گزشتہ دو سال کے دوران جن زبانوں نے کشمیر میں اپنا دائرہ اثر وسیع کیا۔ ان میں اردو کا نام سرفہرست آتا ہے ریاست میں اردو کوئی پرانی زبان نہیں ہے اردو یہاں کی مادری زبان بھی نہیں اردو کے ابتدائی نقوش ہمیں مغل دور سے ہی کشمیری شعراہ کے کلام میں نظر آتے ہیں۔
انیسویں صدی کے کشمیر ی شعرا نے جوملے جلے اشعار لکھے ہیں وہ اردو اور کشمیری کا مرکب لگتے ہیں ۔ان شاعروں میں پر مانند، محمود گامی رسول میر ،کرشن جوراز دان اورنیامہ صاحب وغیرہ شامل ہیں۔
اصل میں مغل دور سے ہیاردو کا چلن وادی میں شروع ہو گیا تھا۔ جو بتدریج عروج پکڑتا گیا۔ اردو کشمیریوں کے لئے نہ صرف رابطے کی زبا ن رہی ہے بلکہ947سے پہلے جتنے بھی رسالے اور اخبار سرینگر سے شائع ہوئے انکی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ تحریک آزادی کی آواز کو چاروں طرف پھیلا نے میں اردو نے نہایت اہم اور کار گر رول ادا کیا ہے۔ قومی مسائل اجاگر کرنے کیلئے اردو ہی ذریعہ اظہار بنایا گیا۔ اس سلسلے میںبھی اشتہار کتابچے، بیانات وغیرہ شائع کئے گئے انکی زبان اردو تھی کشمیر میں کشمیری اگر چہ عمر میں اردو سے پرانی زبان ہے۔ مگر اردو نے کشمیری کے علاوہ ڈگری، گوجری، پہاڑی کے واسطے ایک فیض کے چشمے کا کام کیا ہے۔ علاقائی زبانوں میں نئی تحریکوں اور فکر ہم آہنگی میں اردو نے رہنما کا رول ادا کیا ہے۔ ریاست میں سرکاری کام کاج اردو زبان میں کرنے کا سلسلہ 1888ء سے شروع ہوا ہے۔ مگر در باری کا روائی کا اردو میں درج ہونا 1905سے شروع ہوا ہے ۔947کے بعد اردو کو ریاست کی سرکاری زبان قرار دینا اُس فیصلے کا سلسلہ اور توفیق ہے جو فیصلہ شعری سرمایہ کے اعتبار سے کافی پرانی زبان ہے۔ جب اردو زبان کا دور شروع ہوا کشمیر کیلئے یہی رسم الخطہ استعمال کیا گیا۔ ریاست میں ڈوگری ، پنجابی کی کئی کتابیں اردو میں لکھی گئی ہیں علاقائی زبانوں میں پہاڑی ، بلتی گوجری، ڈوگری پنجابی کے لئے اس رسم الخط کے قبول ہونے سے اردو زبان کے دروازے بولنے والوں کے لئے کھل گئے۔ جسکی وجہ سے قرابت اور روابط زیادہ مضبوط ہو گئے کشمیری ہندی ڈوگری اور پنجابی میں لکھے گئے ریاستی افسانہ نگاروں کی تخلیقات کو اردو روپ میں شائع کیا جس سے ریاست کا علاقائی ادب وسیع ہو گیا۔ اردو سرمایہ میں غالب اور اقبال کی تخلیقات کو کشمیری روپ دیکر باقاعدہ کتابوں کی شکل میں شائع کیا ان تخلیقات کے ترجموں نے کشمیر زبان کو نئی سرحدوں سے واقف کیا۔ شیخ العالم ؒ اور لل دید کے کلام کو اردو ترجمہ کے ساتھ شائع کر کے ہماری ثقافت کے علمبرداروں نے بیرونی دنیا کو واقف کرانے کی بامعنی کو شش کی ہے۔
مولانا ابو الکلام آزاد کے تفسیر قرآن کا کشمیری ترجمہ ایک قابل قدر اضافہ کا درجہ رکھتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کشمیری بھاری سے بھاری مضامین کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اور کشمیری زبان کی زرخیزی کو ثابت کرنے کی بنیاد اردو ہی ہے۔ مولانا محمد یوسف شاہ نے قرآن حکیم کے کشمیری ترجمے کے دوران ضرور اردو ترجمونںسے فائدہ حاصل کیا ہوگا۔ ترقی پسند تحریک کی شروعات اردو سے ہی بر صغیر میں ہوئی۔ کشمیر میں بھی ترقی پسندی کی بنیاد، پریم ناتھ پردیسی، سومناتھ زتشی اور محمود ہاشمی وغیرہ نے رکھی ۔
غیر کشمیریوں کو کشمیر کی تہذیبی وراثت کے ساتھ واقف کرنے کے لئے اس زبان نے درمیان داری کا ایک اثر دار فریضہ انجام دیا ہے۔ اردو ہر کشمیری کے لئے آسان رابطہ زبان ہے سیاح ہوں، یاغیر ملکی یا غیر ریاستی فرد ایک عام کشمیری اس سے گفتگو کرسکتا ہے۔
g اردو سو سال سے زائد عرصہ سے محکمہ مال کی زبان ہے۔ اردو اور کشمیری کے کچھ مشترکہ الفاظ اسطرح ہیں۔ نوتوڑ( نوتور) کا ہچرائی( گاسہ چرائے) ، آبیانہ( ائبی یانہ) ، مالیہ( مائلی یہ) ، رسوم ( رسوم) ، مدعی( مُدی) مُدعالیہ ( ملالیہ) ، بٹائی (بٹائے) ، قانون(قونون)، جمعبندی، روزنا بچہ فرد پڑتال، فرد جرم، مختار نامہ، وصیت نامہ، تہیت نامہ وغیرہ اس طرح اردو نے کشمیر کی علاقائی زبانوں کے ذخیرہ الفاظ میں قابل قدر اضافہ کیا ہے۔ اردو کسی حادثے کی پیداوار نہیں یہ تاریخی تقاضوں کی جھولی سے نکلاہے یہ کسی فرقے یا عقیدے کی زبان نہیں بلکہ تاریخی سلسلے کی ایک مکمل اور مضبوط کڑی ہے۔
اردو کے ضمیر میں وہ سارے عناصر موجود ہیں جو ایک مخلوط تہذیب کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اردو تہذیب اور شائستگی کی زبان ہے اردو ہماری علمی و تہذیبی زبان ہے تہذیبی سلسلے کے وجود کو قائم رکھنے کی ضمانت ہے۔
یہ بات افسوسناک ہے کہ اردو ہماری سرکاری زبان ہونے کے باجود ہم اس کو پڑھنے اور پڑھانے میں بخل کررہے ہیں۔ مگر تہذیب اور احساسات کی زبان کو نظر انداز کرکے ہم لوگ ماضی کے ساتھ اپنا رشتہ کاٹنے کے مجرم ثابت ہوسکتے ہیں۔
؎ حسیب اللہ خان درد گنڈ پزل پورہ بانڈی پورہ
۱ : ثروت عیش کے ایوانوں میں اکثر ہم نے سسکیاں لیتے ہوئے دیکھا ہے انسانوں کو ۲: دامن بھی تر نہیں آنکھیں بھی نم نہیں اتنا شدید غم ہے کہ احساس غم نہیں۳: فقیر وقت بھی تدبیر رزو کرتا ہے دعائیں بیچ کر بچوں کا پیٹ بھرتا ہے
۴: کتنے کانٹوں کی کشاکس میں ہے گل کا دامن اس حقیقت سے چمن والے خبردار نہیں
۵: وہ جن کے دل میں نہ اترتے تھے درد کے نشتر وہ پتھروں کے مسیحاگلاب کیا دیتے
۶: نرم لفظوں سے بھی لگ جاتی ہیں جوٹیں اکثر دوستی اک بڑا نازک سا ہنر ہوتی ہے
کشمیر کی علاقی زبانیں اور اردو۔ اردو ہماری علمی وتہذبی زبان ہےگزشتہ دو سال کے دوران جن زبانوں نے کشمیر میں اپنا دائرہ اثر وسیع کیا۔ ان میں اردو کا نام سرفہرست آتا ہے ریاست میں اردو کوئی پرانی زبان نہیں ہے اردو یہاں کی مادری زبان بھی نہیں اردو کے ابتدائی نقوش ہمیں مغل دور سے ہی کشمیری شعراہ کے کلام میں نظر آتے ہیں۔انیسویں صدی کے کشمیر ی شعرا نے جوملے جلے اشعار لکھے ہیں وہ اردو اور کشمیری کا مرکب لگتے ہیں ۔ان شاعروں میں پر مانند، محمود گامی رسول میر ،کرشن جوراز دان اورنیامہ صاحب وغیرہ شامل ہیں۔Kاصل میں مغل دور سے ہی اردو کا چلن وادی میں شروع ہو گیا تھا۔ جو بتدریج عروج پکڑتا گیا۔ اردو کشمیریوں کے لئے نہ صرف رابطے کی زبا ن رہی ہے بلکہ947سے پہلے جتنے بھی رسالے اور اخبار سرینگر سے شائع ہوئے انکی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ تحریک آزادی کی آواز کو چاروں طرف پھیلا نے میں اردو نے نہایت اہم اور کار گر رول ادا کیا ہے۔ قومی مسائل اجاگر کرنے کیلئے اردو ہی ذریعہ اظہار بنایا گیا۔ اس سلسلے میںبھی اشتہار کتابچے، بیانات وغیرہ شائع کئے گئے انکی زبان اردو تھی کشمیر میں کشمیری اگر چہ عمر میں اردو سے پرانی زبان ہے۔ مگر اردو نے کشمیری کے علاوہ ڈگری، گوجری، پہاڑی کے واسطے ایک فیض کے چشمے کا کام کیا ہے۔ علاقائی زبانوں میں نئی تحریکوں اور فکر ہم آہنگی میں اردو نے رہنما کا رول ادا کیا ہے۔ ریاست میں سرکاری کام کاج اردو زبان میں کرنے کا سلسلہ 1888ء سے شروع ہوا ہے۔ مگر در باری کا روائی کا اردو میں درج ہونا 1905سے شروع ہوا ہے ۔947کے بعد اردو کو ریاست کی سرکاری زبان قرار دینا اُس فیصلے کا سلسلہ اور توفیق ہے جو فیصلہ شعری سرمایہ کے اعتبار سے کافی پرانی زبان ہے۔ جب اردو زبان کا دور شروع ہوا کشمیر کیلئے یہی رسم الخطہ استعمال کیا گیا۔ ریاست میں ڈوگری ، پنجابی کی کئی کتابیں اردو میں لکھی گئی ہیں علاقائی زبانوں میں پہاڑی ، بلتی گوجری، ڈوگری پنجابی کے لئے اس رسم الخط کے قبول ہونے سے اردو زبان کے دروازے بولنے والوں کے لئے کھل گئے۔ جسکی وجہ سے قرابت اور روابط زیادہ مضبوط ہو گئے کشمیری ہندی ڈوگری اور پنجابی میں لکھے گئے ریاستی افسانہ نگاروں کی تخلیقات کو اردو روپ میں شائع کیا جس سے ریاست کا علاقائی ادب وسیع ہو گیا۔ اردو سرمایہ میں غالب اور اقبال کی تخلیقات کو کشمیری روپ دیکر باقاعدہ کتابوں کی شکل میں شائع کیا ان تخلیقات کے ترجموں نے کشمیر زبان کو نئی سرحدوں سے واقف کیا۔ شیخ العالم ؒ اور لل دید کے کلام کو اردو ترجمہ کے ساتھ شائع کر کے ہماری ثقافت کے علمبرداروں نے بیرونی دنیا کو واقف کرانے کی بامعنی کو شش کی ہے۔مولانا ابو الکلام آزاد کے تفسیر قرآن کا کشمیری ترجمہ ایک قابل قدر اضافہ کا درجہ رکھتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کشمیری بھاری سے بھاری مضامین کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اور کشمیری زبان کی زرخیزی کو ثابت کرنے کی بنیاد اردو ہی ہے۔ مولانا محمد یوسف شاہ نے قرآن حکیم کے کشمیری ترجمے کے دوران ضرور اردو ترجمونںسے فائدہ حاصل کیا ہوگا۔ ترقی پسند تحریک کی شروعات اردو سے ہی بر صغیر میں ہوئی۔ کشمیر میں بھی ترقی پسندی کی بنیاد، پریم ناتھ پردیسی، سومناتھ زتشی اور محمود ہاشمی وغیرہ نے رکھی ۔ غیر کشمیریوں کو کشمیر کی تہذیبی وراثت کے ساتھ واقف کرنے کے لئے اس زبان نے درمیان داری کا ایک اثر دار فریضہ انجام دیا ہے۔ اردو ہر کشمیری کے لئے آسان رابطہ زبان ہے سیاح ہوں، یاغیر ملکی یا غیر ریاستی فرد ایک عام کشمیری اس سے گفتگو کرسکتا ہے۔g اردو سو سال سے زائد عرصہ سے محکمہ مال کی زبان ہے۔ اردو اور کشمیری کے کچھ مشترکہ الفاظ اسطرح ہیں۔ نوتوڑ( نوتور) کا ہچرائی( گاسہ چرائے) ، آبیانہ( ائبی یانہ) ، مالیہ( مائلی یہ) ، رسوم ( رسوم) ، مدعی( مُدی) مُدعالیہ ( ملالیہ) ، بٹائی (بٹائے) ، قانون(قونون)، جمعبندی، روزنا بچہ فرد پڑتال، فرد جرم، مختار نامہ، وصیت نامہ، تہیت نامہ وغیرہ اس طرح اردو نے کشمیر کی علاقائی زبانوں کے ذخیرہ الفاظ میں قابل قدر اضافہ کیا ہے۔ اردو کسی حادثے کی پیداوار نہیں یہ تاریخی تقاضوں کی جھولی سے نکلاہے یہ کسی فرقے یا عقیدے کی زبان نہیں بلکہ تاریخی سلسلے کی ایک مکمل اور مضبوط کڑی ہے۔ اردو کے ضمیر میں وہ سارے عناصر موجود ہیں جو ایک مخلوط تہذیب کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اردو تہذیب اور شائستگی کی زبان ہے اردو ہماری علمی و تہذیبی زبان ہے تہذیبی سلسلے کے وجود کو قائم رکھنے کی ضمانت ہے۔ یہ بات افسوسناک ہے کہ اردو ہماری سرکاری زبان ہونے کے باجود ہم اس کو پڑھنے اور پڑھانے میں بخل کررہے ہیں۔ مگر تہذیب اور احساسات کی زبان کو نظر انداز کرکے ہم لوگ ماضی کے ساتھ اپنا رشتہ کاٹنے کے مجرم ثابت ہوسکتے ہیں۔؎ حسیب اللہ خان درد گنڈ پزل پورہ بانڈی پورہ۱ : ثروت عیش کے ایوانوں میں اکثر ہم نے سسکیاں لیتے ہوئے دیکھا ہے انسانوں کو ۲: دامن بھی تر نہیں آنکھیں بھی نم نہیں اتنا شدید غم ہے کہ احساس غم نہیں۳: فقیر وقت بھی تدبیر رزو کرتا ہے دعائیں بیچ کر بچوں کا پیٹ بھرتا ہے۴: کتنے کانٹوں کی کشاکس میں ہے گل کا دامن اس حقیقت سے چمن والے خبردار نہیں۵: وہ جن کے دل میں نہ اترتے تھے درد کے نشتر وہ پتھروں کے مسیحاگلاب کیا دیتے۶: نرم لفظوں سے بھی لگ جاتی ہیں جوٹیں اکثر دوستی اک بڑا نازک سا ہنر ہوتی ہے
ریاست میں سرکاری کام کاج اردو زبان میں کرنے کا سلسلہ 1888ء سے شروع ہوا ہے۔ مگر در باری کا روائی کا اردو میں درج ہونا 1905سے شروع ہوا ہے ۔947کے بعد اردو کو ریاست کی سرکاری زبان قرار دینا اُس فیصلے کا سلسلہ اور توفیق ہے جو فیصلہ شعری سرمایہ کے اعتبار سے کافی پرانی زبان ہے۔

Loading ...
اس خبر کو پرنٹ کریں
اس صفحہ کو ای میل کریں