• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • بارہمولہ میںہڑتال اور پرتشدد مظاہرے

    File photo

    شوپیان ایجی ٹیشن میں زخمی ہونے والا مزدورچل بسا، لوگوں میں غم و غصہ

    0سرینگر// شمالی قصبہ بارہمولہ آج اُس وقت ایک بار پھر اُبل پڑا جب جون 2009میں شوپیان سانحہ کے خلاف ایجی ٹیشن کے دوران ربڑ کی گولی سے زخمی ہوکرمعذور ہونے والا7سالہ غریب مزدورماہ تک موت کے ساتھ لڑنے کے بعد زندگی کی جنگ ہار گیا۔ واقعہ کے خلاف قصبہ میں زبردست احتجاجی مظاہروں اور مکمل ہڑتال کے دوران مظاہرین اور پولیس نے درمیان پر تشدد جھڑپوں کا سلسلہ دن بھر جاری رہا ۔ادھر سوپور میں سوموار کی شب پولیس فائرنگ میںافرادکے زخمی ہونے کے بعد سخت ترین ناکہ بندی کے باوجود تشدد پر آمادہ نوجوانوں کو تتر بتر کرنے کے لئے پولیس کو ٹیر گیس شیلنگ کرنی پڑی۔بارہمولہ کے اولڈ ٹائون میںآج صبح یہ خبرجنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی کہ منظور احمد بٹ ولد غلام نبی ساکن بٹ محلہ درنگہ بل بارہمولہ دوران شب اپنے گھر میں دم توڑ بیٹھا۔ اسی اثناء میں درنگہ بل کی مقامی مسجد کے لائوڈ اسپیکرسے مذکورہ جواں سال مزدورکے نماز جنازہ کا اعلان ہوتے ہی قصبے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہوا ،لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے گھروں سے باہر سڑکوں پر آگئی اور درنگہ بل کا رُخ کیا۔منظور احمدجون009میں سانحہ شوپیان کے خلاف احتجاجی لہر کے دوران حریت کانفرنس(گ) کی ’’بارہمولہ چلو‘‘ کال کے دوران زخمی ہوگیا تھا۔منظور احمد کے بڑے بھائی مشتاق احمد نے کہا کہ 37سالہ منظور احمد کی شادی قریبسال قبل ہوئی تھی تاہم ابھی تک اسکی کوئی اولاد نہیں تھی۔’’وہ خانپورہ بارہمولہ میں پتھر کی کان میں مزدوری کرتا تھا اور 19جون کی شام کام ختم کرنے کے بعد معمول کے مطابق گھر کی طرف نکلا تھا اوراس دوران قصبہ میں ہر طرف مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں‘‘۔مشتاق احمد کے مطابق منظور نے گھر پہنچنے کے لئے پہلے ایس آر ٹی سی پل سے دریائے جہلم پار کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہاں شدید جھڑپیں ہورہی تھیں جس کے بعد مرحوم منظور سیمنٹ پُل پار کررہا تھاکہ اس دوران وہاں بھی پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے آئے ۔اسی اثناء میں پولیس نے مظاہرین کو تتر بتر کرنے کے لئے اشک آور گیس کے گولے داغے اور ربڑ کی درجنوں گولیاں چلائیں۔مشتاق احمد نے بتایا کہ ربڑ کی ایک گولی منظور احمد کی کمر پر جالگی تھی اور اسے مقامی لوگوں نے پہلے ضلع اسپتال میں داخل کیا اور وہاں سے اسے تشویشناک حالت میں صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ منتقل کیا گیا۔ڈاکٹروں نے منظور احمد کی ابتدائی طبی جانچ کے بعد یہ نتیجہ اخذکیا تھا کہ اس کا ’’سپائینل کارڈ‘‘مکمل طور پر متاثر ہوچکا تھا اور یہ کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے معذور ہوگیا ہے اپنی ٹانگوں پر دوبارہ کھڑا نہیں ہوسکتا۔مشتاق احمد نے اشکبار آنکھوں سے اپنے بھائی کو یاد کرتے ہوئے کہا’’وہ اڑھائی مہینے تک صورہ اسپتال میں زیر علاج رہا لیکن بعد میں ڈاکٹروں کے مشورے پر ہم اسے گھر لے آئے‘‘۔انہوں نے مزید کہا ’’وہ مزدوری کرتا تھا اور اچانک اس طرح معذور ہونے پر انتہائی رنجیدہ تھا‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ تب سے منظور احمد اپنے گھر میں بستر پر لیٹا ہوا تھا اور ہر طرح کی ادویات دی جارہی تھیں لیکن مسلسل سات ماہ تک موت سے لڑنے کے بعد 18اور9جنوری کی درمیانی رات کے ساڑھے بارہ بجے اس نے ا چانک دم توڑ بیٹھا۔ذرائع کے مطابق منظور احمد کی موت کی خبر پھیلتے ہی ہزراوں کی تعداد میں لوگ درنگہ بل پہنچے جہاںہر طرف ماتم کا ماحول تھا اور خواتین سینہ پیٹ پیٹ کر رو رہی تھیں۔اس دوران اگر چہ کسی کسی جگہ دکانیں کھلنا شروع ہوئی تھیں تاہم مساجد سے اعلان ہونے کے بعدپورے قصبے میں آنا ً فاناً سناٹا چھا گیا،دکانیں اور تمام کاروباری مرکز مکمل طور بند رہے اور گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہونے کی وجہ سے سڑکیں سنسان نظر آئیں،یہاں تک کہ سول لائنز کے بازاروں میں مکمل خاموشی چھا گئی ۔اس صورتحال کے پیش نظر قصبہ میں انتہائی پرتنائوحالات پیدا ہوگئے اور حکام نے احتجاجی مظاہروں کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے سول لائنز ایریا میں پولیس کی بھاری تعداد کو سڑکوں اور خالی بازاروں میں تعینات کردیا۔اس دوران منطور احمد کے آبائی گھر سے اس کی میت کوایک بڑے جلوس کی صورت میں ایس آر ٹی سی پُل ،اوقاف مارکیٹ،مین چوک اور سیمنٹ پُل سے ہوتے ہوئے عید گاہ قدیم میں واقع مزار شہداء پہنچایا گیا۔ مظاہرین نے اسلام اور آزادی کے حق میں زوردارنعرے بازی کی جبکہ سومو گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بھی جلوس کے ساتھ تھی۔عیدگاہ میں منظور احمد کی نماز جنازہ میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور بعد میں اسے پر نم آنکھوں سے مزار شہداء میں سپرد خاک کیا گیا۔ اسی اثناء میں نوجوانوں کی ٹولیاں مظفر آباد شاہراہ پر جدید لنک روڑ ،تحصیل پوائنٹ ،اوقاف مارکیٹ،فاروقی پوائنٹ،نانک بھون اور باٹا گلی کے نزدیک نمودار ہوئیں اور انہوں نے احتجاجی مظاہرے شروع کئے۔پولیس کی طرف سے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کارروائی سے نوجوان مشتعل ہوئے اور انہوں نے پولیس پر بیک وقت کئی مقامات پر شدیدپتھرائو کیا۔جواب میں پولیس نے بھی کارروائی عمل میں لائی اور پتھرائو کر رہے نوجوانوں کو تتر بتر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا ۔جب سنگباری کے واقعات میں شدت پیدا ہوئی تو پولیس نے آنسوں گےس کے گولے پھینکنے شروع کئے جس کی گن گرج سے پورا قصبہ دہل اٹھا۔اس موقعہ پر پولیس نے نوجوانوں کا تعاقب کرتے ہوئےافراد کی گرفتاری بھی عمل میں لائی۔بعد میں جھڑپوں کا یہ سلسلہ مین چوک ،سیمنٹ پل اور پرانے پل تک پھیل گےا جو وقفے وقفے سے دن بھر جاری رہا ۔قصبے میں امن و قانون کو بر قرار رکھنے کیلئے پولیس کے سینکڑوں اہلکار تعےنات کئے
    گئے ہیں ۔ادھر سوپور میں سوموار کی شام 5بجے عشہ پیربٹہ پورہ کے نزدیک مظاہرین پر پولیس کارروائی کے دوران 6افراد کے زخمی ہونے کے بعد امتناعی احکامات نافذ کئے گئے تھے ۔قصبہ میں آج صبح اگر چہ اِکا دُکا جگہوں پر دکانیں کھلنا شروع ہوئی تھےں تاہم اسی دوران نوجوان احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور پولیس پر پتھرائو کیا جس کے نتےجے میں دکانیں دوبارہ بند ہوئیں اور مسلسل پانچویں روز مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔اسی اثناء میں قصبہ میں بارہمولہ کے جواں سال مزدور کی ہلاکت کی خبر پہنچتے ہی مشتعل نوجوانوں کی ٹولیاںمین چوک ،حجام محلہ ،چھانہ کھن اور آس پاس کے علاقوں میں سڑکوں پر نمودار ہوئیں اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرے لگائے ۔اس موقعہ پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کے ساتھ ساتھ اشک آور گےس کے گولے بھی داغے ۔قصبہ میں گذشتہ دنوں کے مقابلے میں صورتحال قدرے پر امن رہی تاہم افراتفری اور کشیدگی کا ماحول بر قرار رہا۔سوپور قصبہ کے اطراف و اکناف میں آج بھی پولیس ،سی آر پی ایف اور فوج کے متعدد دستے گشت کرتے نظر آئے ۔محمد احسن اونتونے پولیس کاروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سوپور میں پولیس کے خلا ف احتجاج کریں گے ۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...