• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • توکل اور کربلا

    محمد رضا اکبر پوری
    تو کل کے معنی ہیں کسی پر بھروسہ اعتماد کر لینا جس کی ضد بے اعتمادی ہے اور علماء اخلاق کے بیان کے مطابق تو کل کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے تمام امور کو خدا کو سونپ دے اور ہر کام میں اسی پر اعتماد کرے اور صرف اللہ کی طاقت و قوت پر بھروسہ کرے۔ اور یہ کام اسی وقت ممکن ہے جب انسان کو یقین کامل ہو کہ دنیا میں کوئی بھی کام ارادہ واذن الٰہی کے بغیر انجام نہیں پاسکتا ہے ۔ اور اسکے علاوہ کوئی بھی کسی کام کی انجام دہی پر قدرت نہیں رکھتا بلکہ اگر کسی میں کچھ کرنے کی صلاحیت ولیاقت ہے تو اسی کی عطا فرمودہ قوت وقدرت کی وجہ سے۔ اور اللہ کی اجازت اورا سکے ارادہ کے بغیر کائنات کا کوئی ذرہ اپنی جگہ سے حرکت نہیں کر سکتا ہے۔اسی یقین کا نام علم کلام میں توحید درتا ثیر رکھا گیا ہے اور اسی کو عرفان کی زبان میں توحید افعال کہا جاتا ہے۔
    انسان اعتماد اسی پر کرتا ہے جو اسے نقصانات ومضرات سے بچاسکے اور اسکے منافع کو فوت نہ ہونے دے۔ اسی لئے بچہ ماں باپ پر بھروسہ کرتا ہے اور آگے بڑھ کر اپنے خیر خواہ دوست پر اعتماد کرتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ جتنا زیادہ اللہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور انہیں ضرور ہلاکت سے بچا کر ابدی سعادت و کمال تک پہنچانا چاہتا ہے اتنا کوئی اور نہیںکرتا، کیونکہ وہ اپنے بندوں کا سب سے بڑا خیر خواہ ہے۔ انسانوں کی خلقت ، ان کو حقیقی سعادت تک پہنچانے کیلئے مادی ومعنوی ضروریات کی فراہمی سلسلہ ہدایت وار شادیہ سب اسی خیر خواہی کے نمونے ہیں۔ لہذا انسان کیلئے سب سے زیادہ لائق اعتماد اور بھروسہ مند ذات الٰہی ہے کہ انسان اللہ پر جتنا توکل کرتا جائے گا اتنا دُینا اور اہل دُنیا سے بے نیاز ہو تا جائے گا اور ذات الٰہی کو اپنے لئے کافی سمجھنے لگے گا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ جو اللہ پر تو کل کرتا ہے خدا اس کیلئے کافی ہے۔
    لیکن اس بات کی طرف متوجہ رہنا چاہئے کہ  توکل کے معنی یہ ہر گز نہیں ہیں کہ انسان اسباب دعلل کر منکر ہو جائے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے اور سعی و کوشش کر ترک کردے ، کہ یہ بدترین طرز فکر ہے جو انسان کو سعادت تک پہنچانے کے بجائے اسے ہلاکت تک پہنچا دے گا ۔ توکل کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ انسان اسباب وعلل اور وسائل کو ہی سب کچھ نہ سمجھ لے اور صرف انہیں پر صد فیصد بھروسہ کر لے بلکہ اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے وسائل واسباب کے ذریعہ مطلوب ومسّبب تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ مشہور ہے کہ ایک اعرابی پیغمبر اسلام ؐ کی خدمت میں آیا اور اپنے اونٹ کوبغیر باندھے یوں ہی چھوڑ دیا۔ اور پیغمبر اسلام ؐ نے اس سے سوال کیا کہ تونے یہ کیا کیا؟ اپنے اونٹ کو یوں ہی کیوں چھوڑ دیا تو اس نے جواب دیا ’’میں نے اللہ پر توکل کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا ہے تو پیغمبر اکرم ؐ نے فرمایا کہ پہلے اسے کسی جگہ باندھ دے پھر اللہ پر توکل کر۔۔۔۔ اس کا
    مطلب یہ ہے کہ بے حس و حرکت ہو کر اسباب وسعی کو چھوڑ کر بیٹھے رہنا تو کل نہیں بلکہ حقیقی تو کل یہ ہے کہ انسان اللہ پر اعتماد کر کے اس سے امید لگا کر سعی و کوشش میں مصروف ہو جائے۔
    مگر یہ توکل کا دہ مرحلہ ہے جو عام افراد کیلئے ہے لیکن تو کل کا اعلیٰ ترین مرتبہ وہ ہے جو اللہ کے خاص بندوں اور اولیا، کو حاصل ہے جس مرحلہ پر پہنچ کر بندہ خلیل خُدا بن جاتا ہے اور اللہ سے اتنا قریب ہو جا تا ہے کہ اپنے اور معبود کے درمیان کسی شے کو وسیلہ اور حائل قرار دینے پر راضی نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کاارادہ وہی ہوتا ہے جو خدا کا ارادہ ہوا اور اسکی رضا وہی ہوتی ہے جو معبود کی رضا ہواور اس مرحلہ پر پہنچ کر بندہ اس اعتماد یقین پر خدا امیرے نفع و نقصان سے زیادہ آگاہ و واقف ہے کسی خاص چیز کے لئے دعا کو بھی ترک کر دیتا ہے اور اس کا نعرہ ہو تا ہے کہ معبود مجھے ویسا بنا دے جیسا تو چاہتا ہے چنانچہ ابراہم خلیل اللہ کو جب نار نمرود میں پھنکا گیا تو جبر ائیل نے آکر کہا کہ کیا کوئی حاجت ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہے مگر تم سے نہیں ۔ تو جبرئیل نے کہا کہ جس سے حاجت ہے اسی سے طلب کر لو۔ تو جناب ابراہیم نے فریا’’میرے سوال سے پہلے پہ اسے میرے حالات کا علم ہے اور یہی میرے لئے کافی ہے‘‘۔
    Uاخلاق و کر دار کی علمی درسگاہ کربلا جہاں تمام اخلاق محاسن کے اعلیٰ نمونے موجود ہیںوہیں کر بلا والوں کا توکل اور اللہ پر اعتماد بھی اس مرحلہ پر تھا کہ  انسان کے لئے اس کی حقیقت تک پہنچنا بہت مشکل مرحلہ ہے جہاں نہ صرف امام حسین ؑ اور خاندان رسالت وامامت کے پروردہ افرادہی توکل کے آخری مرحلہ پر فائز تھے بلکہ امام حسین ؑ سے وابستہ ہر شخص کا توکل ایسا تھا کہ مسلسل بھوک وپیاس اور شدائدو مشکلات کے باوجود اور اس یقین کے باوجود کہ عاشورہ کو قتل ہو جانا ہے۔ بے سروسامانی کے احساس کے باوجود ہر ایک مطمئن تھا  اوراللہ پر توکل کا عالم یہ تھا کہ دشمن کے کثیر لشکر کے باوجود ہر ایک کو یقین تھا کہ شکست باطل ہی کی ہوگی اور فتح سندی حق ہی کو نصیب ہوگی۔ صرف بوڑھے اور جوان نہیں بلکہ کم سن بچے بھی انتہائی اعتماد و اطمینان کے ساتھ دشمن کے کثیر لشکرپر اس طرح حملہ آور ہوتے کہ جیسے غیب سے کوئی آواز دے رہا ہوں۔ ۔۔ کہ جو اللہ پر اعتماد کرتا ہے اس کیلئے اللہ کافی ہے بیشک جو اللہ پر اعتماد کرتا ہے وہ نہ فوج و لشکر سے گھبراتا ہے نہ دشمن کی کیثر تعداد اور اس کے اسلح سے ۔کربلا والوں نے اللہ پر توکل کر کے بے سروسامانی اور مظلو مانہ شہادت کے باجود کربلاء کی جنگ جیت لی۔ اور عاشورہ کے بعد حضرت سید سجادؑ اور جناب زینب ؑ کے توکل علی اللہ کا عالم یہ تھا کہ بظاہر اس وقت کوئی ہمدرد ومونس نہ تھا پھر بھی ظالم کے دربار میں اس کے سامنے شہزادی زینب ؑنے توکل علی اللہ ترین نمونہ پیش فرمایا کہ اے ظالم تونے یہ سو چا تھا کہ میرے بھائی اور گھر والوں کو قتل کر کے ہمارے ذکرکو مٹادے گا، یاد رکھ تو ایسا ہر گز نہیں کر سکتا  ہمارا ذکر باقی ہے اور اللہ ا سے باقی رکھے گا۔ سچ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...