• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • لاپتہ افراد اور ہماری بے حسی

    الطاف حسین ندوی

    کشمیر کی سر زمین جس سے کبھی کسی نے ’’جنت نظیر‘‘ کہا تھاکواگر’’ المیوں کی سر زمین‘‘ کہا جائے تو بے جا نہیں ہو گا ۔یہاں کی سب سستی شئے انسان ہے جس کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے ۔میرے ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ بتاؤ ہندوستان میں کون سی چیز سب سے کم قیمت میں بکتی ہے ؟میں نے اس سے ایک سنجیدہ سوال سمجھتے ہوئے جواب تلاشنا ہی شروع کیا تھا کہ میرے دوست نے مجھ سے کہا بھائی اتنا عام فہم سوال اور اس پر اپنی یاداشت پر زور دینے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟یہاں کی سب سے سستی چیز انسان ہے !!!میں نے اس سے دلیل مانگی تو اس نے ایک نہیں درجنوں دلائل پیش کردئے اور مجھے ماننا پڑاکہ بھارت کی سر زمین پر جس چیز کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے’’ وہ ہے انسان‘‘عرصۂ دراز تک میں دوست کے اس سوال پر سوچتا رہا حتیٰ کہ ریچھوں اور تیندوؤں نے دیہاتوں کی طرف اپنا رُخ پھیر لیا اور انسانوں کو چیر پھاڑ کر ابدی نیند سلا دینے کا ’’دہلی میڈمشن‘‘اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔کئی دیہاتوں میں جب ان آدم خوروں نے انسانوں کا جینا حرام کردیا تو جوابی کاروائی کرتے ہوئے کئی جگہوں پر دیہات والوں نے انھیں مار ڈالا ۔یہ ان جانوروں کے خلاف انسانوں کا قدرتی اور فطری ردعمل تھا ۔
    !  ادھر انسانوں کو جانوروں کے ’’آنتک وادھ‘‘سے بچاؤ کی ناگزیر کاروائیاں جوں ہی شروع ہوئی اُدھر دہلی میں مقیم ’’گاندھی خاندان ‘‘کی ایک لاڈلی جانوروں کے ’’قتل عام‘‘پر بے چین ہو گئی ۔بے چینی کے اسی عالم میں وہ ہانپتی کانپتی سرینگر پہنچی جہاں اس نے دہلی کے ’’غلاموں‘‘ کوفلسفہ ’’عدم تشدد‘‘کی خلاف ورزی کرنے اورتیندؤں اور ریچھوں کو مارنے پر خاموش تماشائی بنے رہنے پر ایسا سبق پڑھایا کہ انھیں اپنے انسان ہونے پر بھی افسوس ہونے لگا ۔اور مجھے یقین آگیا کہ بھارت میں یقیناََ سب سے کم قیمت پر بکنے والی شئی حضرت انسان ہی ہے اور ہماری ریاست ِ اسمیں سر فہرست ہے ۔۰۹۹۱؁ سے لیکر اب تک یہاں دس ہزار سے بھی زیادہ لوگوں کو غائب کردیا گیا ۔ان کے عزیزواقارب انکی گمشدگی پر کیا کیا نہیں کرتے ہیں ایک الگ داستان ہے جس سے تحریری شکل دینے کے لئے بھی شیر کا جگر چاہئے۔ان میں اکثریت ان نوجوانوں کی ہے جن کا تعلق ریاست کے اکثریتی طبقے سے ہے ۔۰۹۹۱؁ سے لیکر اب تک ان لوگوں کے عزیزواقارب انھیں ڈھونڈ رہئے ہیں ۔جب بھی کسی نے ان سے بس اتنا کہہ دیا کہ میں نے چلتے چلتے سنا ہے کہ آپ کے بھائی ،بیٹا یا شوہر مغربی بنگال یا کرناٹک کے فلاں جیل میں ہیں تو یہ لوگ دوسرے ہی روزرخت سفر باندھ کر اُدھر کو روانہ ہو جاتے ہیں ۔اس کی ایک دو نہیں سینکڑوں اور ہزاروں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں ۔
    اپنے عزیزوں کی تلاش میں انھیں کیا کیا پاپڑ بھیلنے پڑے ہیں ،کس کس شہر کا سفر کرنا پڑا ہے ،کس کس نے اس مقصد سے ان بے بس اور بے سہاروں کو لوٹا ہے خود ہمارے معاشرے کے اندر چھپے ناسوروں کو ظاہر کر دیتاہے ۔مدد کے بجائے لوٹنا ،بے کسوں کی عزتوں پر حملہ کرنا انھیں مجبور و مقہور سمجھتے ہوئے ذلیل کرنا انتہائی ذلت آمیز داستان ہے ۔ریاستی اور مرکزی حکومتیں اس سلسلے مین اب تک خاموش ہیںنہ ہی انکی گرفتاری اور نہ ہی قتل کرنے کی تصدیق کی جاتی ہے حالانکہ کشمیر کا بچہ بچہ بخوبی جانتاہے کہ یہ دس ہزار لوگ صرف پولیس اور فوج کے ہاتھوں لاپتہ کر دئے گئے ہیں اور فورسز کے اعلیٰ افسران کو اچھی طرح یہ معلوم ہوگا کہ کس کو کیوں گرفتار کر کے کہاں رکھا یا قتل کردیا گیا ہے۔ اگر چہ آثاروقرائن بتا رہے ہیں کہ لاپتہ افراد میں سے کسی کا ابھی تک بچا رہنا مشکل ہے ۔اس حوالے سے ابھی تک کشمیر کی آزادی پسند قیادت نے بھی کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا ہے چند مقامی این جی اُوز اس حوالے سے حسب استطاعت کام تو کر رہی ہیں مگر وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ اس مسئلے کو دوسرے اشوز کے مقابلے میں عوامی حمایت نہ ملنا بھی ان کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے ۔کشمیر کی تحریک کا بہت بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ یہ تحریک ابھی تک انسچوشنلائزنہیں ہو سکی ہے جہاں ہر کام نظم ونسق کے ساتھ طے ہو تا اور ایک منظم جماعت اس سے منزل تک پہنچانے کے لئے ایک مقصد کے ساتھ جُڑی رہتی جس کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر سے جڑے دوسرے مسائل اس انداز میں سر نہ اُبھارتے۔
    لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کا احتجاج دوسرے احتجاجوں کی طرح حکومت کے لئے معمول بنا ہوا ہے حکومت کی عدم دلچسپی عیاں ہیں یہ ان کے انہی لاڈلوں کا کارنامہ ہے جو مکمل ڈھیل ملنے کے نتیجے میں اس قدر بے خوف ہو چکے ہیں کہ من مانیاں کرتے ہوئے صرف ترقیوں کے لئے انھوں نے دس ہزار افراد کو لاپتہ کردیا اور اس طرح ہزاروں گھر اُجڑ گئے۔شہید أکے اہل خانہ کو یک بارگی ناقابل برداشت تکلیف سے گذرنا پڑتا ہے اور لاپتہ افراد کے اہل وعیال کی یہ تکلیف روز بڑھتی جا رہی ہے جس کے مناظر سرینگر میں لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی احتجاجی پروگراموں کے دوران بار بار دیکھنے کو مل رہے ہیں۔حکومت کشمیر کا اس معاملے میں خاموش رہنا اس مسئلے کو اور بھی گھمبیر بناتا جا رہا ہے ایک طرف لاپتہ افراد کے پسماندگان اپنے عزیزوں کی راہ تک رہے ہیں تو دوسری طرف کشمیر میںاس طرف اجتماعی بے حسی ان لوگوں کو اور بھی غمزدہ کردیتی ہے۔حکومت سے کوئی امید ہی نہیں رکھی جاسکتی ہے مگر آزادی کے متوالوں کی اس حوالے سے خاموشی کا کیا مطلب لیا جا سکتا ہے سوائے اس کے کہ ان لوگوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہی نہیں ہے ۔اور جب قوم کی قیادت کا یہ حال ہو تو دوسروں سے کس طرح کی اُمید وابستہ کی جا سکتی ہے۔
    کشمیری قوم بلا شبہ ایک مظلوم قوم ہے اور ہمیں ایک مسئلے کا سامنا نہیں ہزاروں مسائل نے گھیر لیا ہے اور یہ صرف ایک مسئلہ کشمیر کی دین ہے اور مسئلہ کشمیر نیشنل کانفرنس کا اس مظلوم قوم کو دیا ہوا نا قابل فراموش تحفہ ہے۔ہمارے سامنے بہ یک وقت ہزاروں مسائل منہ کھولے کھڑے ہیں اور ان میں کوئی ایک بھی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس سے نظر انداز کیا جا سکتا ہے ۔ہماری لیڈر شپ کو ترجیحات مقرر کرنی چاہئے کہ کس مسئلے کو کس طرح ہینڈل کیا جانا چاہئے اگر چہ سید علی گیلانی کی فوجی انخلأ تحریک کو ہر طرح سے اولیت حاصل ہو نی چاہئے اس لئے کہ اسی کوکھ سے دوسرے مسائل جنم لیتے ہیں اور ہمیں بار بار نئی نئی الجھنوں سے واسطٔ پڑتا ہے ۔لاپتہ افراد کے مسئلے کو اگر ایک منظم طریقے اور خالص انسانی مسئلے کی حیثیت سے اُٹھایا جاتا تو دہلی والوں کو اس حوالے سے واضح بات کئے بغیرکوئی چارہ نہیں رہتا ۔دس ہزار لاپتہ افراد کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے بین الاقوامی فورموں پر یہ مسئلہ بھارت کو خاصا پریشان کر سکتا ہے اور انھیں لازماََ اس جرم میں ملوثین کو بے نقاب کرنا پڑتا اور نتیجے کے طور پر ایک دو نہیں کئی سر بستہ رازوں پر سے پردہ اُٹھ جاتا یہ کہ پولیس اور فوج نے کیوں اور کس کے کہنے پر دس ہزار افراد کو لا پتہ کردیا ؟کیا اس میں صرف کشمیر دشمنی کا عنصر شامل ہے کہ کچھ اور بھی ہے جس کی پردہ داری کی جارہی ہے اور میرا یقین ہے کہ خود بھارت کے اندر اس حوالے سے کئی مؤثر اور باوزن افراد اور اداروں کی جانب سے کافی تعاون مل جائے گا مگر اس کے لئے ضروری یہ ہے کہ ہم ان تک یہ آواز انتہائی قوت کے ساتھ پہنچا دیںاور انھیں پتہ چلے کہ کشمیر میں آنتک وادھ کے خاتمے کے نام پر کتنے لوگوں کونامعلوم جیلوں کی گمشدہ قبروں میں دفن کردیا گیا ۔اور اس کے نتیجے میں کتنے خاندان اُجڑ گئے اور کیا کشمیری ایسی صورت حال میں بھارتی جمہوریت کے ساتھ اپنے آپ کو ایڈجسٹ کر سکتے ہیں اور کیا ایسے گہرے زخم اور گھاؤ لگ جانے کے باوجود بھی بھارت کے حکمران کشمیریوں سے واپسی کی کوئی امید رکھتے ہیں ؟کیا انھوں نے اس کی کوئی صورت باقی چھوڑ رکھی ہے کہ کشمیری قوم آزادی کی مانگ اور تحریک سے دستبردار ہو جائیں گے۔
    مضمون نگار کی آراء سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    ایک جوب to “لاپتہ افراد اور ہماری بے حسی”

    1. muneeb says:

      i have read several writings of mht altaf nadvi at several sites but lot of at here .i am requesting the site master and the editor in chief that please be available all writings of all your writers here with out expirey.

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...