• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • جموں: اوقاف اراضی پر جبری قبضہ ،کارروائی کا فیصلہ

    سرینگر//اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ جموں میں سینکڑوں کنال اوقاف کی زمین پر وہاں کے کئی اثر و رسوخ والے افراد و دوسرے اداوں نے جبری قبضہ کیا ہوا ہے اور وہ احکامات کے باوجود بھی مذکورہ زمین سے قبضہ ہٹانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ اوقاف کی زمین کو جبری قبضے میں لینے والے لوگوں کے خلاف حکومت نے کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کیلئے پہلے اقدام کے طور ڈی سی آفس جموں کے نزدیک 4کنال اوقاف کی زمین پر قبضہ ہٹایا گیا ہے جس پر لوتھرا اکیڈیمی جموں نے سال 1987سے قبضہ کیا تھا ۔ جموں میں اوقاف اسلامی کی سینکڑوں کنال زمین پرجبری قبضے کو ہٹانے کیلئے کارروائی شروع کردی گئی تاہم اس کے باوجود بھی اثر و رسوخ کی بنیاد پر کئی افراد اور اداروں نے مذکورہ ادارے کی زمین پر اپنا قبضہ جاری رکھا ہوا ہے اور یہ قبضہ گذشتہ کئی سالوں سے جاری ہے ۔ اس سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ عدالتی احکامات کے باجوود بھی ایسے افراد مذکورہ زمین پر قبضہ نہیں ہٹارہے ہیں جس پر اوقاف اسلامیہ کے عہدیداروں نے تشویش ظاہر کی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق ڈی سی آفس جموںکے سامنے اوقاف کی 4کنال پر مشتمل زمین پر 20کمروں پر مشتمل ایک بلڈنگ پر سال 1987سے لوتھرا اکیڈیمی جموں نے قبضہ کیا ہوا تھا اور اس قبضے کو ہٹانے کیلئے ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے مذکورہ اکیڈیمی کیلئے گاندھی نگرمیں دو کنال زمین بھی الاٹ کی تھی تاہم اس کے باوجود بھی مذکورہ اکیڈیمی والوں نے اوقاف کی زمین سے قبضہ نہیں چھڑایا۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ اتوار کو اوقاف اسلامیہ کے منتظمین نے پولیس کی ایک بھاری جمعیت کے ہمراہ اس عمارت پر جبری قبضہ ہٹایا اور اس طرح سے 28سالوں کے بعد اوقاف نے اپنی عمارت واپس اپنی تحویل میں لے لی ۔ اس کارروائی میں اوقاف اسلامیہ جموں کے ایڈمنسٹریٹر اور اوقاف کے سپیشل آفیسر رفیق احمد ڈار بھی شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق جموں شہر کے کئی علاقوں میں اوقاف کی سینکڑوںکنال زمین اور دوسری عمارتوں پرجموں کے کئی با اثر افراد نے کئی سالوں سے قبضہ جمایا ہوا ہے اور وہ قبضہ ہٹانے کیلئے تیار نہیں ہیں تاہم حکومت نے اب اس قبضے کو ہٹانے کیلئے کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ جس کے لئے اوقاف اسلامیہ جموں کے ذمہ داروں کو خصوصی ہدایتیں دی گئی ہیں۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ حج ہاؤس جموں کے سامنے اوقاف اسلامیہ کے ایک زمین پلاٹ پر جموں کے ایک شخص نے غیر قانونی طور کئی سالوں سے قبضہ کیا تھا اور اس پر اپنے ایک دفتر و سڑک تعمیر کی تھی تاہم اوقاف والو ں نے پولیس کی مدد سے وہاں سے قبضہ ہٹایا اور مذکورہ زمین پر کھیل کا ایک میدان تعمیر کر لیا گیا ہے ۔ جموں سے ملی تفصیلات کے مطابق جموں شہر کے مختلف علاقوں میں اوقاف کی ہزاروں کنال زمین ہے اور اس پر اوقاف نے کئی عمارتیں بھی تعمیر کرائی ہیں تاہم بیشتر زمین اور عمارتوں پر جموں کے ایسے افراد جن کا تعلق کئی سیاسی جماعتوں سے ہیں اور وہ کاروبار کررہے ہیں نے جبری قبضہ کیا ہوا ہے اور وہ اس قبضے کو ہٹانے تک کانام نہیں لے رہے ہیں جبکہ اس کیلئے عدالت عالیہ نے بھی احکامات دیے تھے ۔ تاہم اس کے باجوود بھی ایسے قبضے نہیں ہٹائے جارہے ہیں اور یہ سب کچھ اثر رسوخ کی بنا پر ہورہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اوقاف کی زمین اور اس زمین پر تعمیر کی گئی عمارتوں میں کئی افراد اور ایجنسیوں نے اپنے دفتر قائم کرائے ہیں جس کی وجہ سے اس اوقاف اسلامیہ کے منتظمین خاصے پریشان ہیں اور وہ اس کیلئے موجود ہ سرکار سے بھی رجوع کررہے ہیں کہ اوقاف کی جتنی بھی زمین جموں شہر میں ہے اور اس زمین پر جتنی بھی عمارتیں ہیں ان پر سے فوری طور قبضہ ہٹایا جایے تاکہ اوقاف اسلامیہ اس تمام زمین رقبے و عمارتوں کو اپنی تحویل میں دے ۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے اب اس کیلئے اوقاف اسلامیہ کو ضروری ہدایتیں دی ہیں جس کے بعد ہی اوقاف اسلامیہ نے کارروائی شروع کی ہے ۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...