• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • روح دین کا شناسا ۔۔۔اقبال ۔۔ پر ایک اچٹتی نظر

    غلام نبی فلاحی، لندن


    غالبا مارچ 2009ء کے آخری ایام تھے سید علی شاہ گیلانی بھارت کی راجدھانی دلی میں علاج معالجہ کے لیے قیام پذیر تھے۔ میں نے حسب معمول خیر و خیریت دریافت کرنے کے لیے ٹیلیفون کیا اور یہ بھی پوچھا کہ آجکل یہاں کیا مصروفیات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الحمد للہ آج .’’روح دین کا شنا سا اقبال،، کا دوسرا حصہ مکمل ہوچکا ہے اور اس پر لکھنے کی مزید گنجائیش موجود ہے۔ میں نے ساتھ ہی عرض کیا کہ اقبال علیہ الرحمہ پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ اس پر اور بھی بہت ادارے کام کررہے ہیں۔ اگر آپ کشمیر کے ضمن میں ہی ان حقائق سے پردہ اٹھاتے جن کی بنا بر ہم لوگ گذشتہ چھ دہائیوں سے ایک دردناک عذاب میں مبتلا ہیں تو یہ اس قوم کے تئیں ایک بہت بڑی خدمت ہوگی۔ میں نے یہ بھی عرض کیا اگرآپ صرف گذشتہ بیس سال کے حقائق کو ہی بیان کرتے تو یہ ہماری اس مظلوم قوم کے پر ایک بڑا احسان ہوتا کیونکہ آپ گذشتہ چالیس سال کے ایک عینی گواہ ہیں۔  انہوں نے  کہا کہ اگر زندگی ملی تو ضرور لکھوں گأ۔ پھر میں اپنے ہی دل میں ان سے باتیں کرتا رہا کہ آپ نے اسمبلی میں راہ کر بھی چند سال گزارے ہیں اور آپ کو مختلف سطحوں پر مختلف لوگوں سے بھی واسطہ پڑا ہے اس سے بڑھکر آپ کی ایک پبلک لائف بھی ہے۔ پھر یہ کہ آپ نے ایک متوسط گھرانے سے اپنی زندگی کا آغاز کیا ہے اور دھیرے دھیرے دیہی زندگی سے لیکر شہری زندگی تک کے اکثرمرحلے طے کیے۔ جس کی بنا پر انہیں کشمیری قوم کے تمام طبقات سے نہ صرف واسطہ پڑا ہے بلکہ اس سماجی اور سیاسی زندگی کے وہ پہلو بھی دیکھے ہیں جو بہت سے افراد کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ میں نے اپنے ہی دل میں ان سے یہ بھی عرض کیا کیا ہی اچھا ہوتا اگرآپ کہ حریت کانفرنسوں کی میٹینگوں کے حال و احوال بھی بیان کرتے تو یہ نہ صرف ایک ریکاڑ ہوتا بلکہ نئی نسل کو بھی اس سے مستفید ہونے کا موقعہ مل جاتا۔ اس سے  بڑھکر اس مظلوم اور بے کس قوم کے لیے بھی نشان راہ کا کام دیتی اور لوگوں کو بھی مستقبل میں کام کرنے کی راہ ملتی۔
    بہرکیف گیلانی صاحب کی تازہ کتاب ’اقبال روح دین کا شناسا ،کا مسودہ گرچہ شائع ہونے سے کئی ماہ پہلے ملاتھا۔ اور اسی وقت اس پر ایک سرسری نظر ڈالنے کا موقعہ بھی ملا تھا۔ میرے ذہن میں فورا یہ سوال پیدا ہوا آخر گیلانی صاحب نے اس کتاب کو کیوں لکھا جبکہ اس موضوع پر ہزاروں کتابیں موجود ہیں۔ اسکی وجوہات انکی کتاب پڑھکر سمجھی جاسکتی ہے۔ میری ناقص رائے میں گیلانی صاحب نے اقبال کا موضوع اپنے لیے غالبا  اس لیے منتخب کیا ہے  وہ سمجھتے ہیںکہ اقبال انیسویں صدی کی عظیم ترین شخصیت ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے عہد پر یادگار نقوش رقم کئے ہیں بلکہ آنے والے ادوار کے لیے بھی ان کی عظمت صدیوں پر محیط ہے جبکہ ان کی شاعری عہد ساز اور موجودہ دور کی راہنمائی اور بیداری کا شعور اجاگر کرنے والی ہے۔ گیلانی صاحب کا یہ بیان بالکل صحیح ہے کہ اقبال کی فکر اس کی شاعری میں ہے۔ اقبال کی شاعری کا اہم پہلو، مغرب پر تنقید ہے انہوں نے مغرب کو اچھی طرح دیکھا بھالا مشاہدہ و مطالعہ کیا ہے اور مغرب کی فکر مسکت اور مدلل جواب دیا۔  پھر یہ کہ گیلانی صاحب بذات خود ایک ایسی تحریک سے وابسطہ ہیں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وہی تحریک ہے جس کا تصور علامہ مرحوم نے اپنے اشعار میں پیش کیا  تھا ۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ اقبال کے کلام کا بیشتر حصہ اسلامی اور مغربی تہذیب کے موازنے کا شاہکار ہے جس میں جابجا مغرب پر تنقید کی گئی ہے۔ وہ سچے مسلمان تھے جنہوں نے اپنے کلام کے ذریعہ امت میں ایک ایسی روح پھونکی جس کا کوئی جواب نہیں۔ اور علامہ مرحوم ہمیشہ ملت کا درد سینے میں لیے ہوئے بے قرار رہتے تھے ۔ چنانچہ گیلانی صاحب انکی ترجمانی کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
    گرچہ دانشمند لوگ اپنے دل کا حال اور راز کسی سے نہیں کہتے ہیں مگر میں تجھ سے اپنا درد اور رنج پوشیدہ نہیں رکھ سکتا ہوں۔ علامہ مرحومؒ کے دل میں صرف اور صرف ملّت اور دین کا درد تھا۔ وہ مسلمان کی غلامی سے سخت مضطرب اور ماہی بے آب کی طرح تڑپنے اور بے قرار رہتے تھے۔ اپنے کلامِ بلاغت نظام میں وہ مسلمان کو اپنا ماضی یاد دلاتے ہیں۔ اُس کو غلامی کے خلاف جدوجہد کرنے پر اُبھارتے ہیں اور اسی درد اور کسک کو افرادِ ملّت تک پہنچانے کا منصبی فریضہ انجام دیتے ہیں۔ پیشِ نظر اشعار میں وہ یہی حالِ دل بیان کرتے ہیں۔ کاش افرادِ ملّت اور اجتماعی طور ملّت کا پورا ڈھانچہ اور پوری جمعیت اُن کے درد کو محسوس کرے اور اپنے عمل سے اس کا جواب فراہم کرے تو اُس کا حال بہتر مستقبل سے بدل سکتا ہے۔
    Mسید علی شاہ گیلانی فرماتے ہیں کہ علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے دور غلامی میں آنکھیں کھولی تھیں اور وہ سمندر پارسے آنے والے فرنگیوں کی محکومی کے ماحول میں پروان چڑھے تھے ۔ کئی برس تک یورپ میں رہ کر وہاں کے معاشرے کا مشاہدہ کیا ۔ ان کا مطالعہ بہت ہی وسیع تھا اور وہ قوموں کی تاریخ پر گہری نظر رکھتے تھے۔ ان جیسے وسیع المطالعہ اور صاحب بصیرت دانش و روں کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ غلامی انسان کے لیے بڑی لعنت کے مترادف ہے۔ چنانچہ گیلانی صاحب علامہ اقبال کی مشہور و معروف نظم مرد حر سے اپنی کتاب کا آغاز کرتے  ہوئے اسکی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ؁
    اس عنوان سے مراد انسان کی آزادی ہے۔ دُنیا کا ہر انسان آزادی کا متمنی ہوتا ہے۔ اس لئے کہ یہ انسان کی فطرت کی آواز ہے اور فطرت کی آواز کو زور زبردستی سے دبایا اور مٹایا نہیں جاسکتا ہے۔ انسان دُنیا کے جس خطے اور زمین کے ٹکڑے میں سکونت رکھتا ہو وہاں آزادی کی جدوجہد اور آزادی کے حصول کے لئے انفرادی اور اجتماعی کوششوں کا مقصد اُس زمین کے درخت، پہاڑ، دریا،۔۔۔کی آزادی۔۔۔ نہیں ۔۔ کیونکہ یہ سب کچھ قدرتی طور آزاد ہوتا ہے۔ آزادی تاریخ کے ہر دور میں انسانوں کے لئے مطلوب ہوتی ہے اور انسان ہی آزادی کے لئے جدوجہد کرتے ہیں۔ انسان ہی غلامی کی بندشوں اور زنجیروں سے جکڑے ہوتے ہیں۔ وہی غلامی کے عذاب سے تڑپتے اور آتش زیر پا ہوتے ہیں۔ وہی آزادی حاصل کرنے کے لئے مصائب اور آلام کا شکار بنائے جاتے ہیں۔ اُن کے لئے فاتح اور غاصب قوتوں کی طرف سے جیل خانوں کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ تعذیب خانوں میں اُن کو انساینت سوز اور اخلاق باختہ اذیتوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔۔۔ اُن کے مکان مسمار کئے جاتے ہیں، نذرآتش کئے جاتے ہیں۔ اُن کی جائیدادیں لوٹی جاتی ہیں۔اُن کی گھروں کی تلاشیاں لی جاتی ہیں۔،،
    علامہ مرحوم کو قرآن پاک سے بے حدلگائو تھا اور امت مسلمہ کو بار اس اسکی تلاوت  و تدبر پر اکساتے رہتے تھے چنانچہ گیلانی صاحب نے انکے اس پہلو کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے امت مسلمہ کو اقبال مرحوم کی زبان  میں انکا ماضی یاد دلاتے  ہوئے امت مسلمہ مخاطب ہے کہ’’ اس دُنیا میں چاہے ماضی بعید ہو یا ماضی قریب، نزدیک زمانہ ہو یا دور کا زمانہ، تم لوگ کیوں یاد نہیں کرتے ہو کہ سب سے پہلے اﷲ کا انقلابی پیغام القرآن پڑھنے والے کون تھے؟  تم ہی تو تھے! لا الہٰ الا اﷲ کا راز اور روح آخر کن لوگوں کو سکھایا گیا تھا۔ روشنی، ہدایت، رہبری، رہنمائی اور لا حاکم الا اﷲ اﷲ کے بغیر کوئی حکم دینے والا نہیں ہے۔ ۔۔ یہ چراغ سب سے پہلے کہاں روشن کیا گیا تھا۔ تمہاری ہی سرزمین تو اسی سعادت ابدی سے ………. اور روشن کی گئی تھی۔ تم لوگ بھول کیوں گئے ہو!
    سید علی شاہ گیلانی نے علامہ مرحوم کے اس تصور کو واضح کرنے کی بے حد کوشش کی ہے کہ دراصل انکا کلام محکومی اور غلامی کے خلاف ایک پرزور احتجاج ہے ان کا خیال ہے کہ غلامی کی زندگی انسان کی فطرت آزاد کو اعلی انسانی اور اخلاقی اوصاف و اقدار سے محروم کرتی اور اسے حسن خیال و عمل سے تہی دامن اور مردہ ضمیر بناتی ہے۔ وہ ایک بے بصیرت و بے توفیق انسان کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتاہے ۔ فرماتے ہیں۔
    بدن غلام کا سوز عمل سے ہے محروم
    کہ ہے مرور غلاموں کے روزوشب پر حرام
    غلامی کیا ہے ؟ ذوق حسن و زیبائی سے محرومی
    جسے زیبا کہیں آزاد بندے ہے وہی زیبا
    بھروسہ کر نہیں سکتے، غلاموں کی بصیرت پر
    کہ دنیا میں فقط مردان حر کی آنکھ ہے بینا۔
    گیلانی صاحب نے جابجا اپنی اس کتاب میں امت مسلمہ کو اس بات کی دعوت دی ہے کہ جب تک ہم اپنے نبی اقدس ؐ کی ذات سے اپنا رشتہ مضبوط نہیں کرتے ہم اس وقت تک نہ کوئی آزادی حاصل کرسکتے ہیں اور نہ ہی اپنے کو آزاد کراسکتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں ’حریت، حقیقی آزادی اُسی رحمۃً للعالمین صلی اﷲ علیہ وسلم کی آغووش میں ملی، بڑھی اور نشونما پاچکی ہے۔ اُسی ذاتِ اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم نے اصلی اور مطلوب آزادی کا درس دیا ہے اور اس پر عمل کرکے بہترین نمونہ عمل انسانی برادری کے ساےے میں رکھا ہے۔ امتوں اور قوموں کا آج ان کے گذرے ہوئے کل کی وجہ سے یعنی آج اگر ہمیں انسانی مسلم معاشرے میں انسانی اور اخلاقی اقرا کا پرتو اور پرچھائیاں کہیں نظر آرہی ہیں وہ اُسی ذاتِ والا صفات صلی اﷲ علیہ وسلم کی وجہ اور برکت سے ہے۔،
    گیلانی صاحب اقبال  علیہ الرحمہ کے اشعار کی ترجمانی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آج بھی امت مسلمہ کی حالت انتہائی ابتر ہے۔ میں جہاں کہیں نظر دوڑاتا ہوں مجھے تو  مغربی تہذیب کے دلدادے ہی نظر آتے ہیں۔ مسلمان اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوصف اپنے وزن سے خالی ہے ۔  اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے گیلانی صاحب فرماتے ہیں کہ  ’آج پوری مسلم دُنیا میں ایک ارب ساٹھ کروڈ مسلمانوں پر یہی سوچ اور فکر رکھنے والی قیادت مسلط اور وہ دُنیا کی سامراجی اور لادین نظریات کی حامل طاقتوں اور حکومتوں کی خوشنودی حاصل کرکے اقتدار کے سنگھاسنوں پر براجمان رہتے ہیں۔ فکری اور عملی انتشار، کشمکش، تناؤ، تصادم اور ٹکراؤ کی یہی بنیادی وجہ اور سبب ہے۔ اقبالؒ نہ صرف عرب قوم بلکہ پوری اُمت پر چسپان سورتحال کی اس شعر میں نشاندہی فرماتے ہیں۔ جو کچھ تم اپنے آپ کو مسلمان کہلانے والوں نے اپنے ساتھ کیا ہے کسی اور قوم میں ایسا ہوتے نہیں دیکھا جارہا ہے۔ تمہارے اس فکری اور عملی انتشار، اسلام سے دوری، آپسی سرپٹھول، باطل اور غیراسلامی نظریات کی حمایت اور پیروی، اسلام دُشمن قوتوں کی ذہنی اور فکری  غلامی اور ……..، جن بدیوں اور برائیوںکو مٹانے کے تم ذمہ دار بنائے گئے تھے۔ اُنہی بدیوں اور منکرات کو تم فروغ دے رہے ہو اور فروغ دینے والوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔،
    سید علی شاہ گیلانی صاحب کی اصل حیثیت ایک داعی حق کی ہے ۔ اسی لیے انکی یہ تحریر بھی انکی تقاریر جیسی ہے وہ بار بار اپنی اس کتاب  میں  علامہ اقبال کے اشعار کا تصور پیش کرکے اپنی بات پیش کرتے ہیں اور امت کو جگانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں ۔ کیونکہ یہ سہرا بھی اسی امت کے سر ہے۔
    توڑدی  بندوں نے آقائوں کے خیموں کی طناب
    وہی امت آج دوسروں کی دست نگر ہے۔
    گیلانی صاحب نے اپنی کتاب میں خودی، خودداری، خود انحصاری ، غیرت و حمیت۔ ان سب الفاظ کی تشریح کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور اس میں مشہورمفکر اسلام سید ابواعلی مودودی کی تفہیم القرآن سے بھی جابجا مدد لی ہے۔ اس لیے اگر میں یہ کہوںکہ گیلانی صاحب دراصل علامہ اقبال اور مولانا مرحوم کے معنوی شاگرد ہیں تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔  جسطرح ان دونوں بزرگوں نے امت کو جگایا اور انکے تن و بدن میںروح محمدی پھونکی۔ اسی طرح گیلانی صاحب علامہ کے اشعار کو واسطہ بناکر اپنی اس کتاب کے ذریعہ نہ صرف کشمیری قوم میں بلکہ پوری امت کو یہ پیغام دینا چاہےتے ہیں کہ ہم اونچے سے اونچے منصب تک پہنچنے کے لیے غیر ملکی آقائوں کے حضور دست سوال دراز کرتے ہیں اور اپنی گردنوں کو ان کی غلامی کے طوق سے گراں بار کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج دنیا میں ہماری کوئی حیثیت نہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ
    غلام قوموں اور افراد کا رتاریخ کے ہر دور میں یہ رویہ اور روش رہی ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں، کوتاہیوں، مقاصد زندگی کے ساتھ بے وفائیوں، حقیر مادی مفادات اور مراعات کے عوض بک جانے پر نظر نہیں رکھتے۔ بلکہ عذر پیش کرتے رہتے ہیں۔ مجبوریوں کا بہانہ بناتے ہیں۔ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ گردش کرنے والے آسمان کی شکایت مت کرو۔ اگر تم زندہ ہوجانا چاہتے ہو تو اﷲ کی بندگی میں زندگی گذارنے والے زندہ مرد کی صحبت اختیار کرو۔ یہی قربت اور صحبت تم کو غلامی کی دلدل سے نجات حاصل کرنے کے لئے یقین واذعان کا اسلحہ فراہم کرکے تیری آزادی کی منزل قریب بنادیں گے۔ کتابی علم سے استفادہ حاصل کرنا ٹھیک ہے لیکن آدم گرمی، سیرت سازی، کردار کی تعمیر، محض کتابیں پڑھنے سے حاصل نہیں ہوسکتی ہے۔ یہ اُن لوگوں کی صحبت سے ہی حاصل کی جاسکتی ہے جنہوں نے تمام طاغوتی قوتوں سے ذہنی اور عملی آزادی حاصل کرکے انسانیت کی تعمیر کا کام ہاتھ میں لیا ہوتا ہے۔ اس لئے آدم گرمی کے لئے آزاد مرد کی صحبت ہی کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔ آزاد مرد، گہرے اور بے کنار دریا کے مانند ہے۔ تجھے اگر پانی حاصل کرنا ہے تو اس گہرے اور بے کنار دریا سے حاصل کر  پرنالے کے نیچے بیٹھ کر پانی حاصل کرنا کوئی دانشمندوں اور آزاد قوم اور فرد کا شیوہ نہیں ہوسکتا ہے ۔
    گیلانی صاحب نے اپنی اس کتاب میں پاکستان کی موجودہ صورتاحال سے انتہائی کبیدہ خاطر نظر آتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ وہ پاکستان نہیں جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور جس کی آبیاری کے لیے مولانا مودودی اپنی زندگی کو وقف کیا تھا۔ گیلانی صاحب رقم طراز ہیں کہ ’’ علامہ مرحومؒ کی وفات کے صرف ۹ سال بعد مملکت خداداد منصئہ شہود پر آئی۔ مگر اس کی باگ ڈور جن ہاتھوں میں آگئی وہ قائد اعظمؒ کی رحلت کے بعد پاکستان کی نظریاتی بنیادوں سے ذہناً بھی اور عملاً بھی بُعدالمشرقین کے مصداق تھے۔ کاش پاکستان تعمیر علامہ اقبالؒ کے تصور اور علامہ مودودیؒ کی اسلامی فکر اور فراہم کردہ خطوط اور طریقِ کار کے مطابق تعمیر کیا جاتا اور مولانا مرحومؒ نے اس کی فکر کے مطابق جو انسانی مواد تیار کیا تھا اُس کو کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو پاکستان نہ تو دولخت ہوا ہوتا اور نہ وہ صورت حال ہوتی جس میں یہ مملکت اس وقت ہرچہار طرف سے گھیری ہوئی ہے،،
    بہرکیف سید علی شاہ گیلانی نے اس کتاب میں قرآن و حدیث کے حوالہ جات کے علاوہ بہت سے معاصر رسائل و جراید اور شخصیات کے حوالے دیکر اس کو ایک مستند کتاب بنانے کی کوشش کی ہے۔ اور یہ کتاب لکھرکر دراصل گیلانی صاحب اپنے فکر کو اپنی نئی نوجوان نسل کے سپرد کرنا چاہتے ہیں ۔ اس میں وہ کشمیر کی حدتک بظاہر کسی حدتک کامیاب بھی نظر آرہے ہیں۔اس کے علاوہ  اس کتاب سے جو عمومی تاثر ابھرکر سامنے آتا ہے وہ یہ کہ مسلمان اپنا منصبی فریضہ انجام دیتے ہوئے اسلامی نظام کے قیام کی کوشش کریں اور اپنے عمل سے یہ ثابت کریں کہ دُنیا کے مروجہ نظاموں کے مقابلے میں ان کے پاس بہترین نظامِ زندگی ہے جو آج بھی قابل عمل ہے۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...