھی۔ محبت کے لفظوں کا کھیل شروع ہو چکا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ اُسکا مجھ سے سچا اظہار محبت ، محبت کی آخری سر حدوں تک پہنچ چکا تھا۔ میرے پیچھے مڑنے کے راستے مٹ ہو چکے تھے۔ اُسکا اظہار محبت مجھے اس لڑکی کی محبت میں انتہائی سمندر کی گہرائیوں میں اُتار چکا تھا۔ مجھے محسوس ہونے لگا کہ اس لڑکی کے بغیر زندہ رہنا محال ہے۔ محبت ہماری پر دان چڑھ رہی تھی۔چٹھیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔
    آدب میرے سرتاج
    آپکا تو صر ف لقب زخمی ہے۔ لیکن جسم تو میرا چکنا چور ہے۔ کافی تلاش کیا کہ اظہار محبت کے الفاظ کس بازار میں بکتے ہیں۔ لیکن کیا کریں اظہار کے وقت انسان گھونگی دنیا میں جاتا ہے میرے قلب و نفس پر ایک عجیب سی بے خودی طاری ہے اور میں نہیں جانتی ہیں کیا کررہی ہوں لیکن اتنا تو ضرورجانتی ہوں کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے۔ یہ محبت دبے پائوں میرے دل میں داخل ہوئی۔ مجھے اپنی محبت کا انجام صاف دکھائی دے رہا ہے۔ مجھے آغاز سے نہ گلہ ہے اور نہ انجام سے میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ میرا دل تمہارے ساتھ ہے اور زندگی کی آخری سانسوں تک تمارے ساتھ ہی دھڑ کے گا۔ صرف وعدہ کروکہ ہمارے مزار الگ الگ نہ ہوں ۔ ساتھ ساتھ ہوں۔
    آپکی محبت کی داسی
    ایک دن زلیخانے مجھے میرے دوست قمر الدین کے گھر  بلایا وہ میرے دوستوں کو پوری طرح جانتی تھی وہ میرے لئے محبت کی دوسری جنگ عظیم کی خطر ناک سرحد تک جانے کیلئے تیار تھیں ۔ اُس نے مجھ سے کہا سرتاج قریب قریب ۰۳ لاکھ کا سوتا ہے۔ ہم یہ سونا لیکر ہندوستان کے کسی شہر میں کسی کورٹ میں شادی کر کے زندگی گذاریں گے جس زندگی میں صرف میں اور صرف تم ہی تم ہو میرے لئے۔ معلوم ہے کہ تم ایک اچھے اور شریف گھرانے کے ہو۔ لیکن دولت کے ریل پیل کے سامنے یہ کچھ بھی نہیں یہ بکواس لگتا ہے میرے گھروالے دولت کے نشے میں چورہیں۔ تم انکی دولت کے سامنے بہہ جائوگے تمارا وجود بھی نظرنہ آئیگا۔ انکی دولت تم کو ٹے ڈوبے گی۔ وہ تماری غریبی کی وجہ سے تم کو میرے ساتھ جڑنے نہیں دیںگے ۔ یہاں لوگ دولت کے پجاری ہیں ۔عبادت گاہوںمیں دھوکہ دینے کےلئے جاتے ہےں۔ میرے ماں باپ میری شادی انگلینڈ میں  جانے مانے کر ڈو پتی عاشق حسین سے کرنے جا رہے ہیں۔میں نے اپنے ماں باپ کو صاف اور صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ میں یہ شادی کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں ایک ہفتے سے میرے گھر میں یہ چل رہا ہے۔ لیکن میں انکاری ہوں۔ اس لئے بہتر ہے کہ ہم دونوں اس شہر سے بھاگ جائیں۔ وہ کہتی جا ری تھی آنکھیں آنسو کی لڑیاں بہا رہی تھیں۔ کیونکہ میں ایک غریب گھر کی اولاد تھا ۔ کیا شادیوں کیلئے کر ڈوپتی ہو نا ضروری ہے۔ یہ کیسی دنیا ہے۔ یہاںمساوات نام کی کوئی چیزی نہیں۔ لوگ تو مساوات کے بارے میں بھاشن دیتے ہیں لیکن عملی طور پر نام کام ہیں۔ یہ کلاس وار ہر جگہ اور ہر چیز میں ہے ۔ اگر چہ میں غریب تھا لیکن تھا ضمیرنام کی چیز موجود تھی۔ میرا ضمیر نہ میرے دوست کی دھوکہ دینا چاہتا تھا نہ اسکے ماں باپ کا دل دکھانا چاہتا تھا نہ اپنے ماں باپ کیلئے کسی قسم کی پریشانی پیدا کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ میں زلیخاہ سے محبت کر تا تھا۔ ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ جتنا وہ مجھ سے پیار کرتی تھی۔ میں اسے دوگنا اسکو چاہتا تھا۔ میری راتوں کی نیند اسکے لئے حرام ہو چکی تھیں دنیا کی کوئی طاقت اسے مجھے سے چھین نہیں سکتی تھی۔ میں زلیخاہ کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ میں نے اُسے بہت سمجھایا کہ ہم دونوںکا بھاگ جانا اچھی بات نہیں ہے۔ یہ کوئی اچھا طریقہ نہیں ہے۔ کل پولیس ہمارے پیچھے پڑے گی۔ سارے پریشان ہو جائینگے اس لئے صبر کرو سب ٹھیک ہو جائیگا، مجھ پر بھر وسہ رکھو میں سب کچھ سنبھال لو نگا۔ وہ بضد تھی۔ شاید آنے والی مصیبتوں اور خطرات سے گھبرا رہی تھی۔ میں نے اُسے پورا بھروسہ دیا وہ سونا بیگ میں ڈال کر میرے لفظوں سے مطمن ہو کر گاڑی میں گھر واپس چلی گئی۔ اس سارے واقع میں قمرالدین اور اسکے گھروالے خاموش رہے ۔ صرف قمر الدین کے الفاظ تھے۔ کہ تم غلطی کر رہے ہو۔ جو وہ بول رہی تھی ٹھیک بول رہی تھی۔
    ۔ مجھے اپنے دوستوں پر کافی بھروسہ تھا۔  میں نے رشید کو بھی اعتماد میں لیا۔ وہ بہت حیران ہوا۔ اُسنے مجھے مدد کرنے کی یقین دہانی کی۔  مجھے زہنی اطمینان ہوا۔ فیروز کے باپ کے دو مکان تھے۔ اایک مکان کے ایک کمرے میں میری محبت پروان چڑی۔ ایک دن باتوں با توں میں فیروز رشید اور میں اسی مکان کے اندر جیسے ہم چلے جاتے تھے چلے گئے ۔ لیکن مذاق مذاق میں مجھے ان لوگوں نے کھمبے کے ساتھ رسیوں سے باندھ لیا ۔ میں پہلے اسی سے صرف مذاق سمجھا۔ لیکن اچانک فیروز کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ اُسنے مجھے ہاتھوں ، لاتوں اور مکوں سے بے دریغ مارنا شروع کیا۔ جس میں اُسکا ساتھ رشید بھی دے رہا تھا۔ میر ی مرمت کے ساتھ وہ مجھے گالیوں سے نواز رہا تھا۔ حرامی ۔ سالہ دو غلا۔ بدمعاش۔د۔ تم میری بہن کوورغلا رہا تھا۔ اب مجھے بات سمجھ میں آئی کہ وہ کیوں مجھے اتنا ما رہا تھا۔ دوستی کا ناجائزفایدہ اُٹھا کر تم ایک بڑے گھر کی لڑکی کو ورغلانا چاہتے ہو۔ تم بڑے کمینے نکلے ۔ وہ دونوں مجھے بے دریغ مار رہے تھے۔ مجھے کچھ کہنے ہی نہیں دیتے تھے۔ میرے کانوں اور ناک سے خون بہہ رہا تھا۔ اُس نے میری ناک توڑ کے رکھدی تھی وہ غنڈہ بھی تھا۔ میں نے اُسے کہا کہ تم میری بات سن لو۔ وہ میری ایک بات بھی سننے کیلئے تیار نہیں تھا۔اچھوت کی اولاد ۔۔۔ شاید اُس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ مجھے قتل کرے گا۔بچنے کی کوئی اُمید تھی ۔ نہ جانے کس طرح قمرالدین اور اُسکی بہن زلیخاہ کمرے میں داخل ہوئے جب اُسکی بہن نے دیکھا کہ اُسکے مجازی خدا کے ناک اور کانوں سے بے دریغ خون اُسکی وجہ سے بہہ رہا ہے تو وہ شیرنی کی طرح بپھر گئی۔ باہر جاکرتھوڈی دیر کے بعد ایک چھری لیکر کمرے میں نمودار ہو گئی۔ بھائی کو دھمکی دی کہ اگر اُس نے اگر مجھے آزانہ کیا تو وہ اپنی پیٹ میں چھرا گھوپنے گی۔ آدمی چھری تو پیٹ میں اتا رہی تھی فیروز پرواس کی دھمکی کا اثر ہوا اور رشید نے میری رسیاں کھول کر مجھے آزاد کیا۔ سر تاج بھاگ جائو یہ زلیخاہ کی آواز تھی۔ ۔ خون بہہ رہا تھا۔ لنگڑاتے لنگڑاتے اُنکے باہر کے گیسٹ تک خون کسی نہ کسی طرح پہنچ گیا۔ گیٹ سے باہر آکر سنوار کی کھلی سڑک پر آگیا ۔ ٹیکسی میں گھر پہنچ گیا۔ شام کا وقت تھا۔ اس لئے میری طرف اندھیرے کی وجہ سے کسی نے توجہ نہ دی۔ تھوڑی دیر کے بعد قمر الدین آگیا ۔ اُس نے طریقہ سے گھر والوں کو شک کئے بغیر میرے کمرے میں با زار سے دوائیاں لا کر میرے زخم دھولئے۔ فاروق نامی کمپاونڈرکو لایا جس نے میری مرہم پٹی اچھی طرح کی ۔ وہ تجربہ کار تھا ۔ اسلئے دوائیاں بھی دیدیں۔ تین دن لگاتار میری ناک سے وقفے وقفے کے بعد خون بہتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ فاروق صاحب کی وجہ سے آہستہ آہستہ خون رک گیا۔ لیکن زندگی پھر میری ناک تھوڑی ٹیٹری  ہوکے رہ گئی۔ آہستہ آہستہ زخم بھر گئے۔ لیکن بعد میں مجھے اپنی جان سے پیاری محبوبہ کے بارے میں کوئی خبر نہ ملی۔ کیونکہ مجھے دھکمی دی گئی تھی اگر میں نے اُسکی تلاش کی۔ تو مجھے قتل کرنے کے بعد اُسے بھی قتل کر دیا جائیگا۔ اُس کا کالج جانابند کر دیا گیا تھا۔ یہ تو باتیں تھیں۔ محبت کرنے والے دھمکیوں سے نہیں ڈرتے ۔ میں ہنگامہ نہیں چاہتا تھا اورزلیخاہ کے لئے کسی قسم کی پر ابلم پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا  بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ یہ راز سارا رشید کی وجہ سے پھوٹ پڑا تھا ۔کیونکہ بڑے لوگوں کے سب ٌٌٌٌٌؓژٌ سب $$$$بنتے ہیں۔ کلاس میں روز جایا کرتا تھا ۔  فیروز مجھے کلاس میں گھورتا رہتا تھا۔ لیکن میں اپنی زلیخاہ لئے کا فی برداشت کر رہا تھا۔ فیروز کا خیال تھا کہ وہ مجھے پیٹ کر شیر بن چکا ہے۔ لیکن وہ میری نظر میں لومڑی تھا۔ اپنی محبوبہ کیلئے میں اب زخمی شیر بن چکا تھا۔
    ایک دن کی بات ہے کہ ایک شام کو امرش ٹاکیز میں ( جسکو آج ریگل کہتے ہیں) میں ایک فلم ( نام یاد نہیں آرہا ہے۔ چل رہی تھی ۔ جسمیں فیروز خان ( سنجے کے بغیر) کا چھوٹا بھائی سمیر خان ہیرو تھا۔ میں ایک موہن نامی لڑکے کے ساتھ تیسرے شوکو ( نو بجے رات کو شروع ہو تا تھا) دیکھنے حال کے اندر چلا گیا اور سٹال میں دوست کے ساتھ کرسی پر بیٹھ گیا۔ اسی اثنا میں فیروز اپنے غنڈوں کے ساتھ میری طرف آگیا فلم ابھی شروع نہیں ہو ئی تھی۔ فیروز نے مجھے کھڑے ہونے کیلئے کہا جیسے ہی میں کھڑا ہوا۔ اُس نے  حرا پہنے میرے چہرے کے بائیں طرف ایک ذور دار مکہ مارا ۔ حرے کے پانچوں لو ہے کے کانٹے میرے چہرے کے اندر گھس کر سوراخ بنا کر واپس نکل گئے۔ خون کو نکلنا ہی ہی تھا۔  مجھے تارے نظر آگئے اور میں چکر اکر زمین پر بیٹھ گیا۔ خون کی دھاریں بہہ رہی تھیں۔ میرا دوست موہن کمار مجھے بھاگ جا نے کے لئے کہہ رہا تھا اب پانی حد سے گذر چکا تھا۔ میں نے شرٹ کے اندر سے لو ہے کی سائیکل والی چین ( جو میرے پیٹ اور کمر کے اردگرد ندھی رہتی تھی) کھولی۔ فیروز نے اُس دن اُسکی بد قسمتی سے صفید کورٹ پہن رکھا تھا۔ مجھے سیدھا نظر آرہا تھا کہ مجھے مارنے کے بعد وہ سٹال میں کس سٹیٹ پر بیٹھ گیا۔ میں نے اُسی کا انداز اپنایا ۔ پاس جا کر اُسے کھڑا کیا اور۔ لو ہے کی سائیکل چین کے اُسکے چہرے پر مار اکہ اُسکے چہرے پر کراس نشان بن گیا اور خون نے اپنا راستہ کھو ل دیا۔ اُس سے پورا یقین ہوا کہ میں خطر ناک بن چکا ہوں وہ تھیڑ کلاس کے گیٹ سے نکل کر بھاگ گیا اور میں اُسکے پیچھے بھاگ رہا تھا ۔ اُسے امریش ٹاکیزنر کی دیوارپھلانگ لی اور پمپوش بلڈنگ کے راستے بھاگ گیا لیکن میں ہال میں واپس آگیا ۔ اس دوران خبر پھیلی چکی تھی کہ امریش ٹاکیزن میںچھراچلا  ہے۔ پولیس جلدی نمودار ہوئی حرا رکھنے والے کو بغیر پوچھے مہینے کی سزا ہوتی تھی۔ جُرا والا بھاگ چکا تھا میں نے اپنا ہتھیار بال کونی کی طرح پھینکا تھا۔پولیس مجھے پکڑ کر لئے گئی پولیس بدتمیزی سے پیش آنے لگی جیسے ہی میں نے انکو بتایا کہ میں ایس۔ پی ۔ کالج کا طالب علم ہوں کل سٹرابیک ہو جائیگی۔اُن دنوں پولیس سیاست کی وجہ سے ایس پی کالج کے لڑکوں سے کافی ڈرتی تھی۔ مزید میں نے انکو بتایا کہ ایس۔ پی سید علی مجھے جانتا ہے۔ وہ گھبرائے آزاد کر دیا۔ اسکے بعد اب فیروز کو کھل کر دھمکی دی کہ اب آسمان سر پر گرے میں اُسکی بہن سے شادی کرو نگا۔
    ایک مہینہ کے بعد مجھے دوست قمر الدین کے بولا کہ تمارے ساتھ فراڈا تمارے دوست رشید نے کی تھی۔ زلیخاہ نے گھر پر کافی ہنگامہ کیا تھا کہ وہ تمہارے بغیر کسی سے شادی نہیں کرے گی لیکن اُسکے گھر والے شادی کے لئے تیار نہیں تھے ۔ زلیخاہ نے انکو سونا لیکر بھا گنے کا واقع بتا کر تمارے بلند کر یکٹر کی اہمیت بتادی تھی۔ اور دھکمی دی تھی کہ وہ پولیس میں جا کر شکایت درج کرائے گی کہ اُسکو ایک نامنظور آدمی سے  شادی کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے۔ چاہئے تم مجھے دنیا کے کسی کونے میں لے جائو۔ صرف اپنے سر تاج سے شادی کر ونگی ۔ مجھے اس لڑکے سے کافی محبت ہے ۔ میں نے خدا سے وعدہ کیا ہے کہ میں اس لڑکے میرے سر تاج کے بغیر کسی سے شادی ہیں کرونگی۔ میں اس کا انتظار زندگی بھر
    کرونگی ۔ یہ صاف باتیں سن کر اُسکے رشتے وار ماں باپ اور بھائی گھبرا گئے اُن کے لئے زلیخاہ کے محبت کا مرض لاعلاج بن چکا تھا۔اُسکے گھر والے اُسے دھوکہ سے انگلینڈ لے گئے شاید بےخودی کے انجکشن کر کے وہ اُس میں کامیاب ہوئے۔ رو تے رو تے یہ پیغام رکھا کہ میں تمارا انتظار زندگی بھر کر ونگی۔ یہ ساری باتیں مجھے قمر الدین سے معلوم ہوئیں۔
    میں ایک غریب گھرانے کا خاندانی لڑ کا تھا ۔ لیکندولت میں طاقت ہے۔ جب پیسہ بولتا ہے تو سچائی بھی خموش ہو جاتی ہے۔ خون کے آنسوں بہائے۔
    میں فلم مشعل کا دلیپ کمار بن چکا تھا۔ جسکی مدد کرنے کیلئے کوئی تیار نہیں تھا ۔ میں رونے دوھونے کے سوا کیا کر سکتا تھا۔ میرے پاس اڑان کے لئے پیسے نہ تھے کہ محبوبہ کے پاس پہنچ جا تا۔ ۷ سال قسمت پر روتا بھی رہا اور کوستا بھی رہا ۔ میرے اصول مجھے لے ڈوبے ۔کیا آدمی ا میری یاغریبی ساتھ لیکر پیدا ہو تا ہے۔ یہ کلاس وار جگہ ہر گھ ر میں قایم دائم ہے۔ لو گ اس کے بارے میں بہت بولتے ہیں لیکن کہنے اور کرنے میں آسمان وزمین کا فرق ہوتا ہے۔ جب بزنس میں مکاری کرتا ہے تو وہ دولت مند بن جاتا ہے۔ اور بعد میں خود کو بہت بڑا خاندانی جتلاتا ہے۔ یہ خاندانی لوگ ایک وقت کے چور ڈاکٹر اور آچکے ہوتے ہیں۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنا چولا بدلتے ہیں۔ پیغمبروں کا بزنس کچھ اور تھا۔ اولیوں ، رشٹیوں اور میوں کا بزنس کچھ اور تھا ۔ خاندانی لوگ ایک وقت کے ڈاکوغنڈے بد معاش اور چالاک ہوتے ہیں۔ جو آہستہ آہستہ اپنے اوپر ۔ اونچے درجے کی لیبل چشپاں کر تے ہیں۔ میں کیا کرووں کس سے کہوں شیشہ گر کا کام شیشہ توڑ نا ہوتا ہے۔
    یہاں قدرکیا ہو دلوں کی
    یہ دنیا ہے شیشہ گروں کی
    مجھے میری زندگی ، میری محبوبہ ، میری زلیخاہ سے دور کیا گیا ۔ نہ جانے کہاں ہو گی کس حال میں ہوگی میں ناکام ہو چکا تھا۔ اور ناکامی کا دوسرا نام صبر ہے انسان کی مجبوریاں، کمزوریاں اُسکا راستہ روکتی ہیں۔
    لوگ بھاگ رہے تھے۔ زمانہ دوڑ رہا تھا۔ ٹھہر نا ناممکن تھا۔ میں ٹوٹ چکا تھا۔ میں نے  زلیخاہ کے بارے میں جانکاری حاصل کر نے کی کوشش کی۔ لیکن کچھ معلوم نہ ہوا۔ اُسے زمین نگھل گئی یا آسمان کھا گیا۔
    ۔ چالیس سال کے بعد مجھے قمرالدین بانہال ملا ۔ گلے ملے اور گلے شکوے ہو ئے۔ میرے دل میں ایک پھانس تھی ایک چھبن تھی۔ میں نے پوچھ ہی لیا کہ کیا کبھی تونے زلیخاہ کے بارے میں کبھی کچھ سنا۔ وہ میری طرف ایسے دیکھتا رہا جیسے یاوہ پا گل ہے یا میں۔ پاگل ہوں اُسنے اُلٹا مجھ سے سوال کیا کہ کیا تجھے نہیں معلوم  ؟میرے انکار پر کہنے لگا کہ انگلینڈلے جاکر اُسے شادی کے لئے دلہن کی طرح سجا یا گیا۔ لیکن مہندی رات اُس نے تیسری منزل چھلانگ لگا کر صرف تمارا  نام لیا
    ۔ ’میرے سر تاج میں آپکا انتظار کرونگی وہ چالیس سال انگلستان میں ڈاور کے نزدیک کے ایک قبرستان میں تیرے انتظار میں سوٹی پڑی ہے ’غریب ہونا ایک گناہ ہے‘ ۔ میری غریبی نے  مجھے چالیس سال تک بے خبر رکھا۔ یہ سن ک ردل کی دھڑکن رک سی گئی خون کے کا آنسو بہائے
    میرے احساس کی زندگی کاایک دور رختم ہو گیا ۔ دل ادا س ہوا۔ کچھ چیزیں لوٹ کر نہیں آتی ۔ سب کچھ ختم ہو چکا تھا ۔ میرے ہرے بھرے کھیت کب کے اجڑ چکے تھے۔ میرے رنگوں کا برش رُک چکا تھا۔ زندگی گذر جاتی ہے اور گذر ا وقت لوٹ کے نہیں آتا ہے۔ آنکھیںکھلی تو خود کو ہسپتال کے بیڈ پر پایا۔  خیالوں میں ڈوبا رہاکہ اچا نک میرے دماغ میں ترنگ سی اٹھی۔ میںچوکنا ہو گیا۔ میں قارون نہیں تھا۔ لیکن اب میرے پاس پیسوں کی کمی نہیں تھی۔ سب سے پیاری بیٹی کو آواز دی کہ میں انگلستان آرہا ہوں ۔ انگلستان پہنچ کر اپنی جان سے پیاری بیٹی  جو وہاں ڈاکٹر ی کے پیشے سے منسلک تھی زندگی کی ساری کہانی سنا ڈالی وہ پھوٹ پھوٹ کی روٹی۔ اُسے داستان سنا نے کی ایک خاص وجہ تھی۔ جو وہ بعد میں کسی دن نامے گی۔ اُسے مجھے زلیخاہ کی قبر دکھانے میں میری کافی مدد کی۔ اور اندھیرے میں نکل کر دوڑ قبرستان پہنچا میری شرین
    وہاں چالیس سال سے مٹی کے نیچے میرا انتظار کررہی تھی۔ساتھ رکھی  ذہر کی ٹکیا نگھل لی اور زلیخاہ کی قبر کے ساتھ لپٹ گیا۔بیٹی نے آنسو بہائے مجھے زلیخاہ کی قبر کے برابر دفن کردیا گیا۔ جب بیٹی واپس سری نگر پہنچی تو اس سے پوچھا گیا کہ والد کہاں ہے؟ اس نے کہا’ اس نے انگلستان میں انگلستان کی مٹی کے ساتھ شادی کرلی ہے

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...